پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

پاکستان نے مشکلات میں گھرے سری لنکا کو بڑی خوشخبری سنادی ،ایسا اعلان کردیا کہ بھارتی شہری بھی دنگ رہ گئے

datetime 9  مئی‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی) اعلی تعلیم و تحقیق کی تکمیل کے لیے بڑی تعداد میں سری لنکن کے طلبہ و طالبات بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم جامعہ کراچی آئیں گے، یہ غیر ملکی طالب علم پاکستان سری لنکا ہائر یاایجوکیشن کوآپریشن پروگرام کی فراہم کردہ علامہ اقبال اسکالرشپ کے تحت آئیں گے۔ان خیالات کااظہار آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹرمحمد اقبال چوہدری اور پندرہ رکنی

سری لنکن وفدکے سربراہ ایڈیشنل سیکریٹری مدھاوا دیواسوریندرا نے ڈاکٹر پنجوانی سینٹر فار مالیکیولر میڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ جامعہ کراچی میں جمعرات کو منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ اجلاس میں سری لنکن ماہرین سمیت بین الاقوامی مرکز کے دیگرآفیشل بھی موجود تھے۔اس موقع پر پروفیسر اقبال چوہدری نے کہا کہ آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی تیسری دنیا کا ممتاز تحقیقی ادارہ ہے، بین الاقوامی سطح کا شماردنیا کے بہترین حیاتیاتی اور کیمیائی علوم کے اداروں میں ہوتا ہے جہاں دنیا بھر سے سائنسدان سائنسی و تحقیقی تربیت کے لئے پاکستان آتے ہیں، اس میں ڈاکٹر پنجوانی سینٹرفار مالیکیولر میڈیسن ا ینڈ ڈرگ ریسرچ، ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری اور لطیف ابراہیم جمال نیشنل سائنس انفارمیشن سینٹر جیسے معروف ادارے بھی شامل ہیں جبکہ مزید دس عمارتیں بھی ہیں جہاں جدید تجربہ گاہیں سرگرم ہیں ان تحقیقی اداروں کا حصہ ہیں۔ انھوں نے عوامی خوشحالی کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سائنسی و تحقیقی تعاون کے فروغ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔مدھاوا دیواسوریندرا نے بین الاقوامی مرکز میں جدید تحقیقی سہولیات اور پرسکون علمی و تحقیقی ماحول پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی مرکز سری لنکا کے طالب علموں کے واسطے مثالی درسگاہ ہے۔ سری لنکن وفد نے جو پروفیسر پی ایس ایم گونارتنے، پروفیسر ای ایم پی ایکنایاکے، پروفیسر ایف سی راجل، پروفیسر سنیل شنتھا، پروفیسر ایم ایم ایم نجیم، پروفیسر جے ایل رتھا سیکرا، ڈاکٹر سومیا لیانگے، ڈاکٹر اے پی مدوراپونوما، ریٹائرڈ میجرجنرل ملینڈا پیریس، ڈاکٹر ایس ایم محمد اسماعیل، پروفیسر پی کے ایس ماہانامہ، ڈاکٹر تھوسیتھا ایس ایل ڈبلیو، سید عبدالقدیر محمد زوہلے، اور ڈاکٹر آر جی اپالی راجاپاکشی پر مشتمل تھا بین الاقوامی مرکز کے دورے کے دوران ادارے میں موجود تحقیقی سہولیات کا جائزہ لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…