جمعہ‬‮ ، 01 مئی‬‮‬‮ 2026 

وزیر اعظم کا دورہ امریکہ،پاکستان سے کون کون سے مطالبات کئے جائیں گے؟امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر شیری رحمن نے عمران خان کوخبردارکردیا

datetime 21  جولائی  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمن نے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے حوالے سے کہا ہے کہ حکومت پارلیمنٹ سے رائے لینے اور دوسری جماعتوں کی شراکت داری سے مستفید ہونے کیلئے قطعاً تیار نہیں،پاکستان کے آدھے پارلیمان کو دیوار سے لگا کر حکومت ملک کا مقدمہ کیسے لڑے گی، امریکہ چاہے گا پاکستان سے امن عمل کے استحکام کی ضمانت لے، پاکستان کسی قسم کی ضمانت نہیں دے سکتا،صدر ٹرمپ اور

وزیر اعظم عمران خان دونوں غیر یقینی شخصیت کے مالک ہیں، خدشہ ہے دورے کے دور ان کوئی اونچ نیچ نہ ہوجائے۔ امریکی ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت پارلیمان سے رائے لینے اور دیگر جماعتوں کی شراکت داری سے مستفید ہونے کے لئے قطعاً تیار نہیں ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ حکومت سمجھتی ہے کہ انہیں طاقتور حلقوں کی حمایت حاصل ہے لہٰذا کسی اور سہارے کی ضروت نہیں،یہ عمران خان کی خوش قسمتی ہے کہ عسکری قیادت اور حکومت ایک صفحے پر ہیں۔ شیری رحمٰن نے کہا کہ حکومت اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ جارحانہ رویہ رکھے ہوئے ہے، اور یہ کہ پاکستان کے آدھے پارلیمان کو دیوار سے لگا کر حکومت ملک کا مقدمہ کیسے لڑے گی؟شیری رحمن نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے پاکستانی قیادت کا دورہ ایک ہی زاویے سے دیکھتے ہوئے رکھا گیا ہے اور وہ یہ کہ امریکی فوج کا افغانستان سے باعزت انخلا کیسے ممکن ہوگا، جس کے لئے واشنگٹن کی جانب سے ڈو مور کی مانگ ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے طالبان کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھانے میں معاونت کی،اب امریکہ چاہے گا کہ امن عمل کے استحکام کی ضمانت لے۔ لیکن، پاکستان اس عمل میں کسی قسم کی ضمانت نہیں دے سکتا۔شیری رحمن نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ اس دورے کے دوران کوئی اونچ نیچ نہ ہوجائے کیونکہ، بقول ان کے صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم عمران خان دونوں غیر یقینی شخصیت کے مالک ہیں۔انہوں نے کہا کہ

پاکستانی وزیر اعظم کا یہ دورہ ذاتی نوعیت کا ہے کیونکہ یہ امریکہ محکمہ خارجہ کے ذریعے طے نہیں ہوا۔ اورسعودی عرب نے وائٹ ہاؤس پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے رکھوایا ہے۔شیری رحمن نے کہا کہ پاکستان افغانستان سے اتحادی فوجوں کے انخلا کے نتیجے میں قربانی کا بکرا بننے سے کیسے بچے گا؟ اس پر پارلیمان کو بریفنگ نہیں دی گئی، نہ ہی ہم نے یہ سنا ہے کہ حکومت ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر چابہار بندگاہ کی طرح پابندیاں اٹھوانے کی کوئی بات کرے گی۔پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ امریکی قیادت کے سامنے پاکستان کا مقدمہ کیسے پیش کرنا ہے؟ اس بارے حکومت نے ان کی جماعت کو نہ تو اعتماد میں لیا نہ ہی حمایت چاہی اور وہ حکومت سے اس بارے میں اس لئے بھی بات نہیں کر سکتیں کیونکہ اگر وہ بات کریں تو کہا جاتا ہے کہ اپوزیشن این آر او مانگ رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص


میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…