منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

آسمان سرخ ہو گیا، دنیا کے لیے وارننگ

datetime 28  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) لداخ کے علاقے میں واقع گاؤں ہانلے عام طور پر اپنے گہرے نیلے اور پُرسکون آسمان کی وجہ سے جانا جاتا ہے، جہاں دور دراز کہکشاؤں کی مدھم چمک ہی دکھائی دیتی ہے۔ تاہم 19 اور 20 جنوری کی رات یہ خاموش منظر اچانک ایک غیر معمولی سرخی مائل روشنی سے جگمگا اٹھا۔

چین اور بھارت کے درمیان متنازع خطے لداخ میں آسمان پر نمودار ہونے والی یہ سرخ روشنیوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جو دیکھنے والوں کو حیرت میں مبتلا کر رہی ہیں۔ بظاہر دلکش نظر آنے والا یہ منظر دراصل ایک سائنسی عمل کی عکاسی کرتا ہے، نہ کہ محض قدرتی حسن کی۔

ماہرین کے مطابق یہ سرخ ارورا سورج کی غیر معمولی سرگرمی کا نتیجہ ہے۔ لداخ اور اس کے آس پاس دکھائی دینے والی یہ روشنی ایک انتہائی طاقتور شمسی طوفان کے باعث پیدا ہوئی، جو 2003 کے بعد سب سے شدید طوفان قرار دیا جا رہا ہے۔

18 جنوری کو سورج سے ایک طاقتور ایکس کلاس فلیئر خارج ہوا، جس کے نتیجے میں مقناطیسی گیسوں اور توانائی سے بھرپور بادل خلا میں پھیل گیا، جسے کورونل ماس ایجیکشن کہا جاتا ہے۔ یہ پلازما بادل تقریباً 1700 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین کی جانب بڑھا اور محض 25 گھنٹوں میں ہماری فضا تک پہنچ گیا۔

جب یہ توانائی سے بھرے ذرات زمین کے مقناطیسی حصار سے ٹکراتے ہیں تو G4 درجے کا جیو میگنیٹک طوفان جنم لیتا ہے۔ اس عمل کے دوران فضا میں موجود آکسیجن کے ذرات متحرک ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں سرخ رنگ کی روشنی نمودار ہوتی ہے۔

ایسے شدید جیو میگنیٹک طوفان بجلی کی ترسیل میں رکاوٹ، سیٹلائٹس کے نظام میں خرابی، جی پی ایس اور بینکاری نیٹ ورکس میں خلل کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود خلا بازوں کو بھی حفاظتی اقدامات اختیار کرنا پڑتے ہیں۔

لداخ جیسے درمیانی عرض البلد کے علاقوں میں عموماً اس روشنی کا بالائی حصہ دکھائی دیتا ہے، اسی لیے یہاں سبز کے بجائے سرخ رنگ غالب نظر آتا ہے، جو عام طور پر قطبی علاقوں میں دیکھا جاتا ہے۔

اس حالیہ شمسی سرگرمی کے دوران S4 درجے کا شدید شمسی تابکاری طوفان بھی ریکارڈ کیا گیا، جس میں توانائی سے بھرپور پروٹون زمین کی سمت بڑھے۔ ناسا کے مطابق ایسے طوفان زمین کے مقناطیسی دفاعی حصار پر شدید دباؤ ڈالتے ہیں، جس کے باعث بعض اوقات سیٹلائٹس براہِ راست سورج کی تیز ہواؤں کی زد میں آ جاتے ہیں۔

اگرچہ یہ روشنیوں سے بھرپور مناظر آنکھوں کو خیرہ کر دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ جدید مواصلاتی نظام، پاور گرڈ اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

ان خدشات کے پیش نظر ماہرین زمین پر جیو میگنیٹک کرنٹس کی نگرانی کے لیے جدید سینسرز استعمال کر رہے ہیں تاکہ ممکنہ نقصانات سے بروقت نمٹا جا سکے۔ تاہم بڑھتی ہوئی سیاحت کے باعث روشنی کی آلودگی بھی ایک چیلنج بنتی جا رہی ہے، جو فلکی مشاہدات کی حساسیت کو متاثر کر سکتی ہے۔

یہ سرخی مائل آسمان محض ایک دل فریب منظر نہیں بلکہ اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ سورج کی بیدار ہوتی سرگرمیاں ہماری جدید الیکٹرانک دنیا کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…