اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

یوم آزادی نہ منانے کا اعلان، مولانا فضل الرحمان کے بیان اور شہباز کی جانب سے اسکی تائید مہنگی پڑ گئی، پیپلزپارٹی کے اپوزیشن اتحاد سے الگ ہونے سے متعلق حیرت انگیز دعویٰ کردیاگیا

datetime 10  اگست‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی) تحریک انصاف کے مرکزی رہنما میاں محمودالرشید نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم اور پنجاب میں وزیراعلیٰ کے انتخاب میں حزب اختلاف کے بنچوں سے بھی ووٹ ملیں گے، پیپلز پارٹی سپیڈ، ڈیزل اتحاد سے خود کو جلد الگ کر لے گی، یوم آزادی نہ منانے والوں کو ملک میں رہنے اور سیاست کرنے کا بھی کوئی حق نہیں، مولانا فضل الرحمان کے بیان اور شہباز کی جانب سے اسکی تائید دونوں قابل مذمت ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پنجاب پبلک سیکرٹریٹ میں ملاقات کیلئے آنے والے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ملاقات کرنے والوں میں بیرسٹر اسلم ضیغم، شفیق خادم ایڈووکیٹ، فاران مشتاق، محسن سلہری، نعمان رشید، اکمل خان و دیگر شامل تھے۔ اس موقع پر میاں محمودالرشید نے کہا کہ عمران خان ملک میں حقیقی تبدیلی لانے کیلئے پر عزم ہیں، ملک سے کرپشن، لوڈیشیڈنگ کا خاتمہ، بجلی پیداوار میں اضافہ، تعلیم اور صحت میں اصلاحات اور روایتی تھانہ کلچر ختم کر نیکا وقت آ گیا ہے، عمران خان ملک میں جو ٹرینڈ سیٹ کرنے جا رہے ہیں اس کے بعد اس نئے پاکستان میں پرانے اور کرپشن زدہ سیاستدانوں کی کوئی جگہ نہیں ہوگی، خوفزدہ لوگ صرف اپنی لوٹی دولت کو بچانے اور اقتدار میں ہر صورت رہنے کیلئے ایک ہو گئے، ہم پہلے دن سے ہی کہہ رہے ہیں کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اندر سے ایک ہیں اور آپس میں بار یاں لگا رکھی ہیں یہ پارٹنر شپ توڑنا صرف عمران خان کا کام تھا۔ میاں محمودالرشید نے کہا کہ پیپلز پارٹی زیادہ دیر تک اپوزیشن اتحاد میں نہیں رہ سکتی، کیونکہ ایک صوبے میں حکومت ہوتے ہوئے وفاق سے ٹکر خود پیپلز پارٹی سے بہتر نہیں ہوگی۔ انہوں نے اپوزیشن ارکان سے رابطوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم اور پنجاب میں وزیراعلیٰ کے انتخاب میں حزب اختلاف سے بھی ووٹ ملیں گے، پیپلز پارٹی سپیڈ، ڈیزل اتحاد سے خود کو جلد الگ کر لے گی۔ میاں محمودالرشید نے مزید کہا کہ یوم آزادی نہ منانے والوں کو ملک میں رہنے اور سیاست کرنے کا بھی کوئی حق نہیں، مولانا فضل الرحمان کے بیان اور شہباز کی جانب سے اسکی تائید دونوں قابل مذمت ہے۔



کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…