پی آئی اے یو نین دفتر سے بوگس ٹکٹ اور بورڈنگ پاس جاری کیے جانے کا انکشاف ، معاملہ ایف آئی اے کو بھجوادیا گیا 

  منگل‬‮ 12 فروری‬‮ 2019  |  20:47

اسلام آباد (این این آئی)سینٹ قائمہ کمیٹی ایوی ایشن کے اجلاس کے دور ان پی آئی اے یو نین دفتر سے بوگس ٹکٹ اور بورڈنگ پاس جاری کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد جعلی ٹکٹس اور بورڈنگ کا معاملہ ایف آئی اے کو بھجوادیا گیا ،کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں سی بی اے عہدیداروں کو طلب کر لیاجبکہ چیف ایگزیکٹو آفیسر ائیر مارشل ارشد ملک نے کہا ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک نئی قومی ہوا باز پالیسی کابینہ میں پیش کردی جائے گی ،پاکستان ایئر فورس سے سات افسران کو ڈیپیوٹیشن پر پی آئی اے

میں تعینات کیا جارہا ہے، کمیٹی نے پی آئی اے کے کسی بھی ملازم کو نوکری سے نہ نکالنے کی سفارش منظور کرلی ۔ منگل کو سینٹ قائمہ کمیٹی ایوی ایشن کا اجلاس چیئرمین مشاہد اللہ خان کی زیر صدارت ہوا ۔ چیئر مین نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کوبنیاد پی آئی اے ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کیا گیا۔چیئرمین نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ نوکریوں سے فارغ کرنا انتہائی اقدام ہے۔وفاقی وزیر ایوی ایشن محمدمیاں سومرو نے کہا کہ فراڈ اور جعل سازی کرنے والوں کیخلاف ایکشن لینا ضروری ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ڈیوٹی ٹائمنگ میں اضافے پر سی بی اے کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پی آئی اے قوانین میں سی بی اے کو بارگین کی اجازت دی گئی ہے۔چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کہا کہ پی آئی اے انتظامیہ نے سی بی اے کو فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔چیف ایگزیکٹو آفیسر آفیسر ائیر مارشل ارشد ملک نے کہاکہ کیبن کریو کی ڈیوٹی ٹائمنگ میں اضافہ نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ قانوانین کے تحت کیبن کریو 16 گھنٹے کرائی جا سکتی ہے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسرنے کہاکہ پہلے کیبن کریو میں 10 گھنٹے ڈیوٹی لی جاتی تھی۔چیف ایگزیکٹو آفیسرنے کہا کہ پی آئی اے کیبن کریو سے 14 گھنٹے ڈیوٹی لی جا رہی ہے۔شیری رحمن نے کہاکہ پی آئی اے کو کون چلا رہا ہے؟۔ ائیر مارشل ارشد ملک نے کہا کہ پی آئی اے کا 15 رکنی بورڈ پی آئی اے کو چلا رہا ہے۔اجلاس کے دور ان پی آئی اے یو نین دفتر سے بوگس ٹکٹ اور بورڈنگ پاس جاری کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔ ائیر مارشل ارشد ملک نے کہاکہ کراچی آفس سے جعلی شناختی کارڈز اور کمپیوٹر تحویل میں لے لیا گیا۔ایئر مارشل ارشد ملک نے کہاکہ جعلی ٹکٹس اور بورڈنگ کا معاملہ ایف آئی اے کو بھجوادیا ہے۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں سی بی اے عہدیداروں کو طلب کر لیا۔اجلاس کے دور ان پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی آمنے سامنے آگئے ۔ شیری رحمن ملک نے کہاکہ پی آئی اے میں کتنے لوگ ڈیپوٹیشن پر آئے؟وفاقی وزیر محمد میاں سومرونے کہا کہ پی آئی اے میں ایئر فورس سے 7 لاگ ڈیپوٹیشن پرلایا گیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈیپوٹیشن افسران کی تنخواہیں ایئر فورس ادا کر رہی ہے۔سینیٹر فیصل جاوید نے کہاکہ ایئر فورس کے افسران ادارے کی بہتری چاہتے ہیں۔سینیٹر فیصل جاویدنے کہاکہ ادارے کی بہتری کہتے خدمات دینا اچھی بات ہے۔سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے کہاکہ کچھ سیاسی جماعتیں نہیں چاہتی پی آئی اے بہتر ہو اور پی ٹی آئی کو ملے۔شیری رحمن نے کہاکہ سوال کرنا ہمارا حق ہے۔شیری رحمان نے کہا کہ ہماری نیت پر شک کیوں کیا جارہا ہے۔شیری رحمان نے کہا کہ ہماری نیتوں پر۔شق کرنا بالکل غلط ہے۔ائیر مارشل ارشد ملک نے کہا کہ جعلی ڈگری کی تحقیقات 2006 میں شروع ہوئی۔ایئر مارشل ارشد ملک نے کہاکہ 15 سال گزرنے کے باوجود ویری فکیشن نہیں ہو سکی۔ایئر مارشل ارشد ملک نے کہاکہ پی آئی اے ڈگریوں کی ویری فکیشن میں ملازمین نے جعل سازی کی۔ایئر مارشل ارشد ملک نے کہاکہ ایسی ویری فکیشن بھی سامنے آئیں جن کا ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ایئر مارشل ارشد ملک نے کہا کہ پی آئی اے میں بلک کے حساب سے لوگوں کو بھرتی کیا گیا۔ چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ جعلی ڈگری پرپائلٹس کو لائسنس دینے والوں کیخلاف کاروائی کیوں نہیں کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کسی کے چولہے نہ بجھیں۔چیئر مین نے کہا کہ رولز کے مطابق جعلی ڈگری پر اور سزائیں بھی دی جا سکتی تھیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں