جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

مستقبل قریب میں جنرل باجوہ بھی کس صورتحال کا نشانہ بنتے دکھائی دے رہے ہیں؟۔۔۔بڑا دعویٰ کردیا گیا‎

datetime 8  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)جاویدچوہدری اپنے کالم’’بس مولانا کو روکیں‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔حکومت مسلسل دعویٰ کر رہی ہے ہم اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں‘حکومت کا یہ دعویٰ درست ہے‘ عمران خان کوواقعی اسٹیبلشمنٹ کی بے انتہا سپورٹ حاصل ہے لیکن کیا یہ سپورٹ مستقبل میں بھی جاری رہے گی؟ ۔میرا خیال ہے نہیں‘یہ تعاون وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مشکل ہوتا چلا جائے گا‘

نومبر کے بعد حکومت کے لیے سپورٹ مزید مشکل بلکہ ناممکن ہوتی چلی جائے گی‘کیوں؟ آپ اس کیوں کے جواب میں ایک واقعہ ملاحظہ کیجیے‘ مجھے ایک بار جنرل احمد شجاع پاشا نے بتایا تھا میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ایکسٹینشن کے خلاف تھا‘ وہ مجھ سے جب بھی مشورہ کرتے تھے میں ان سے کہتا تھا‘ سر آپ اس وقت ضروری ہیں لیکن ایکسٹینشن کے بعد آپ کا امیج بہت خراب ہو گا۔وہ میرے سمجھانے کے باوجود ایکسٹینشن لے بیٹھے‘ مجھے خبر ملی تو میں مبارک باد پیش کرنے کے لیے آرمی چیف ہاؤس چلا گیا‘ میں نے انہیں مبارک باد دی اور اس کے بعد کہا‘ سر اب آپ کو بہت احتیاط سے چلنا پڑے گا‘ وہ اس وقت سگریٹ پی رہے تھے‘ انہوں نے سگریٹ بجھایا اور میری طرف دیکھ کر بولے ‘ پاشا کیا مطلب؟ میں نے عرض کیا‘ سر آپ اب اگر حکومت کی کرپشن یا نااہلی پر بولتے ہیں تو لوگ آپ کو احسان فراموش کہیں گے اور آپ اگر خاموش رہتے ہیں تو آپ کو ان لوگوں کا حصے دار سمجھا جائے گا۔جنرل کیانی تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر سر جھٹک کر بولے ”پاشا ڈونٹ وری‘ میں اصولوں پر سمجھوتا نہیں کروں گا“ جنرل پاشا نے اس کے بعد کہا” میرا خدشہ سچ ثابت ہوا‘ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت جاتے جاتے جنرل کیانی کی نیک نامی بھی ساتھ لے گئی“ مجھے مستقبل قریب میں جنرل باجوہ بھی اسی صورت حال کا نشانہ بنتے دکھائی دے رہے ہیں‘ یہ اگر نومبر کے بعد حکومت کی بدانتظامی پر خاموش رہتے ہیں تو لوگ ان پر تنقید کریں گے اور یہ اگر حکومت کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو جاتے ہیں تو حکومت کے ساتھ ساتھ یہ بھی بدنام ہوجائیں گے‘ کیوں؟ ۔کیوں کہ قوم ملک کی دونوں پارٹیوں کی قیادت کو کرپٹ سمجھتی تھی لیکن عمران خان کی غلطیاں انہیں بے گناہ ثابت کرتی جا رہی ہیں‘ عوام کو یہ آج سچے اور ایمان دار دکھائی دے رہے ہیں بس عدالت کی مہر باقی ہے اور یہ مہر کسی بھی وقت لگ جائے گی‘ آپ چند ہفتوں میں ان لوگوں کو ایک ایک کر کے جیل سے باہر آتے دیکھیں گے‘ حکومت اس محاذ پر بھی بری طرح پسپا ہو جائے گی لہٰذا ہم تاریخ کے جوہڑ میں جا گریں گے‘ ہم نے 1971ءمیں ایک فاش غلطی کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…