اپوزیشن جماعتوں کی بات سننے اور مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کرنے کے لیے تیار ہیں، حکومت آخر کار مان گئی

  بدھ‬‮ 16 اکتوبر‬‮ 2019  |  21:13

اسلام آباد (آن لائن) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے خلیج فارس میں امن وامان کو قائم رکھنے کیلئے سعودی عرب اور ایران کی اعلی قیادت کے ساتھ بات چیت کی ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے ایران کے ایک روزہ دورے کے بعد سعودی عرب کی اعلی قیادت کے ساتھ مثبت انداز میں بات چیت کی ہے جس کے نتیجے میں خطے میں جنگ کے منڈلاتے ہوئے بادل چھٹ چکے ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سےمذاکرات کے لیے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی


میں کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔۔ وزارت خارجہ میں مشیر برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بنی گالہ میں وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا اجلاس ہواجس میں ملکی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہم سیاسی معاملات کو سیاسی انداز میں حل کرنے پر بات چیت کی گئی، اجلاس میں کہا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف سیاسی معاملات کوسیاسی انداز میں حل کرنے کی صلاحیت اور جذبہ رکھتی ہے، جبکہ پرویز خٹک کی سربراہی میں مولانا فضل الرحمٰن سے مذاکرات کے لیے مختصر کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں۔شاہ محمودقریشی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو سیاسی رویے اپنانے چاہیے، عوام کے جان و مال کا تحفظ اور حکومت کی عملداری بھی ضروری ہے، پاکستان تحریک انصاف نے تجربے سے یہ سیکھا ہے کہ سیاسی جلسے جلوسوں اور دھرنوں سے حکومتیں نہیں گرائی جاسکتیں، اگر کسی کو غلط فہمی ہے کہ سیاسی پارٹی کی اسلام آباد آمد اور دھرنے سے حکومتیں چلی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کسی قسم کا خوف نہیں ہمیں دھرنے کا 126 دن کا تجربہ ہے، ہم اپوزیشن جماعتوں کی بات سننے اور مولانا فضل الرحمٰن سے رابطہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب و ایران کے درمیان کشیدگی اور وزیر اعظم کے حالیہ دوروں کے حوالے سے انہوں نے کہا ایران اورسعودی عرب میں حالیہ دنوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تاہم وزیر اعظم عمران خان کا ایران اور سعودی عرب کا دورہ کامیاب رہا اور ان کے دونوں ممالک کی قیادت سے مذاکرات اچھے رہے۔انہوں نے کہا کہ میں آج یہ کہتے ہوئے اطمینان محسوس کر رہا ہوں کہ خلیج میں جنگ اور تنازع کے بادل جو ہمارے سروں پر منڈلا رہے تھے وہ اب چھٹتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، پاکستان کا مقصد بھی یہی تھا کہ ہم مزید کسی تنازع کا شکار نہ ہوں، یہ مسئلہ کبھی آسان نہیں تھاجس پر ہمیں کوئی شک نہیں تھا اور اس کی تاریخ ہے، ماضی میں بھی اس پر کئی مداخلت ہو چکی ہے لیکن کل کی نشست حوصلہ افزا تھی اور ایک چیز جس پر اتفاق ہوا کہ ہم پرامن سفارتی عمل کو ترجیح دیں گے اور کوشش کریں گے کہ ہماری غلط فہمیوں کو گفت و شنید سے دور کر سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایک اچھا آغاز ہوا ہے جس کی تفصیل میں اس وقت جانا مناسب نہیں ہے۔مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ 'وزیر اعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر پرپاکستانی موقف کی تائید و حمایت پر ایرانی اور سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے دونوں ممالک کی قیادتوں کو مقبوضہ کشمیر کی نازک صورتحال سے متعلق بتایا، آج یہ دنیا کہہ رہی ہے کہ وادی میں معاملات کتنے نازک ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کشمیر کی صورتحال پر پارلیمانی سفارت کاری کا بھی آغاز کردیا ہے، حالیہ آئی پی یو کے اجلاس میں پاکستان کو اس حوالے سے کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں۔ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پیمرا کو حکومت کی جانب سے کسی قسم کی ہدایت جاری نہیں کی گئی، البتہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت پیمرا نے مولانا فضل الرحمن کے بیانات کو نشر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم موجودہ حالات میں خصوصا27اکتوبر کو دھرنا دینے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

loading...