جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

مصر کے اہرام کیسے تعمیر ہوئے؟سائنسدان راز جاننے میں کامیاب

datetime 27  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) مصر کے تاریخی اہرام صدیوں سے دنیا بھر کے لوگوں کے لیے تجسس کا باعث بنے ہوئے ہیں اور ان سے جڑے کئی راز آج بھی پوری طرح سامنے نہیں آ سکے۔ ان اہرام میں گیزہ کا عظیم ہرم، جسے ہرمِ خوفو بھی کہا جاتا ہے، سب سے زیادہ نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی تعمیر کو ساڑھے چار ہزار برس سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، مگر اس کے متعلق تحقیق کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔طویل عرصے تک سائنسدانوں کے لیے یہ سوال ایک پہیلی بنا رہا کہ قدیم مصریوں نے اتنے بھاری پتھروں کی مدد سے اتنی عظیم الشان عمارت کس طرح کھڑی کی۔

اب ایک نئی تحقیق میں اس معمہ کا ممکنہ حل پیش کیا گیا ہے۔قدیم تحریری ریکارڈ میں کہیں یہ وضاحت موجود نہیں کہ ہزاروں ٹن وزنی پتھروں کو کس طرح بلند مقامات تک پہنچایا گیا اور صرف بیس برس کے اندر اس شاندار ہرم کی تعمیر کیسے مکمل ہوئی۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا رہا ہے کہ تعمیر کے لیے ریمپس یا ڈھلوانوں کا سہارا لیا گیا، تاہم یہ نظریہ اس بات کی وضاحت نہیں کر پاتا کہ 60 ٹن تک وزنی پتھروں کو سینکڑوں فٹ اونچائی تک کیسے لے جایا گیا۔حالیہ تحقیق کے مطابق گیزہ کا عظیم ہرم ممکنہ طور پر ایک مخصوص پلی نما نظام کے ذریعے تعمیر کیا گیا، جو عمارت کے اندرونی حصے میں چھپا ہوا تھا۔ معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مزدور نہایت تیزی سے بڑے پتھروں کو اوپر پہنچانے میں کامیاب تھے، بعض مواقع پر ایک منٹ کے اندر ایک بلاک نصب کیا گیا۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ رفتار روایتی طریقوں، جیسے رسّیوں کے ذریعے پتھر کھینچنے، سے ممکن نہیں تھی۔ ماہرین کے مطابق ہرم کے اندر موجود ڈھلوانیں اور ساخت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ کاؤنٹر ویٹ یا توازن پر مبنی نظام استعمال کیا گیا ہوگا، جس سے بھاری پتھروں کو اوپر منتقل کرنا آسان ہو جاتا تھا۔اگر یہ نظریہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس سے یہ امکان سامنے آتا ہے کہ ہرم کی تعمیر بیرونی ریمپس کے بجائے اندرونی نظام کے تحت کی گئی اور خفیہ پلی سسٹمز کے ذریعے پتھروں کو اوپر اٹھایا جاتا رہا۔

اس سے قبل مئی 2024 میں شائع ہونے والی ایک اور تحقیق میں ماہرین نے دریائے نیل کی ایک قدیم شاخ دریافت کی تھی، جو ہزاروں سال پہلے صحرا کے نیچے بہتی تھی۔ یہ شاخ کبھی گیزہ کے عظیم ہرم سمیت 30 سے زائد اہرام کے قریب سے گزرتی تھی۔اس دریافت سے یہ وضاحت ملتی ہے کہ قدیم مصری بھاری پتھروں کو تعمیراتی مقامات تک کیسے منتقل کرتے تھے۔ تقریباً 40 میل طویل یہ دریا وقت گزرنے کے ساتھ ریت اور زرعی زمین کے نیچے دب گیا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ 4700 سے 3700 سال قبل اسی دریا کی موجودگی کے باعث اس وادی میں 31 اہرام تعمیر کیے گئے، جو آج ایک سنسان صحرائی خطہ بن چکی ہے۔ یہ علاقہ مصر کے قدیم دارالحکومت ممفس کے قریب واقع ہے، جہاں گیزہ کا عظیم ہرم بھی موجود ہے، جو دنیا کے سات قدیم عجائبات میں واحد ایسا عجوبہ ہے جو آج بھی قائم ہے۔نیچر کمیونیکیشنز میں شائع تحقیق کے مطابق اس پوشیدہ دریا کو ریڈار سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے دریافت کیا گیا، جبکہ زمینی سرویز اور نمونوں کے تجزیے سے اس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔محققین کا کہنا ہے کہ ماضی میں یہ دریا خاصا طاقتور رہا ہوگا، تاہم ممکنہ طور پر تقریباً 4200 سال قبل قحط سالی کے باعث یہ آہستہ آہستہ ریت میں دفن ہونا شروع ہوگیا۔ گیزہ کا عظیم ہرم اس قدیم دریا کے کنارے سے صرف ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ماہرین کے مطابق ہرم کی تعمیر میں تقریباً 23 لاکھ پتھر استعمال کیے گئے، جن میں ہر ایک کا وزن ڈھائی سے 15 ٹن کے درمیان تھا۔ تحقیق سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ دریائے نیل کے بہاؤ میں تبدیلی کے باعث مصری بادشاہوں نے مختلف ادوار میں مختلف مقامات پر اہرام تعمیر کیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…