اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

جب فاروق اعظم ؓسے سوال ہوسکتا ہے تو زرداری ،نوازشریف ،عمران خان اور علی محمد خان سے کیوں نہیں ہوسکتا ،خواجہ آصف کی تنقید پر حکومتی وزیر کا جوابی وار

datetime 16  جولائی  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیر مملکت علی محمد خان نے مسلم لیگ (ن)کے خواجہ محمد آصف کو جواب دیتے ہوئے کہاہے کہ صحابہ ؓ سے سوال ہوسکتا ہے تو پھر ہم کیا ہے ؟وزیر اعظم عمران خان واشنگٹن میں سفارتخانے میں رہ سکتے ہیں تو یہ کیوں نہیں رہ سکتے تھے ؟ہم اپنے دس ماہ کا جواب دیں گے آپ اپنے 30 سال کے اقتدار کا جواب دو۔

منگل کو قومی ا سمبلی میں خواجہ محمد آصف کی تقریر کے جواب میں اظہار خیال کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہاک اپوزیشن ہم پر تو الزامات ایسے لگارہی ہے جیسے 35 سال یہ نہیں ہم اقتدار میں رہے ہوں ۔ انہوںنے کہاکہ ایک سابق وزیر اعظم نے سات کروڑ روپے عمرے پر اڑا دیئے ،لندن سے سٹوری آئی کہ زلزلے کے پیسے بھی ڈکار لئے گئے ،یہ کسی پاکستانی صحافی نے خبر نہیں دی ،جائیں لندن جاکر کیس کریں ۔علی محمد خان نے کہا کہ سرکاری خرچے پر دعوتیں اڑائی گئیں، شرم کی تو بات یہ ہے کہ سابق وزیراعظم کے عمروں کے پیسے بھی عوام نے دئیے۔ انہوں نے کہاکہ جب فاروق اعظم ؓسے سوال ہوسکتا ہے تو زرداری نوازشریف عمران اور علی محمد خان سے کیوں نہیں ہوسکتا ۔انہوں نے کہاکہ خواجہ آصف کہتے ہیں رہے گا نام نوازشریف کا ، میں کہتا ہوں یاد رکھو رہے گا نام اللہ کا اور پھر پاکستان کا ۔انہوں نے کہاکہ میں کابل میں سفارتخانے میں رہ سکتا ہوں ،وزیر اعظم واشنگٹن میں سفارتخانے میں رہ سکتے ہیں تو یہ کیوں نہیں رہ سکتے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ کیا ان مائوں کو چوکوں میں بھیک مانگنے پر عمران خان نے کھڑا کردیا ،کیا ان مائوں کو بھیک مانگنے پر ان 35 سال اقتدار میں رہنے والوں نے کھڑا نہیں کیا ،علی محمد خان نے چوکوں پر بھیک مانگتی مائوں کے لئے نظم کہہ دی کہاکہ ’’احتساب ہوگا سب کا ہوگا سب کا ہونا چاہئے ۔

پروڈکشن آرڈرز جاری ہونا چاہئے ،مگر پروڈکشن آرڈرز کے ساتھ ساتھ عوام کا بھی کوئی حق ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے دس ماہ کا جواب دیں گے آپ اپنے 30 سال کے اقتدار کا جواب دو، اگر خلیفہ وقت سے سوال ہوسکتا ہے تو پھر موجود حکمران کیا ہیں؟۔سابقہ حکمرانوں کے سرکاری دوروں پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے 20 اور سابق صدر آصف علی زرداری کے 48 ذاتی دوروں کا خرچہ سرکاری فنڈ سے دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…