وزیر اعظم کا دورہ امریکہ،پاکستان سے کون کون سے مطالبات کئے جائیں گے؟امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر شیری رحمن نے عمران خان کوخبردارکردیا

  اتوار‬‮ 21 جولائی‬‮ 2019  |  18:48

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمن نے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے حوالے سے کہا ہے کہ حکومت پارلیمنٹ سے رائے لینے اور دوسری جماعتوں کی شراکت داری سے مستفید ہونے کیلئے قطعاً تیار نہیں،پاکستان کے آدھے پارلیمان کو دیوار سے لگا کر حکومت ملک کا مقدمہ کیسے لڑے گی، امریکہ چاہے گا پاکستان سے امن عمل کے استحکام کی ضمانت لے، پاکستان کسی قسم کی ضمانت نہیں دے سکتا،صدر ٹرمپ اوروزیر اعظم عمران خان دونوں غیر یقینی شخصیت کے مالک ہیں، خدشہ ہے دورے کے دور ان کوئی


اونچ نیچ نہ ہوجائے۔ امریکی ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت پارلیمان سے رائے لینے اور دیگر جماعتوں کی شراکت داری سے مستفید ہونے کے لئے قطعاً تیار نہیں ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ حکومت سمجھتی ہے کہ انہیں طاقتور حلقوں کی حمایت حاصل ہے لہٰذا کسی اور سہارے کی ضروت نہیں،یہ عمران خان کی خوش قسمتی ہے کہ عسکری قیادت اور حکومت ایک صفحے پر ہیں۔ شیری رحمٰن نے کہا کہ حکومت اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ جارحانہ رویہ رکھے ہوئے ہے، اور یہ کہ پاکستان کے آدھے پارلیمان کو دیوار سے لگا کر حکومت ملک کا مقدمہ کیسے لڑے گی؟شیری رحمن نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے پاکستانی قیادت کا دورہ ایک ہی زاویے سے دیکھتے ہوئے رکھا گیا ہے اور وہ یہ کہ امریکی فوج کا افغانستان سے باعزت انخلا کیسے ممکن ہوگا، جس کے لئے واشنگٹن کی جانب سے ڈو مور کی مانگ ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے طالبان کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھانے میں معاونت کی،اب امریکہ چاہے گا کہ امن عمل کے استحکام کی ضمانت لے۔ لیکن، پاکستان اس عمل میں کسی قسم کی ضمانت نہیں دے سکتا۔شیری رحمن نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ اس دورے کے دوران کوئی اونچ نیچ نہ ہوجائے کیونکہ، بقول ان کے صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم عمران خان دونوں غیر یقینی شخصیت کے مالک ہیں۔انہوں نے کہا کہپاکستانی وزیر اعظم کا یہ دورہ ذاتی نوعیت کا ہے کیونکہ یہ امریکہ محکمہ خارجہ کے ذریعے طے نہیں ہوا۔ اورسعودی عرب نے وائٹ ہاؤس پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے رکھوایا ہے۔شیری رحمن نے کہا کہ پاکستان افغانستان سے اتحادی فوجوں کے انخلا کے نتیجے میں قربانی کا بکرا بننے سے کیسے بچے گا؟ اس پر پارلیمان کو بریفنگ نہیں دی گئی، نہ ہی ہم نے یہ سنا ہے کہ حکومت ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر چابہار بندگاہ کی طرح پابندیاں اٹھوانے کی کوئی بات کرے گی۔پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ امریکی قیادت کے سامنے پاکستان کا مقدمہ کیسے پیش کرنا ہے؟ اس بارے حکومت نے ان کی جماعت کو نہ تو اعتماد میں لیا نہ ہی حمایت چاہی اور وہ حکومت سے اس بارے میں اس لئے بھی بات نہیں کر سکتیں کیونکہ اگر وہ بات کریں تو کہا جاتا ہے کہ اپوزیشن این آر او مانگ رہی ہے۔

loading...