امجدصابری نے قتل سے قبل پولیس کو کیا شکایت کی تھی؟ تفصیلات سامنے آگئیں

  بدھ‬‮ 22 جون‬‮ 2016  |  23:20

کراچی (این این آئی) کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے معروف قوال امجد صابری کو دھمکیاں دیئے جانے کا انکشاف ہوا ہے جس کی شکایت انہوں نے پولیس حکام کو بھی دی لیکن کسی نے سیکورٹی فراہم کرنے کے بجائے اسے وہم قرار دیا اور امجد صابری کو تسلی دی کہ آپ ہر دلعزیز شخصیت ہیں۔ آپ کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ایس پی لیاقت آباد نے بھی امجد صابری کو تین سے چار ہفتوں سے مسلسل دھمکیاں ملنے کی تصدیق کردی۔ رپورٹ کے مطابق امجد صابری گزشتہ دنوں ایک غیر ملکی کنسرٹ پر گئے تھے اور غیر ملکی کنسرٹ پر جانے کے بعد وہ واپس پاکستان آئے تو اس کے بعد سے انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں جس کی انہوں نے متعلقہ تھانے اور ایس ایس پی کینٹ کو بھی شکایت کی تھی تاہم ان کو دی جانے والی دھمکیوں کا کسی نے بھی نوٹس نہیں لیا۔ ایس ایس پی لیاقت آباد نے بتایا کہ امجد صابری نے شکایت کی تھی کہ کچھ لوگ میرا پیچھا کررہے ہیں اور فون پر دھمکیاں دی جارہی ہیں تاہم پولیس نے انہیں تسلی دی کہ وہ اخلاقی طور پر اچھی شخصیت ہیں اور ان کے والد نے بھی علاقے میں اچھا وقت گزارا ہے جس کی وجہ سے ان کی کسی کے ساتھ بھی دشمنی نہیں ہے۔ لہٰذا انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ایس ایس پی لیاقت آباد نے مزید کہا کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ امجد صابری کی جانب سے شکایت کئے جانے کے باوجود انہیں سیکورٹی کیوں فراہم نہیں کی گئی۔



زیرو پوائنٹ

سانو۔۔ کی

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎