ایسے اقتدار سے قید اچھی۔عوام کا وزیر اعظم ہوتا تو وفد کا سربراہ بن کے وفد کو لیڈ کرتا،مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان کے بارے میں سنگین دعویٰ کردیا

  ہفتہ‬‮ 20 جولائی‬‮ 2019  |  22:51

لاہور(این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ بھی امریکہ کے وفد میں شامل ہے نا؟۔ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں مریم نواز نے کہاکہ عوام کا وزیر اعظم ہوتا تو وفد کا سربراہ بن کے وفد کو لیڈ کرتا۔ جینا ذلت سے ہو تو مرنا اچھا، ایسے اقتدار سے قید اچھی۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ فورنزک میں جج صاحب کی ویڈیو درست ثابت ہونے کے بعد اعلیٰ عدلیہ سے گزارش ہے کہ اس کا نوٹس لے اور فیصلے کو کالعدم


قرار د ے کر نواز شریف کو با عزت بری اور عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال کرے،کسی میں اتنی جرات نہیں کہ مریم نواز سے رابطہ کرے،مریم نواز کسی رابطے کا جواب دے گی اور نہ ڈیل کرے گی، ادھراُدھر سے پیغامات آتے رہتے ہیں لیکن اس کا جواب دینا آپ کی اپنی صوابدید ہوتی ہے، عمران خان کے ساتھ ساری عسکری قیادت ساتھ گئی ہے،عمران خان سلیکٹڈ کو وہ ساتھ لے کر گئے ہیں یا وہ اس کے ساتھ گئے ہیں، اس کی اتنی حیثیت نہیں کہ اکلوتا پاکستانی قوم کی نمائندگی کر سکے، دنیا کو معلوم ہے کہ کس سے بات کرنی ہے اور سلیکٹڈ سے بات نہیں ہوتی، فیصل آباد ریلی کے اعلان کے ساتھ ہی ہمارے کارکنوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) بہت بڑی جماعت ہے، گرفتاریاں کر کے اس کے عزم کو متزلزل او رکمزور نہیں کر سکتیں۔ آپ پہلی لائن کی قیادت کو گرفتا ر کرینگے تو دوسری آ جائے گی اور اسے کریں گے تو تیسری آ جائے گی اور اس کے بعد عوام خود آ جائیں گے۔ مسلم لیگ (ن) بہت بڑی عوامی طاقت ہے اور اس کے آگے بند باندھنے کی کوشش بیک فائر کرے گی۔ انہوں چیئرمین سینیٹ کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ جو بھی غلط طریقے سے یا سازش سے کام ہوا ہے انشا اللہ اسے واپس ہونا ہے چاہے وہ آج ہو یا کل ہو۔ انہوں نے کہا کہ میں لاہور سے ریلی کی صورت میں فیصل آباد نہیں جاؤں گی بلکہ فیصل آباد سے ریلی کا آغاز ہوگا۔ میں تاجروں سے اظہار یکجہتی کے لئے فیصل آباد جار ہی ہوں۔انہوں نے جج کی ویڈیو کی فورنزک رپورٹ کے حوالے سے کہاکہ آج اللہ تعالیٰ کی مزید تعریف کرنی چاہیے،کہا جارہا تھا کہ یہ ویڈیو جعلی، جھوٹ اور ٹمپرڈ ہے لیکن آج انہوں نے خود بتا دیا ہے کہ کہ ویڈیو سچ ہے۔ بے گناہی کے باوجود بھی نواز شریف پابند سلاسل ہے اور یہ دنیا میں کی اپنا نوعیت کا واحد کیس ہے جس میں کسی ملک کا تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والا شخص جس کی بے گناہ بھی ثابت ہو جائے وہ حبس بے جا میں قید ہو۔ میں آج عدلیہ سے گزارش کرتی ہوں کہ اس کا نوٹس لے۔ جج صاحب کی ویڈیو فورنزک کے بعد سچ ثابت ہو گئی ہے اور اب کسی شک کی گنجائش باقی نہیں رہیاس لئے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے اور نواز شریف کو با عزت  بری کر کے عدالت آگے بڑھے اور عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال کرے۔ انہوں نے بیک ڈور رابطوں کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ نہ کسی میں اتنی جرات ہے کہ مریم نواز سے رابطہ کرے،مریم نواز کسی رابطے کا جواب دے گی او ر نہ ڈیل کرے گی۔ اگر ڈیل کرنی ہوتی تو نواز شریف بے گناہ ہونے کے باوجود جیل میں نہ ہوتے۔ ادھر ُادھر سے پیغامات آتے ہیں لیکن یہ آپ کی صوابدید ہے کہ آپ اس کا جواب دیتے ہیں یا نہیں۔ میں نے واضح کر دیا تھا کہ ڈیل کیلئے جن لوازمات کی ضرورت ہوتی ہے وہ سلیکٹڈ خان کے پاس ہیں۔ نواز شریف، مریم نواز یا مسلم لیگ (ن) جمہوریت کی پیٹھ میں چھرا گھونپے گی اور نہ عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائے گی،ہم اصولوں کاسودا نہیں کریں گے۔ انہوں نے اس سوال کہ حکومت کو ڈیل کے لئے باہر کے ممالک سے فون کرائے جاتے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عمران صاحب امریکہ کس کو ساتھ لے کر گئے گئے ہیں۔ ساری عسکری قیادت ان کے ساتھ گئی ہے۔ عمران خان سلیکٹڈ کو وہ ساتھ لے کر گئے ہیں یا وہ اس کے ساتھ گئے ہیں، اس کی اتنی حیثیت نہیں کہ اکلوتا پاکستان قوم کی نمائندگی کرے اور اسے لوگوں کو ساتھ لے جانا پڑتا ہے۔ دنیا کو معلوم ہے کہ کس سے بات کرنی ہے،دنیا سلیکٹڈ سے بات نہیں کرتی۔جو خود بے بس اور لا چار ہے اس سے کوئی کیوں رابطہ کرے گا۔ انہوں نے سنسر شپ کے حوالے سے کہا کہ اس حوالے سے بھی آوازیں آرہی ہیں یہ میڈیا کی کریڈیبلٹی کے لئے بھی اچھا نہیں اور اسے متاثر کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور سسٹم دو الگ الگ چیزیں ہیں اگر زبردستی مسلط کیا جائے گا تو حکومت چل نہیں سکے گی۔

موضوعات:

loading...