کرایہ پر بحث و مباحثے کا خاتمہ،ٹیکسی گاڑیوں میں ”ڈیجیٹل میٹر“ لگوانے اور کرائے کے تعین کیلئے بڑا قدم اُٹھالیاگیا

  جمعرات‬‮ 23 مئی‬‮‬‮ 2019  |  23:18

اسلام آباد(آن لائن)اسلا م آباد ہائیکورٹ نے ٹیکسی گاڑیوں میں میٹر نہ لگا کر اجارہ داری قائم کرنے والے ڈرائیوروں کے حوالے سے وفاقی حکومت،سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو نوٹس جاری کرنے کے بعد ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبد الودود قریشی کی بہت بڑی کاوش ہے کہ انہوں نے عوامی اہمیت مسئلے کو اجاگر کیا۔جمعرات کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی عدالت نے ڈاکٹر عبدالودود قریشی کی جانب سے ٹیکسی گاڑیوں میں میٹر لگانے کے حوالے سے اشتیاق احمد مرزا ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر درخواست کی سماعت


کی،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار اپنی صحافتی پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں دنیا کے مختلف ملکوں میں آتے جاتے رہتے ہیں اور وہاں پر جو سب سے پہلا رابطہ ہوتا ہے وہ وہاں کی ٹیکسی سروس جیسی سہولیات سے ہوتا ہے اور ہر ملک میں ٹیکسی سروسز کے حوالے سے ایسے قوانین موجود ہیں کہ کوئی بھی ٹیکسی ڈرائیور   قوانین کی پامالی کا تصور بھی نہیں کرسکتا اور ٹیکسی ڈرائیوروں سے کرایہ پر کوئی بحث نہیں کرنا پڑتی مگر اسکے برعکس پاکستان میں سابقہ اور موجودہ حکومتیں سوئی ہوئی ہیں ٹیکسی ڈرائیوروں کے ہاتھوں عوام یرغمال بن چکے ہیں ہر ٹیکسی ڈرائیور منہ مانگے ریٹ مانگتا ہے اور اگر کبھی کوئی غیر ملکی انکے ہاتھوں چڑھ جائے تو اسکو کرایہ کے چکر میں زلیل و رسوا کر دیتے ہیں اور اس طرح وہ ہر نئے آنے والوں کو پاکستان کا منفی چہرہ دکھاتے ہیں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ متعلقہ اداروں کو خواب ِغفلت سے جگا کر اپنے قانونی فرائض سرانجام دینے کی درخواست کرتے ہوئے فوری طور پر تمام پبلک سیکٹر کی ٹیکسیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنی گاڑیوں میں ڈیجیٹل کرائے کے لیے میٹر لگائے مزید یہ کہ حکومت کو ٹیکسوں کے اوپر ایک ریگولیٹری اتھارٹی بنانی چاہیے تاکہ وہ پورے ملک کی ٹیکسیوں کو ایک نظام کے تحت منضبط کر سکے۔عدالت عالیہ نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔

موضوعات:

loading...