’’تمام سرکاری اداروں کی تنخواہ ایک کردیں‘‘ نئے چیف جسٹس کے اہم ترین کیس میں ریمارکس

  جمعرات‬‮ 26 دسمبر‬‮ 2019  |  14:28

اسلام آباد(سی پی پی)وزارت فنانس ملازمین الاؤنس کیس میں چیف جسٹس گلزاراحمد التوا کی درخواست پر ڈپٹی اٹارنی جنرل پر سخت برہم ہو گئے اورسرزنش کردی،چیف جسٹس پاکستان نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کو ہلکا نہ لیں۔عدالت التوادینے کیلئے نہیں بیٹھی،آپ لاآفیسر کیسے بن گئے،کیا آپ کو نوکری پر رکھا جا سکتا ہے؟۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں وزارت فنانس ملازمین الاؤنس کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی، عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کی مقدمہ کی تیاری کیلئے التوامانگنے پرسرزنش کردی،چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی


جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ کو ہلکا نہ لیں،عدالت التوادینے کیلئے نہیں بیٹھی، چیف جسٹس گلزاراحمدنے کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل صاحب آپ نے ہم ججز پر ظلم کیا،ججز کیس کی فائل پڑھ کر آتے ہیں۔چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ آپ لاآفیسر کیسے بن گئے،کیا آپ کو نوکری پر رکھا جا سکتا ہے؟ریونیو ڈویژن اور آڈٹ اکائونٹ کو الائونس کس قانون کے تحت دیا گیا؟فنانس،اکنامک اور ریونیو ڈویژن میں کیا فرق ہے؟۔ڈپٹی اٹارنی جنرل اصغر علی نے کہا کہ ریونیو ڈویژن کی ورکنگ دیگر ڈویژن سے مختلف ہے،چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ ہر سرکاری ادارے کی تنخواہ دوسرے ادارے سے مختلف ہے،سب سرکاری اداروں کی تنخواہ ایک کردیں۔سپریم کورٹ نے وزارت فنانس ملازمین الائونس کیس کی سماعت ملتوی کردی،ڈپٹی اٹارنی جنرل کوتیاری کیلئے سماعت موسم سرما کی تعطیلات تک ملتوی کی گئی۔


موضوعات: