ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

جیلوں میں قیدیوں کی ہلاکت اور ان کی وجوہات بارے اسلام آبا د ہائی کورٹ نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 14  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے جیلوں میں قیدیوں کی ہلاکت اور ان کی وجوہات کے تفصیلات طلب کرلیں۔ہفتہ کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ملک بھر کی جیلوں میں قیدیوں کی حالت زار سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ اڈیالہ جیل میں قید سزائے موت کے قیدی و درخواست گزار خادم حسین کے علاوہ جیل حکام، وزارت صحت اور داخلہ کے نمائندے بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

وزارت انسانی حقوق کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ جیلوں میں انسانی حقوق پامالیوں کا جائزہ لینے کے لیے وزارت انسانی حقوق نے 2 نمائندے مقرر کردئیے ہیں، عدالت اگر حکم دے تو ہم قانونی معاونت کے حوالے سے تبدیلی کرنا چاہتے ہیں۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر کوئی ریاست کی قید میں ہو تو ریاست پر ذمہ داری آتی ہے کیونکہ جیل کا قیدی مکمل طور پر ریاست پر انحصار کرتا ہے، آزاد شخص پر ریاست کی ذمہ داری کم اور کوئی ریاست کی قید میں ہے تو ذمہ داری بڑھ جاتی ہے، جیلوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اہم مسئلہ ہے جس پر آج تک کسی کو احساس نہیں ہوا، جیلوں میں تو صفائی ستھرائی کے حالات بھی اچھے نہیں۔عدالت نے اڈیالہ جیل کے ڈاکٹر سے استفسار کیا یہ حقیقت نہیں کہ بااثر قیدیوں کو اچھی سہولت جب کہ عام قیدیوں کو اچھی نہیں ملتی، کسی قیدی کو ہیپاٹائٹس ہو یا کوئی بیماری ہو تو دیکھ بھال ریاست کی ذمہ داری ہے، شدید بیمار قیدی کو جیل میں رکھنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔کیا کوئی ڈیٹا ہے کہ کتنے قیدی آج تک دوران قید فوت ہوئے اور وجہ کیا تھی، اگر جیل میں کسی قیدی کی موت ہو جائے تو اس کی انکوائری کیسے ہوتی ہے، نیلسن مینڈیلا نے جیل قیدیوں کے حوالے سے جو کچھ کہا وہ اپنے دفتروں میں لگا کر رکھیں،اسلام کی تعلیمات میں بھی قیدیوں کے حقوق کا واضع ذکر موجود ہے، جب ڈاکٹر کسی قیدی مریض کا علاج تجویز کردے تو اسے فوری علاج کیلئے ہسپتال لے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…