جتنی کرپٹ تحریک انصاف اور جتنے کرپٹ لوگ اس میں ہیں پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کا ایسا حال نہیں، عمران خان کے کزن حفیظ اللہ نیازی کپتان پر چڑھ دوڑے،شیخ رشید کو اہل قرار دینے پر عدالتوں کو ’’نازی کورٹ‘‘قرار دیدیا

  بدھ‬‮ 20 جون‬‮ 2018  |  16:18

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جتنی کرپٹ تحریک انصاف ہے اتنی شاید ہی پاکستان کی تاریخ میں کوئی جماعت ہوئی ہو گی، کرپشن اب تحریک انصاف کا ایشو نہیں رہا، جتنے کرپٹ سیاستدان تحریک انصاف میں آبیٹھے ہیں اتنے کسی سیاسی جماعت میں نہیں، شیخ رشید کو اہل قرار دینے اور شریف خاندان کے خلاف فیصلہ دینے پر عمران خان کے کزن اور معروف تجزیہ نگار حفیظ اللہ نیازی نےپاکستانی سپریم کورٹ کو ’’نازی کورٹ ‘‘قرار دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی کے پروگرام میں اینکر کامران شاہد کے سوال کا جواب دیتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے کزن


اور معروف تجزیہ نگار حفیظ اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ جتنی کرپٹ جماعت تحریک انصاف ہے شاید ہی پاکستان کی تاریخ میں کوئی جماعت ہوئی ہو گی۔ حفیظ اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ عمران خان کے پاس کرپشن کے خلاف کرنے کیلئے کیا ہے، فردوس عاشق اعوان، بابر اعوان، فواد چوہدری، علیم خان، نذر گوندل؟ان سب لوگوں پر کرپشن ہی کے تو چارجزہیں۔ تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن ہوئےاس سے متعلق جسٹس(ر)وجیہہ الدین رپورٹ دیکھ لیں ۔ اس میں کیا کہا گیا کہ پارٹی کے اندر پیسے چلیں ہیں، عمران خان نے اس رپورٹ کو اپروو کیا، اس کو نافذ کرتے ہوئے ان الیکشن کو کینسل کیا۔ مجھے بتایا جائے کہ تحریک انصاف میں کرپشن ایشو کیسے بن گئی؟کسی پارٹی کے اندر اتنی تعداد میں کرپٹ لوگ نہیں جتنے تحریک انصاف میں موجود ہیں۔ میرٹ پر میرے سوال کا جواب دیا جائے، نیب کے کیسز سب کے سامنے ہیں، نواز شہباز کو فی الحال ایک سائیڈ پر رکھا جائےکیونکہ اس کے حالات مختلف ہیں۔ جب یہ طے کر لیا جائے کہ کسی کو پارٹی میں نہیں لینا تو پھر نہیں لینا چاہئے۔ نواز شریف کو 2014سے لیکر آج تک جس طرح گھیر گھیر کر ہٹایا جا رہا ہےانہوں نے جو غلطیاں کی ہونگی وہ ان کی نظر میں ہونگی۔سلمان اکرام راجہ صاحب جو کہ پانامہ کیس میں نواز شریف کے وکیل تھے وہ دلائل کے ڈھیر بھی لگا دیتے فیصلہ وہی ہونا تھا۔ جرمنی میں ہٹلر کے دور حکومت میں نازی کورٹ موجود تھیںجو یہودیوں کے حوالے سے کیسز لکھ رہی ہوتی تھیں ویسے ہی سلمان اکرم راجہ نے نازی کورٹ میں دلائل دئیے۔کونسا ایسا عدالتوں کا کیس نہیں جس پر قوم تقسیم نہیں ہے،عدالتوں نے صحیح فیصلے دئیے ہونگے مگر قوم کی اس حوالے سے کیا رائے ہے؟میں یہاں دو مثالیں دینا چاہتا ہوں ، امریکہ میں دو کیسز ہوئے اوجی سمسن کا اس نے اپنی بیوی کو قتل کیا تھا مگر کورٹ نے اسے بری کر دیا، دوسرا جان ڈیلورین کا ہوا اس نے 25ملین ڈالر کی ڈرگ ٹریفکنگ میں رنگے ہاتھوں پکڑا گیا مگر عدالت نے چھوڑ دیا، اس حوالے سے امریکن سروے کروایا گیا ، 85فیصد لوگوں نے اوجی سمسن کو قاتل اور جا ن ڈیلورین کو قصور وار قرار دیا ۔ پاکستان کے اندر کیا ہوا ہےکیا ایک جیسا انصاف سب کے ساتھ نہیں ہونا چاہئے؟شیخ رشید کو تو چھوڑ دیا گیا جبکہ شریف خاندان اور ان کا ایک ہی جیسا کیس تھا۔ آج جب بابر اعوان تحریک انصاف کا عدالتوں میں دفاع کر رہے ہوتے ہیں تو ان کا ایک کلپ آج کل انٹرنیٹ پر وائرل ہوا ہے جس میں ان کی پوزیشن تحریک انصافکے حوالے سے آج سے مختلف تھی۔ یعنی نہ کوئی ایتھکس ہیں ، اخلاقیات نہیں ہیں ۔ میں یہ کہوں گا کہ جتنی کرپشن تحریک انصاف جذب کر چکی ہے اپنی تمام روح کے ساتھ ایسا حال پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کا نہیں۔ آج جو جماعت کرپشن کیخلاف اور انصاف کیلئے میدان میں اتری تھی وہ ان دونوں چیزوں سے فارغ ہو چکی ہے۔

موضوعات:

loading...