منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ماضی میں ای سی ایل سے نام نکلنے پر بیرون ملک جانیوالوں میں کوئی سزا یافتہ نہیں تھا،نواز شریف کو کیوں جانا دیاجارہاہے؟تحریک انصاف کے رہنما ہمایوں اختر نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر مرکزی رہنما و سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان نے کہا ہے کہ لیگی رہنما ماضی میں جن لوگوں کے نام ای سی ایل سے نکلنے پر بیرون ملک روانگی کی مثالیں دے رہے ہیں ان میں کوئی بھی سزا یافتہ نہیں تھا بلکہ ان کے کیسز تحقیقات کے مراحل میں تھے،تحریک انصاف اور حکومت نے ہمیشہ عدالتی فیصلوں کا احترام کیا ہے اور نواز شریف کے معاملے میں بھی اس روایت کو قائم رکھیں گے،

مولانا فضل الرحمان راستے میں پڑا ہوا پتھر اٹھا نہیں رہے بلکہ آگے بڑھتے پاکستان کی راہ میں بھاری بھرکم پتھر رکھ رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں حلقہ این اے 131سے تعلق رکھنے والے پارٹی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ہمایوں اختر خان نے کہا کہ نیب کی طرف سے کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں عدالت کی جانب سے نواز شریف پر عائد جرمانوں کے حوالے سے تحریری طور پر لکھ کر دیا گیا۔ ای سی ایل میں توانسانی ہمدردی کی کوئی گراؤنڈ موجود نہیں۔ (ن) لیگ کے لوگ ماضی کے جن کیسز کا حوالہ دے رہے ہیں ان میں ای سی ایل سے نام نکلنے پر باہر جانے والا کوئی بھی شخص سزا یافتہ نہیں تھا جبکہ نواز شریف عدالت سے سزا یافتہ ہیں۔ حکومت نے تو نواز شریف کی نازک صحت کو دیکھتے ہوئے انہیں آسان راستہ فراہم کیا ہے۔ (ن) لیگ والے کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر انڈیمنٹی بانڈ پر دستخط کر کے نواز شریف کو باہر لے جاتے اور پھر عدالت میں اسے چیلنج کر دیتے اور وہاں فیصلہ ہو جانا تھا۔ ہمایوں اختر خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان مدارس کے طلبہ کو عوامی قوت قرار دے کر عوام کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتے، راستوں کی بندش سے واضح ہے کہ اقتدار کے حصول کیلئے ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے لیکن انہیں حکومت کی مدت پوری ہونے کا انتظار کرنا ہوگا اور اس کے بعد انتخابی میدان میں فیصلے ہوں گے اور عوام بہترین منصف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کا آئندہ سال تک نئے انتخابات یا نیا وزیر اعظم آنے کا بیان اپنی سیاسی تسکین کے لئے ہے جس پر کسی کو کیا اعترا ض ہو سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…