پختونوں کے گھر پہلے دہشتگردی کے نام پر برباد کردیے گئے اور پھر فوجی آپریشنز میں پختونوں کے گھر بار اُجاڑ دیے گئے،دہشت گرد پھر متحرک ہو رہے ہیں، اسفندیار ولی کا دھماکہ خیز دعویٰ

  ہفتہ‬‮ 15 فروری‬‮ 2020  |  0:08

پشاور(آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ صوبہ بھر میں دہشتگرد ایک بار پھر متحرک ہورہے ہیں،دیر میں طالبان کی ریلی حیران کن اور خوفناک ہے،پختونوں کے گھر پہلے دہشتگردی کے نام پر برباد کردیے گئے اور پھر فوجی آپریشنز میں پختونوں کے گھر بار اُجاڑ دیے گئے،لیکن پھر بھی پچا س لاکھ گھروں کے منصوبے کا آغاز شیخوپورہ اور پنجاب کے دیگر علاقوں سے ہورہا ہے۔پختونوں کو درپیش انہی مسائل کے حل اور مشترکہ لائحہ عمل کیلئے پختونوں کا قومی جرگہ منعقد کررہے ہیں جس کا مقصد پختونوں کو مشترکہ نکات پر


متفق کرنا اور جدوجہد کرنا ہے۔سعودی عرب کے شہر الریاض میں باچا خان اور ولی خان کی برسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ آج پختون قوم تاریخ کی نازک موڑ پر کھڑی ہے،اگر آج بھی پختون قائدین اور قوم چند نکات پر متفق نہ ہوسکی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریگی،اے این پی کوشش ہے کہ پختونوں کا ہر طبقہ ایک ہوجائے اور یہی وجہ ہے کہ پختون قومی جرگہ سے پہلے نئے ضم شدہ اضلاع کا جرگہ اور خواتین کا ورکرز کنونشن منعقد کررہے ہیں،تاکہ پختون قومی جرگہ میں اُن خواتین اور نئے ضم شدہ اضلاع کے معززین کے آراء کو بھی شامل کیا جائے۔اسفندیار ولی خان نے کہا کہ آج بھی بہت سی قوتیں اٹھارویں آئینی ترمیم میں ردوبدل کی خواہش مند ہیں،اُن قوتوں کو اتنا بتا دوں کہ ملک کے وجود کے ساتھ اُن کو نہین کھیلنا چاہیے اگر اٹھارویں آئینی ترمیم میں چھیڑ چھاڑ کی گئی تو یہ پاکستان کے وجود کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہوگی،اسفندیار ولی خان نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ زرداری حکومت کے بعد ملک میں این ایف سی ایوارڈ کا اجراء نہیں کیا گیا،جس کی ایک ہی وجہ ہے کہ وفاق کو ڈر ہے کہ نئے این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں اور بلخصوص پختونخوا کا حصہ بڑھ جائیگا،جس کی وجہ سے وفاق نئے این ایف سی ایوارڈ کے اجراء سے کترا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ نئے این ایف سی ایوارڈ کے اجراء سے پختونخوا کا حصہ 13 فیصد سے بڑھ کر 32فیصد ہوجائیگا جو کسی طور پر بھی طاقتور حلقے برداشت نہیں کرسکتے۔اسفندیار ولی خان نے ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کپتان کے پاس ماسوائے ایک نعرے کے کچھ بھی نہیں ہے،یہی وجہ ہے کہ آج ملکی معیشت آخری سسکیاں لے رہا ہے۔ ملک میں اس وقت صرف ایک ہی نعرہ گردش کررہا ہے کہ کرپٹ لوگوں کو نہیں چھوڑا گا،دوسروں پر کرپشن کے الزامات لگانے والے سے صرف اتنا کہوں گا کہ پہلے وہ اپنی بہن کے سلائی مشین کا حساب کتاب دے دیں اُس کے بعد دوسروں کو الزامات عائد کیا کریں،انہوں نے کپتان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ جس طریقے سے دوسرے سیاسی قائدین کے بہنوں اور بیٹیوں کو عدالتوں میں گھسیٹ رہا ہے،صرف اتنا یاد رکھیں کہ کل کو اُس کی بہن اسی طرح عدالتوں کے چکر لگایا کریگی،انہوں نے چئیرمین نیب کے کردار پر بھی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چئیرمین نیب کی ایک ہی ڈیوٹی لگائی گئی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کو بچا کر رکھیں اور باقی اپوزیشن جماعتوں کی پگڑیاں اچھالیں،جسٹس جاوید اقبال کو بی آر ٹی،بلین ٹری اور مالم جبہ سکینڈلز میں کرپشن نظر نہیں آتی،یہ منصوبے ہیں جو خود چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ہاں پی ٹی آئی کے وزراء نے ہمارے ذریعے کرپشن کی ہے۔اسفندیار ولی خان نے اپنے خطاب میں باچا خان اور ولی خان کی سیاسی جدوجہد پر روشنی بھی ڈالی اور آخر میں اے این پی سعودی عرب کے تنظیم کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اتنے شاندار پروگرام کا انعقاد کیا۔

موضوعات: