اہم سیاسی شخصیت پر قاتلانہ حملہ،اپنے نواسے اور دو محافظوں سمیت جاں بحق 

  ہفتہ‬‮ 17 اگست‬‮ 2019  |  20:02

خضدار(این این آئی)نواب نوروز خان کے فرزند نواب زادہ میر امان اللہ خان زرکزئی اپنے نواسہ اور دو محافظوں سمیت قاتلانہ حملے میں جاں بحق،فائرنگ کا واقع ہفتے کی درمیانی شب نورگامہ کے قریب پیش آیا،پہلے سے گھات لگائے حملہ آوروں نے مختلف سمت سے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا، واقعہ کے بعد پورا جھالاون سوگ میں ڈوب گیا، بی این پی کے قائد سردار اختر جان مینگل و دیگر کی مذمت، نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں کی شرکت۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینٹر ل کمیٹی کے رکن نواب نوروز خان کے فرزند، نوابزادہ میر امان اللہ


خان زہری کے قافلے پر ہفتے کے درمیانی شب تحصیل زہری میں پہلے سے گھات لگائے مسلح ملزمان نے نورگامہ کریش پلانٹ کے قریب اس وقت فائرکھول دیا جب وہ بلبل زہری سے اپنے نواسا اور محافظوں کے ہمراہ گھر واپس آرہے تھے، فائرنگ اتنی شدید تھی کہ انہیں آگے جانے کا موقع نہیں مل سکا، فائرنگ کے باعث نوابزادہ میر امان اللہ زرکزئی، ان کا نواسانوابزادہ میر مردان خان زرکزئی، دو محافظ نثار احمد زہری اور سکند رعلی مگسی موقع پر جاں بحق ہوگئے، فائرنگ کافی دیر تک جاری رہی، جس کے بعد لیویز اور ان کے اپنے قریبی لوگ جائے وقوع پر پہنچ کر نعشوں کو زہری ہسپتال پہنچایا، فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں چاروں افراد موقع پر جاں بحق ہوگئے تھے، جب کہ پانچواں شخص معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے۔واقع کی اطلاع رات گئے جنگل کی آگ کی طرح جھالاوان سمیت پورے بلوچستان میں پھیل گئی، مختلف علاقوں سے لوگ زہری پہنچنا شروع ہوگئے۔ نوابزاد ہ میر امان اللہ خان زہری نواب نوروز خان زرکزئی کے فرزند تھے، جب کہ وہ بی این پی کے سینٹرل کمیٹی کے ممبر اور بی این پی کے سرپرست سردار عطاء  اللہ مینگل و بی این پی کے قائد سردار اخترجان مینگل کے رفیقِ خاص ودیرینہ ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ ہفتے کی دوپہر کو ان کا نماز جنازہ نورگامہ میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنماء  مولانا عبدالغنی نے پڑھایا،جس میں ان کے فرزندنوابزادہ میر شہزاد زہری، نواب زادہ عبیداللہ زہری، میر اعجاز احمد زہری، میر ایاز زہری، میر اویس زہری، بھائی میر بلند خان زہری، بھتیجا میر نورز خان زہری و دیگر عزیز و اقارب کے علاوہ ایم پی اے احمد نواز بلوچ، ایم پی اے نوشکی بابو محمد رحیم مینگل، ایم پی اے میر محمد اکبر مینگل، ایم پی اے میر محمد یونس عزی زہری، سینیٹر جہانزیب جمالدینی، ایم این اے آغا حسن بلوچ، سابق ایم این اے عبدالرؤف مینگل، وڈیرہ عبدالخالق موسیانی، سردار نصیر احمد موسیانی، سردار زادہ محمد یوسف قلندرانی، میر بٹے خان زرکزئی، میر عرفان زرکزئی، میر فرہاد زہری، میر شاہ بیگ خان، میر محمد عمران جتک، میر قادر بخش مینگل، میر محمد اسماعیل مینگل،کیپٹن ذیشان، تحصیلدار زہری منیراحمد مغل، میر عبدالرحمان زہری، میرعمران اکبر قمبرانی، میر غلام نبی مری، لعل جان بلوچ، سفر خان مینگل،خیر جان بلوچ، میر خورشید جمالدینی، چیئرمین منظور بلوچ، آغا موسیٰ جان احمد زئی، ایم پی اے،ملک نصیر احمد شاہوانی، اسلم خان مگسی، ایف سی کیپٹن ذیشان سمیت ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اور انہیں نورگامہ میں شاہ بیگ زئی کلی نواب نورز خان قبرستان میں ہی آسودہ خاک کیا گیا۔ اس اس واقع پر بی این پی کے قائد ایم این اے سردار اختر مینگل نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں نوابزادہ امان اللہ خان زرکزئی کے قتل کو ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ یہ بی این پی کے ورکرز اور بلوچستان کے عوام کے لئے ایک اور سیاہ دن ہے  ایک قومی رہنماء ہم سے جدا ہواہے اور وہ الفاظ نہیں مل رہے ہیں کہ جنہیں میں بیان کرسکوں انہوں نے معصوم میرمردان زرکزئی اور نوابزادہ امان اللہ زرکزئی کے دیگر دو دوستوں کے جاں بحق ہونے پر بھی بے حد افسوس کا اظہار کیا ہے اور اس واقع کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

موضوعات:

loading...