منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات: جوڈیشل کمیشن نےکارروائی روک دی

datetime 27  مئی‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی حکومت کی جانب سے عدلیہ اور ججوں سے متعلق مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی انکوائری کمیشن نے عدالت عظمیٰ کی جانب سے گزشتہ روز جاری کیے گئے احکامات کی روشنی میں مزید کارروائی روک دی۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس کمیشن کی تحقیقات کے لیے تشکیل دئیے گئے کمیشن کا نوٹی فکیشن معطل کرتے ہوئے 31 مئی کو اگلی سماعت کے لیے اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کردئیے تھے۔آڈیو لیکس معاملے پر انکوائری کمیشن ایک سماعت کر چکا ہے، کمیشن نے آڈیوز میں شامل چار افراد کو طلب کر رکھا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن میں اسلام آباد ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز عامر فاروق اور نعیم افغان کمیشن کا حصہ ہیں۔اجلاس کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب میرا خیال ہے کہ کوئی عدالتی حکم آیا ہے، کیا آپ کے پاس عدالتی حکم کی کاپی ہے۔اٹارنی جنرل نے کمیشن کو سپریم کورٹ کے حکم کی کاپی فراہم کی اور گزشتہ روز کا عدالتی حکم پڑھ کر سنایا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ انکوائری کمیشن کو سماعت سے قبل نوٹس ہی نہیں تھا تو کام سے کیسے روک دیا، سپریم کورٹ رولز کے مطابق فریقین کو سن کر اس کے بعد کوئی حکم جاری کیا جاتا ہے۔

جسٹس قاضی فائز نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کیوں گزشتہ روز کمرہ عدالت میں تھے، نوٹس تھا یا ویسے بیٹھے تھے، مجھے زبانی بتایا گیا کہ آپ عدالت میں پیش ہوں، سماعت کے بعد مجھے نوٹس جاری کیا گیا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالتی حکمنامے کی کاپی مہیا کی جائے، تھوڑا بہت آئین میں بھی جانتا ہوں، آپ نے گزشتہ روز عدالت کو بتایا کیوں نہیں ان کے اعتراضات والے نکات کی ہم پہلے ہی وضاحت کر چکے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عابد زبیری اور شعیب شاہین نے آج آنے کی زحمت بھی نہیں کی، کیا انہیں آکر بتانا نہیں تھا کہ کل کیا آرڈر ہوا، کیا شعیب شاہین نے کل یہ کہا کسی کی بھی آڈیو آئے، اس جج کا معاملہ سیدھا سپریم جوڈیشل کونسل بھیج دو، درجنوں ایسی شکایات آتی ہیں کیا ٹھیک کر کے سپریم جوڈیشل کمیشن بھیج دیا کریں؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آڈیو کی صداقت جانے بغیر کیا کسی کی زندگی تباہ کر دیں، کس نے آڈیو ریکارڈ کی وہ بعد کی بات ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے ٹیلی فون پر عدالت پیش ہونے کا کہا گیا تھا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ قواعد کے مطابق فریقین کو پیشگی نوٹسز جاری کرنا ہوتے ہیں، کمیشن کو کسی بھی درخواسگزارا نے نوٹس نہیں بھیجا، سپریم کورٹ کے رولز پر عملدرآمد لازم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…