پرویز مشرف کیس میں تو کوئی کابینہ کی منظوری یا اس کا کردار نظر نہیں آ رہا، وزیراعظم نے قانون کے منافی کیا کام کیا؟ آرٹیکل 6 کا جرم کوئی اکیلا نہیں کر سکتا، لاہور ہائی کورٹ

  جمعہ‬‮ 10 جنوری‬‮ 2020  |  18:25

لاہور(این این آئی)لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کی جانب سے سنگین غداری کیس کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے خصوصی عدالت کی تشکیل سے متعلق سمری طلب کرلی۔ جبکہ فاضل عدالت نے کہا ہے کہ آرمی چیف کے معاملے پر دیکھ لیں کابینہ کا ذکر ہوا کہ کابینہ میں 11 لوگ تھے یا 13 لوگ تھے لیکن پرویز مشرف کیس میں تو کوئی کابینہ کی منظوری یا اس کا کردار نظر نہیں آ رہا،

ہم ٹرائل کورٹ کے نتائج پر نہیں جارہے، فیصلے کو دیکھیں تو اس وقت جس جس نے ساتھ دیا وہ سب اعانت کے ملزم بن جاتے ہیں جبکہ عدالتی معاون بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ اس وقت وزیراعظم نے اکیلے ہی کیس شروع کرنے کا فیصلہ کیا جو قانون کے منافی ہے، آرٹیکل 6 کا جرم کوئی اکیلا نہیں کر سکتا، اگر مخصوص لوگوں کے خلاف کاروائی ہو یہ آئین کے خلاف ہوگا۔جسٹس مظاہر علی نقوی کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سابق صد رجنرل (ر) پرویز مشرف کی درخواستوں پر سماعت کی۔دوران سماعت بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد لازم تھا کہ آرٹیکل 6 آنے کے بعد 1973 اور 1976 کے سنگین غداری قوانین میں ترامیم کی جاتی۔آرٹیکل 6 نیا جرم تو شامل ہوا مگر اس میں سزا کا طریق کار طے نہیں کیا گیا، ایسا ممکن نہیں کہ 18 ویں ترمیم کے بعد آرٹیکل 6 کے تحت خود بخود سزا ہو جائے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی عدالت وفاقی حکومت کی مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد غداری کی کارروائی کر سکتی ہے، یہاں وفاقی حکومت نے قانون کی پاسداری نہیں کی۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خصوصی عدالت تو بنا دی اور فوجداری کیسے چلے گی اس کا طریقہ کار طے ہی نہیں کیا گیا۔اس کیس میں مدعی پر کوئی جرح نہیں کی گئی، اس وقت کے وزیراعظم نے عدالت بنانے کے بعد انکوائری کا حکم دیا اور کیس آنے کے پہلے دن ہی خصوصی عدالت نے فرد جرم عائد کر دی۔جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دئیے کہ 2007 میں ایمرجنسی لگی اور یہ کہتے ہیں کہ آئین معطل ہوا،

2009 میں فیصلہ آیا جس میں 2007 کے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیا گیا۔بنچ کے سربراہ نے ایڈووکیٹ علی ظفر سے استفسار کیا کہ 2007 سے خاموشی تھی اور 2013 سے پھر یہ کیس آجاتا ہے۔اس پر ایڈووکیٹ خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کہیں بھی نہیں کہا کہ پرویز مشرف نے آئین معطل کیا۔سماعت کے دوران بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 6 کے ساتھ تعلق نہیں بتایا مگر اسے غیر آئینی اقدام قرار دیا، جو کیس بنایا گیا وہ قانون کے مطابق نہیں بنا اور نہ عدالت کی تشکیل قانون کے مطابق تھی۔

21 جون 2013 کو اٹارنی جنرل نے وزیراعظم کو سمری بھیجی کہ پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کا کیس بنایا جائے اور سیکرٹری داخلہ کو 29 دسمبر 2013 کو شکایت درج کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 6 کے تحت کابینہ کی منظوری کے بغیر کیس نہیں بن سکتا یہ اختیار وزیراعظم کے پاس نہیں تھا۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جب بھی کوئی قانون کیس بنانے کا تقاضہ کرے گا تو اس کا مطلب ہو گا کہ وفاقی کابینہ فیصلہ کرے گی۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ مجاز اتھارٹی کو کیس دائر کرنے کی منظوری کون دے گا؟

اس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کل ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان نے کہا تھا کہ کابینہ کی منظوری نہیں لی گئی اس طرح تو اس کیس کی بنیاد ہی موجود نہیں۔دورانِ سماعت جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا کابینہ کے اجلاس میں ایجنڈا میں شامل تھا؟ جس پر بیرسٹر علی ظفر نے بتایا کہ اس حوالے سے کابینہ کا کوئی بھی اجلاس نہیں ہوا۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ سے اٹارنی جنرل کے بتائے ہوئے دستاویزات کے علاوہ کوئی دستاویز موجود نہیں ہے۔اس پرفاضل بنچ نے استفسار کیا کہ یہ تاریخ میں اہم ترین معاملہ تھا کیا ایجنڈا آئٹم کے بغیر کیا کابینہ ایسے معاملے کو دیکھ سکتی ہے؟۔

جسٹس امیر بھٹی نے ریمارکس دئیے کہ آرمی چیف کے معاملے پر دیکھ لیں کابینہ کا ذکر ہوا کہ کابینہ میں 11 لوگ تھے یا 13 لوگ تھے لیکن پرویز مشرف کیس میں تو کوئی کابینہ کی منظوری یا اس کا کردار نظر نہیں آ رہا۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ کابینہ سے منظوری کا کوئی ریکارڈ حکومت کے پاس ہے؟جس پر وزارت داخلہ کے نمائندے سے عدالت میں بیان دیا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے حوالے سے کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر عدالت کی تشکیل ہی غلط اور غیر قانونی ہے تو اسکے فیصلے سمیت تمام اقدام غیر قانونی تصور ہوں گے۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل میں جو ججز لگائے گئے وہ کن بنیادوں پر لگائے گئے؟

خصوصی عدالت میں ججز لگانے کے لیے کوئی تحریری بات چیت بھی ہوئی یا سب کچھ ٹیلی فون پر ہی ہوا؟۔جس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ وزارت قانون و انصاف نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھا تھا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کے لیے ججز کے نام دئیے جائیں۔اس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف شکایت مجاز اتھارٹی نے دائر نہیں کی یہاں بھی قانون کی خلاف ورزی ہوئی، قانون کے مطابق کابینہ نے مجاز اتھارٹی کو نامزد کرنا تھا کہ وہ شکایت درج کروائے۔بیرسٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ پرویز مشرف کی غیر موجودگی میں ٹرائل کیسے ہو سکتا ہے؟ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں ملزم کی عدم موجودگی میں ٹرائل مکمل کر کے فیصلہ نہیں سنایا جاسکتا۔اس پر

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دئیے کہ اگر کوئی شخص ٹرائل میں پیش نہیں ہورہا تو عدالت زیادہ سے زیادہ اسے اشتہاری قرار دے سکتی ہے۔فاضل بنچ نے استفسار کیا کہ پرویز مشرف کے علاوہ کتنے لوگ ہیں جو باہر بیٹھے ہیں ان کے خلاف بھی ایسے کبھی ٹرائل ہوا؟ جس پر عدالتی معاون نے کہا کہ سیکشن 9 کے تحت ملزم کی عدم موجودگی میں ٹرائل ہو ہی نہیں سکتا۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دئیے کہ کسی کو سنے بغیر سزا دینا کہاں کا قانون ہے؟، اگر کوئی 342 کا بیان نہیں دے رہا تو ضروری ہے کہ اس سے منگوالیا جائے۔جسٹس مظاہر علی نقوی نے مزید کہا کہ ہم ٹرائل کورٹ کے نتائج پر نہیں جارہے، فیصلے کو دیکھیں تو اس وقت جس جس نے ساتھ دیا وہ سب اعانت کے ملزم بن جاتے ہیں۔اس پر عدالتی معاون نے کہا کہ اس وقت وزیراعظم نے اکیلے ہی کیس شروع کرنے کا فیصلہ کیا جو قانون کے منافی ہے۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 6 کا جرم کوئی اکیلا نہیں کر سکتا، اگر مخصوص لوگوں کے خلاف کاروائی ہو یہ آئین کے خلاف ہوگا۔جسٹس مظاہر علی نقوی نے ریمارکس دئیے کہ جو فرد جرم عائد ہوئی اس میں تو آرٹیکل 6 کا ذکر ہی نہیں ہے۔فاضل میں شامل جسٹس مسعود جہانگیر نے استفسار کیا کہ جب وفاقی حکومت دیگر کو ملزم نہیں بناتی تو خصوصی عدالت دیگر ملزموں کو بلوا سکتی ہے؟ اس پر بیرسٹر علی نے کہا کہ خصوصی عدالت کو دیگر ملزمان کو طلب کرنے کا اختیار نہیں تھا۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ غداری ایک شخص نہیں کرسکتا یہ جرم مجموعی طور پر لیا جاسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ رشوت والے قانون کی طرح لیا جاسکتا ہے کہ رشوت دینے اور لینے والا دونوں قصور وار ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ 3 نومبر 2007 کو پرویز مشرف کا اقدام کیا تھا جس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے بتایا کہ سابق صدر نے 3 نومبر کو ایمرجنسی نافذ کی تھی۔پرویز مشرف کے وکلا ء اور عدالتی معاون کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل کو پیر 13 جنوری کو دلائل دینے کا حکم د یتے ہوئے وفاقی حکومت سے خصوصی عدالت کی تشکیل سے متعلق سمری طلب کرلی۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ہم کوئلے سے پٹرول کیوں نہیں بناتے؟

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎