استعفوں پر استعفےٰ، پی ٹی آئی اور ق لیگ میں مذاکرات پی ٹی آئی کی کشتی ڈوبے گی تو ہماری بھی ڈوبے گی، بات اگر آگے نہ بڑھی تو ہمارا اگلہ لائحہ عمل کیا ہو گا ؟ ق لیگ نےواضح کر دیا

  جمعہ‬‮ 17 جنوری‬‮ 2020  |  16:30

لاہور( این این آئی )پاکستان مسلم لیگ (ق) کے مرکزی رہنما و رکن قومی اسمبلی مونس الٰہی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے وعدوں پر عملدرآمد کے لیے دوبارہ وعدہ کیا ہے، اگر پی ٹی آئی کی کشتی ڈوبے گی تو ہماری بھی ڈوبے گی۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ وسیم اکرم کو ہاتھ باندھ کر میدان میں بھیجیں تو وہ کیا کر سکیں گے؟ اگر بات آگے نہ بڑھی تو آگے کا لائحہ عمل طے کریں گے۔انہوںنے کہا کہ ایم کیو ایم والوں کی شکایات زیادہ سنجیدہ اور سنگین ہیں، بلوچستان والے بھی پریشان


ہیں، پرویز خٹک اور جہانگیر ترین کوئی نہ کوئی راہ ضرور نکالیں گے، ہماری وزارتوں میں مداخلت کی جا رہی تھی، صوبائی وزیر حافظ عمار تنگ آکر وزارت سے مستعفی ہو گئے تھے۔انہوںنے بتایا کہ پی ٹی آئی سے انتخابات سے قبل بات اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوئی تھی لیکن بہاولپور میں طارق بشیر کے مقابلے میں ایک خاتون کو ٹکٹ دیدیا گیا تھا، (ق) لیگ کے دوسرے وزیر کا حلف نہیں اٹھوایا جا رہا تھا، ہمارے وزیر حافظ عمار کی وزارت میں بھی مداخلت کی جا رہی تھی جس پر انہوں نے تنگ آ کر استعفیٰ دیا۔مونس الٰہی نے کہاکہ پی ٹی آئی سے (ق) لیگ نے تحریری معاہدے کیے تھے، کوشش یہی ہے ہم پی ٹی آئی سے پیار محبت سے چلیں،( )ق لیگ اب پی ٹی آئی کی کشتی میں سوار ہے، اگر پی ٹی آئی کی کشتی ڈوبے گی تو ہماری بھی ڈوبے گی، پی ٹی آئی نے دوبارہ وعدہ کیا ہے کہ ہم معاہدے پر عملدرآمد کریں گے، ہم حلقے میں جاتے ہیں تو عوام سوال کرتے ہیں، پی ٹی آئی والے لرننگ پراسس سے گزر چکے ہیں، وزیراعظم عمران خان کو واضح کہاہے کہ ہم وزارت میں دلچسپی نہیں رکھتے، کارکردگی نہ دکھا سکے تو وزارتوں کا کوئی فائدہ نہیں۔انہوںنے عثمان بزدار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بزدار صاحب ہمیشہ معاملات صحیح طریقے سے چلانے کی کوشش کرتے ہیں، وزیر اعلی پنجاب کو اختیارات دئیے بغیر گورننس نہیں ہو سکتی، حکومت اور بیوروکریسی میں ہم آہنگی کے بغیر کام نہیں ہوگا، ہم چاہتے ہیں معاملات بہتر ہوں اور کام ہو، کوئی کام نہیں ہو رہا، معاملات پھنسے ہوئے ہیں، وفاق اور صوبے میں ہم آہنگی ہوگی تو کام بہتر اندازمیں ہوگا، اگر کل دوبارہ انتخابات میںاکھٹے جانا ہے تو معاملات حل ہونے چاہئیں۔واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان سمیت جی ڈی اے اور اختر مینگل پارٹی بھی حکومت سے سخت ناراض دکھائی دیتی ہے ۔

موضوعات: