پولیس کے ناروا رویے کے خلاف حکومت اور اپوزیشن ایک ہو گئے، سپیکر نے حیران کن فیصلہ سنا دیا

  پیر‬‮ 27 جنوری‬‮ 2020  |  22:15

لاہور(این این آئی)پنجاب پولیس کے ناروا رویے کے خلاف حکومت اور اپوزیشن ایک ہو گئے، ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمد مزاری کی جانب سے پولیس کیخلاف جمع کرائی گئی تحریک استحقاق پر سپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے ایوان کی کارروائی معطل اور اپنی سربراہی میں چار رکنی پارلیمانی کمیٹی قائم کرکے آئی جی پنجا ب شعیب دستگیر کو ایک گھنٹے میں اسمبلی طلب کرلیا،تاہم ان کی عدم دستیابی پر ایڈیشنل آئی جی انعام غنی پیش ہوئے جنہیں ایوان کے تحفظات سے آگاہ کرکے منگل کے روز آئی جی پنجاب کو ڈیڑھ بجے طلب کرلیا گیاجبکہ سپیکر نے کہا ہے کہ


جب تک اس کا فیصلہ نہیں ہوتا ایوان کی کارروائی رکی رہے گی۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ 32 منٹ کی تاخیر سے سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کی صدارت میں شروع ہوا۔اجلاس کے آغاز پر ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری نے ایوان میں پولیس کے ناروا رویے کے خلاف تحریک استحقاق پیش کی اور کہا کہ اتوار کے روز وزیراعلی ہاؤس کے دروازے پر پہنچا تو پولیس نے مجھے روک لیا اور کہا کہ آپ کے ساتھ سٹاف کا بندہ اندر نہیں جا سکتا، میں نے پولیس اہلکاروں کو بتایا کہ میرے ساتھ آنے والا شخص غیر مسلح ہے اس لئے اسے میرے ساتھ جانے دیں لیکن پولیس اہلکاروں نے صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں پنجاب اسمبلی کا کسٹوڈین ہوں اگر میرے ساتھ پولیس کا یہ رویہ ہے تو عام آدمی کے ساتھ کیا ہوتا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی شروع سے پالیسی تھی کہ پولیس کو عوام دوست بنائیں گے لیکن یہ کوشش رائیگاں جا رہی ہے۔ڈپٹی اسپیکر کی تحریک استحقاق پر حکومت اور اپوزیشن دونوں نے آئی جی پنجاب کو فوری اسمبلی طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔ سابق اسپیکر رانا محمد اقبال نے کہا کہ سپیکرپنجاب اسمبلی اس واقعہ کا فوری نوٹس لیں،اپوزیشن رکن سیف الملوک کھوکھر نے کہا کہ چالیس پولیس اہلکاروں نے مجھے تشدد کا نشانہ بنایا،جب مجھ پر تشدد کیا گیا تب اس ایوان نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ رانا مشہود نے کہاکہ اگر ڈپٹی اسپیکر پولیس کے ناروا رویے سے محفوظ نہیں تو پھر کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا،فوری طور پرآئی جی کو طلب کرکے آج ہی فیصلہ کریں۔ وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ آئی جی کو ایوان میں طلب کیا جائے کیونکہ یہ ایوان کے وقار کا معاملہ ہے۔ وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری نے کہا کہ ایسا فیصلہ کیا جائے کہ آئندہ کسی کو ایسی جرات نہ ہو اور اس واقعہ کو مثال بنایا جائے۔چیئرمین استحقاق کمیٹی چوہدری اختر علی نے کہا کہ پولیس کسی کی نہیں سنتی اس معاملے پر سخت ایکشن لیا جانا چاہیے۔ تیمور لالی نے کہا کہ اگر ہاؤس کے کسٹوڈین کے ساتھ ایسا واقعہ ہوتا ہے تو قابل مذمت ہے اس پر سخت ایکشن لیا جائے۔سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر کے ساتھ پولیس کے ناروا رویے کا واقعہ قابل مذمت اور قابل افسوس ہے۔غلام حیدر وائیں نے ہاؤس کی شکایت پر آئی جی پنجاب کو صوبہ بدر کروا دیا تھا،پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بھی اراکین اسمبلی سے بدتمیزی پر سخت ایکشن لیا گیا،ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی سے وزیراعلی ہاؤس میں ہونے والی بدتمیزی کے واقعہ کو مثال بنایا جائے گا۔ وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا کہ یہ بہت افسوسناک واقعہ ہے، ذاتی طور پر ہاؤس سے معزرت کرتا ہوں، کمیٹی بنائیں یا ذاتی طور پہ فیصلہ کریں، ایوان کا وقار مجروح نہیں ہونا چاہیے، ازالے کے لئے سپیکر پنجاب اسمبلی کی ہدایات پر مکمل عملدرآمد ہوگا، اس معزز ایوان کے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا،سپیکر کے فیصلے پر عمل کریں گے واقعہ قابل افسوس ہے اوراس کا ازالہ ہونا چاہیے۔ سپیکر نے اپنی سربراہی میں 4 رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے کرکے آئی جی پنجاب کو ایک گھنٹے میں طلب کرلیا۔کمیٹی میں ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمد مزاری،وزیر قانون راجہ بشارت اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ملک ندیم کامران کو شامل کیا گیا جبکہ سپیکر نے ایوان کی کارروائی کو ملتوی کر دیا۔آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کی لاہور میں عدم موجودگی پر ایڈیشنل آئی جی انعام غنی اسمبلی پہنچے لیکن سپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہم نے آئی جی کو طلب کیا تھا۔چار رکنی کمیٹی نے ایڈیشنل آئی جی کو اپنے تحفظات سے آگاہ کر تے ہوئے آئی پنجاب شعیب دستگیر کوآج منگل کے روز ڈیڑھ بجے اسمبلی طلب کرلیا۔بعدازاں اجلاس دوبارہ شروع ہوا۔سپیکر پرویز الٰہی نے کہا ڈپٹی سپیکر کو ایوان وزیر اعلی میں داخلے کی اجازت نہ دینے کے معاملہ پر آئی جی پنجاب کو اسمبلی بلایا گیا لیکن وہ اسلام آباد میں ہیں۔وزیر قانون راجہ بشارت کی آئی جی پنجاب سے فون پر بات ہوئی ہے وہ منگل کو ڈیڑھ بجے پنجاب اسمبلی آئیں گے۔ڈپٹی سپیکر والا معاملہ آئی جی کے ساتھ بیٹھ کر حل کریں گے۔آئی جی کے ساتھ پولیس اور دیگر معاملات پر اپوزیشن کے خدشات بھی دور کئے جائیں۔سپیکر نے اجلاس آج منگل کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا۔ڈپٹی سپیکر سردار دوست مزاری کی جانب سے پولیس رویے کے خلاف جمع کرائی گئی تحریک استحقاق کے متن میں کہا گیا ہے کہ 26 جنوری کو تین بجے وزیر اعلی پنجاب سے ملنے جی آو آر ون گیا۔ مرکزی دروازے پر پہنچا تو پولیس نے روک دیا۔ میرے سٹاف کو سی ایم سیکرٹریٹ میں داخل نہیں ہونے دیا گیا، میں نے سٹاف کی تلاشی اور گاڑی کی چیکنگ کی پیشکش کی۔ پولیس افسران نے اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا۔ میں نے بتایا کہ میں ڈپٹی اسپیکر ہوں لیکن پولیس کا رویہ تضحیک آمیز تھا۔ مجھے پولیس کی بدتمیز ی کے باعث واپس جانا پڑا۔ اگر پولیس کا رویہ ڈپٹی اسپیکر کے ساتھ ایسا ہے تو عوام کے ساتھ کیسا ہو گا۔

موضوعات: