قطر سے ایل این جی قیمتوں  کے تعین میں  میرا کیا کردارتھا؟فیصلے ن لیگ کا کون سا اہم رہنما کرتاتھا؟مبین صولت کے چونکا دینے والے انکشافات

  اتوار‬‮ 17 ‬‮نومبر‬‮ 2019  |  22:54

اسلام آباد(آن لائن) وزارت پٹرولیم کی ذیلی کمپنی (آئی  ایس جی ایس) کے سربراہ اور ایل این جی کرپشن سکینڈل کے شریک ملزم مبین صولت نے نیب کو ریکارڈ کرائے گئے اپنے اقبالی بیان میں کہا ہے کہ قطر حکومت کے ساتھ ایل این جی کی قیمت کے مقرر کرنے والی ٹیم کا ممبر تھا تاہم میری ذمہ داری صرف اور صرف عرضی نویس کی تھی میں متعلقہ کمیٹی کے اجلاس کا انتظام کرتا تھا اور اعلیٰ اختیارات کے حامل افسران کی آؤ بھگت کرتا رہا۔میری ذمہ داری اجلاس بلانے بارے انتظامات کرنا تھا اور اجلاسوں کے دوران منٹس لکھنا


تھا اور پھر ان منٹس کو کمیٹی ممبران کی خدمت میں پیش کرنا ہوتا تھا، مبین صولت کے اقرار کیا ہے کہ کیونکہ  میرا تجربہ اکاؤنٹنٹ تھا اسلئے  تکنیکی امور بارے مجھ سے توقع رکھنابے وقوفی سے کم نہیں ہے، مبین صولت ایک اہم کمپنی کے ایم ڈی ہیں جو اربوں ڈالر کے تاپی گیس منصوبہ، پاک ایران گیس منصوبہ، نارتھ ساؤتھ گیس منصوبہ کو کنٹرول کررہی ہے۔ اس کمپنی کا سربراہ اپنی نااہلی پٹرولیم امور سے نابلد قرار دے رہا ہے لیکن حکومت نے انہیں کمپنی کا سربراہ بنا کر پورے ملک کا بیڑ ہ  ہی غرق کر دیا ہے، مبین صولت نے کہا ہے قطر حکومت سے ایل این جی کی قیمت کے تعین کا اختیار سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے پاس تھا کیونکہ وہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا  خاص بندہ  تھا اور اس حوالے سے اس وقت کے وزیر پٹرولیم سے ایک ایک منٹ کی رپورٹ دے رہا ہوتا تھا جبکہ  اس کی ذمہ داری تھی کہ وہ ایل این جی کی قیمت کے تعین بارے  کمیٹی کو آگاہ کرے، مبین صولت نے اپنے نیب کو دیئے گئے  اقبالی بیان میں تمام ملبہ مفتاح اسماعیل پر ڈالا ہے اور خود کو عرضی نویس ظاہر کرکے پاک صاف قرار دیا ہے لیکن نیب حکام نے ملزم کے اقبالی جرم بارے بیان کی مکمل تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سکینڈل میں مبین صولت شاہد خاقان اور مفتاح اسماعیل کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنے ہوئے ہیں، مبین صولت کئی سالوں سے آئی ایس جی ایس کا سربراہ ہے اور بھاری کرپشن میں ملوث ہے،وزارت پٹرولیم کے تین رکنی افسران گروپ اس کے مفادات کے تحفظ پر مامور ہے مبین صولت پٹرولیم وزارت کے اعلیٰ افسران کو  بیرونی ممالک کے دورے کراکے اپنا مطیع بنا چکا ہے اور ان افسران کو کمپنی کے بورڈ کا ممبر بھی بنا چکا ہے، مبین صولت نے سلش فنڈ بھی قائم کر رکھا ہے کمپنی کے ہر ماہ چار کروڑ سے زائد کے اخراجات میں خود ہر ماہ 40لاکھ وصول کرتا ہے جبکہ کمپنی کے دیگر نااہل افسران بھی لاکھوں وصول کرتے ہیں گیس منصوبوں کیتکمیل کے نام پر قومی خزانہ کی لوٹ مار  جاری ہے، مبین صولت جب گورنمنٹ ہولڈنگ لمیٹڈ کا سربراہ بنا تو عام سی  لڑکی  کو ڈپٹی جنرل منیجر لگا دیا جس کے ذریعے وہ افسران کو مطیع بناتا رہا  نیب حکام اس پوری  کمپنی  اور ایل این جی سکینڈل میں اہم ملزم کی حیثیت سے مبین صولت کے خلاف تحقیقات کرنے میں مصروف ہیں جبکہ وہ اقبالی جرم کرکے شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن چکا ہے اس حوالے سے وزارت پٹرولیم کے اعلیٰ افسران موقف دینے پر راضی بھی نہیں ہیں۔

موضوعات:

loading...