بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سٹیٹ بینک نے نظام کے لحاظ سے پاکستان کے تین اہم بینکوں کو نامزد کردیا،نگرانی کی زیادہ شرائط کا سامنا کرنا ہوگا

datetime 21  جولائی  2019 |

لاہور(این این آئی) مرکزی بینک نے سال 2019 کے لیے نظام کے لحاظ سے اہم ملکی بینکوں کو نامزد کردیا۔ یہ اعلان اپریل 2018  میں متعارف ہونے والے نظام کے لحاظ سے اہم ملکی بینکوں کے فریم ورک کے تحت کیا گیا ہے۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا فریم ورک عالمی معیارات اور روایات سے ہم آہنگ ہے اور اس میں مقامی تحرکات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

اس میں ڈی ایس آئی بیز کی شناخت اور نامزدگی کا طریقہ کار، ضوابطی اور نگرانی کی شرائط میں اضافہ اور نفاذ کے رہنما اصول دیے گئے ہیں۔ شرائط میں اضافے کا مقصد نظام کے لحاظ سے اہم بینکوں کی دھچکوں کے مقابلے میں لچکداری کو مزید مضبوط کرنا اور ان کی خطرے کے انتظام کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے۔ڈی ایس آئی بیز کی شناخت دو مراحل پر مشتمل ہوتی ہے۔ پہلے مرحلے میں ہر سال معیاری اور مقداری بنیادوں پر نمونہ بینکوں کی شناخت ہوتی ہے۔ دوسرے مرحلے میں اداروں کے حجم، ان کے آپس کے روابط، تبدل پذیری اور پیچیدگی کے لحاظ سے  نظامیاتی اسکور کی بنیاد پر نمو نہ بینکوں میں سے ڈی ایس آئی بیز کو نامزد کیا جاتا ہے۔ڈی ایس آئی بیز فریم ورک کے مطابق اسٹیٹ بینک نے سالانہ جانچ کا عمل آخر دسمبر 2018  تک کی مالی صورت حال کی بنیاد پر انجام دیا ہے۔ اس جانچ کے مطابق تین بینکوں حبیب بینک لمیٹڈ، نیشنل بینک آف پاکستان اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کو 2019  کے لیے بطور ڈی ایس آئی بیز نامزد کیا گیا ہے۔ ان بینکوں کو نگرانی کی زیادہ شرائط کا سامنا ہو گا اور 31 مارچ 2020  سے اضافی مشترکہ ایکویٹی کے سطح اول سرمائے کی شکل میں انہیں درج ذیل بلند سرمایہ سرچارج ادا کرنا ہو گا۔پاکستان میں آپریٹ کرنے والے نظام کے لحاظ سے اہم عالمی بینکوں کی شاخیں پاکستان میں اپنے خطرہ بہ وزن اثاثوں کے لیے اضافی سرمایہ رکھیں گی، اس شرح پر جو ان کے متعلقہ پرنسپل جی ایس آئی بی پر لاگو ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…