حکومت کی جانب لکھے گئے خط کی کیا اہمیت ہے؟ برطانیہ نواز شریف کو ڈی پورٹ کر سکتا ہے، حکومت کے خط کے بعد اگر نواز شریف کو ملک سے نکالا جاتا ہے تو کیا کیا جائے گا ؟ تہلکہ خیز انکشافات

  بدھ‬‮ 4 مارچ‬‮ 2020  |  15:25

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قانونی ماہرین نے کہا ہے کہ نواز شریف کی واپسی کیلئے برطانوی عدالت جائزہ لے گی اس عمل پیچھے کوئی سیاسی مقاصد تو نہیں ، معاملہ طویل ہو سکتا ہے ۔ نجی ٹی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے برطانوی قانون کے ماہر بیرسٹر معین خان نے کہا ہے کہ حکومت کو خط لکھنے سے کوئی نہیں روک سکتا ، بنیادقانونی سوال یہ کہ نواز شریف جب برطانیہ گئے تھے تو کیا اس کےپس منظر پاکستان اور برطانیہ کے مابین کوئی معاہدہ ہو تھا ؟ اس کا جواب نفی میں ہے ، انہوں نے کہا کہ کیا ایسی صورتحال کے حوالے


سے پاکستان اور برطانیہ میں کوئی عام معاہدہ موجود ہے ؟ اس کا جواب بھی نفی میں ہے ۔ اگر کوئی معاہدہ موجود نہیں تو نارمل حالات میں پھر کیا ہو گا ؟ پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر نواز شریف کو ڈی پورٹ کرانا چاہتے تو یہ برطانیہ کا داخلی معاملے اور اس ضمن میں برطانوی قوانین لاگو ہوں گے ، نواز شریف بیدخلی کے آرڈر کو چیلنج کر سکتے ہیں اور اپنے خلا فیصلہ آنے پر ایپل بھی کر سکتے ہیں ۔ اگر پاکستان کی حکومت چاہتی ہے کہ نواز شریف کو واپس لایا جاتا تو وہ انٹر پول کا استعمال کرنا چاہیے تو سب سے پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ یہ فیصلہ عدالت کی طرف سے آیا کہ نواز شریف کو پاکستان واپس بھیجا جائے ،یہ ایک اہم قانونی نکتہ ہو گا اس کے بعد انٹر پول کو ریڈ وارنٹ کی درخواست کریں گے ۔ انٹر پول کا اپنا ٹیسٹ ہے وہ دیکھیں کہ کیا اس پیچھے کوئی سیاسی عوامل تو نہیں ہیں ؟اگر انٹر پول مطمئن ہو جائے تو وہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کو نواز شریف کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست کرے گا ۔ اس حوالے سے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ن لیگی رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ نواز شریف عمران خان سے این آر او لے کر بیرون ملک نہیں گئے بلکہ انہیں عدالت نے ریلیف دیا ، حکومت کے خط کی کوئی اہمیت نہیں ۔بلاول بھٹو اور حکومت کی اطلاع کیلئے نواز شریف عدالتی حکم پر باہر گئے ہیں ۔ پروگرام میں موجود برطانوی قانون کے ماہر بیرسٹر راشد اسلم نے کہا ہے کہ قانون کے مطابق برطانوی حکومت مقامی عدالت سے رجوع کرے گی ، جج کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کا جائز ہ لے کہ اس کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد تو نہیں ہیں ، اگر اس شخص کو ڈی پورٹ کیا جاتا ہے تو اس کی جان کو خطرہ تو نہیں ہو گا۔برطانوی عدالتوں کیلئے ایک مختلف بات ہو گی کہ ایک شخص جس کو سزا ہوئی اسے ضمانت پر چھوڑ دیا گیا ۔ حکومت پاکستان کو ثابت کرنا ہو گا کہ تمام قانونی تقاضے پوری کیے گئے ہیں ۔ جبکہ سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا کہا پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ نواز شریف کو ڈی پورٹ کر سکتا ہے ۔ بین الاقوامی معاہدوں میں کوئی پابندی نہیں ہوتی کہ ہر صورت اس پر عمل درآمد ہو گا ۔یہ ایک ملک کا دوسرے ملک کیلئے احترام ہوتا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کیساتھ کیے گئے معاہدے کے کاربند ہیں ۔ نجی ٹی وی پروگرام میں موجود برطانوی قانون دان بیرسٹر عائشہ کا بھی کہنا تھا کہ میرا نہیں خیال کے پاکستانی حکومت کے خط کی یہاں کوئی قانونی حیثیت ہو گی ۔ اس کی کوئی وجوہات ہیں ۔ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ نواز شریف کا جرم برطانیہ اور پاکستان کے درمیان معاہدے کے دائرے کار یا زمرے میں نہیں آتا۔ دوسری بات یہ نواز شریف کے خلاف بننے والے مقدمات کے پیچھے سیاسی انتقام کا عنصر مومود ہے ، اس لیے برطانیہ خود کو اس معاملے سے دور رکھے گا ۔


موضوعات: