جب تک نواز شریف سے معافی نہیں مانگی جائے گی نواز شریف واپس نہیں آئے گا ، سزا دلوانے والوں کو معافی مانگنا پڑے گی ، جاوید لطیف

  اتوار‬‮ 22 جنوری‬‮ 2023  |  17:50

لاہور(این این آئی)وفاقی وزیر و پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختوانخواہ میں انتخابات کے لئے شیڈول کا اعلان ہوتے ہی نواز شریف اپنی وطن واپسی کی تاریخ کا اعلان کر دیں گے، نواز شریف نے ریاست اور قوم کے لئے بہت قربانیاں دیں مگر ان قربانیوں کا صلہ جو قوم اور ریاست کو ملنا چاہیے تھا وہ ضائع کیا گیا،نواز شریف اب قربانی نہیں دے گا،

جو نواز شریف سے زیادتی ہونے کا اقبالی جرم کر رہے ہیں ضروری ہے کہ ان پانچ کرداروں کو کٹہرے میں لایا جائے،ان کو عبرت کو نشان بنا کر نواز شریف کو واپس لانا ہوگا، بتایا جائے کہ نواز شریف قوم کا محسن ہے اورہم سے غلطی ہوئی، نواز شریف پر الزامات واپس لے کر ان سے معافی مانگ کر واپس لانا ہوگا، آج شخص کو مقبو ل دکھایا جارہا ہے وہ عوام اور ریاست کی تو ہرگز ضرورت نہیں پھر وہ کس کی ضرورت ہے، عمران خان نے اتنا گند ڈال دیاہے کہ سارے حقائق سامنے لا کر ہم انتخابات میں جارہے ہیں،ہم نے قومی مفاد میں خاموشی اختیار کی تھی مگر وہ قومی مفاد میں ثابت نہیں ہوئی تو اب ہم نے سارے کا سارے سبق قوم کو سنانا ہے،جنرل (ر)باجوہ، جنرل (ر) فیض حمید، جسٹس (ر) ثاقب نثار،جسٹس (ر) سعید کھوسہ اور عمران خان اتحادی ہیں،یہ بینفشری ہیں،پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کرنے والے یہی لوگ ہیں،انہوں نے پاکستان کو اس حالت پر پہنچایا ہے۔پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جاوید لطیف نے کہا کہ پاکستان کے اندر مقبول لیڈر شپ کو راستے سے ہٹانے کی کب کب اور کیوں سازش ہوتی ہے یہ قوم کو بتانے کی ضرورت ہے۔2011میں ایک مقبول جماعت کے لیڈر کو راستے سے ہٹانے کی جو منصوبہ بندی کی گئی وہ جنرل حمید گل نے کی اور عمران خان کو صورت میں لانچنگ کی گئی،2014میں قوم نے ایک دوسری جھلک دیکھی اورجو سرپرستی کر رہا تھا وہ بھی سب کے علم میں ہے،2017ء میں ایک ترقی کرتا اور پھلتا پھولتا پاکستان 2011کی لانچنگ کی تکمیل کے لئے اورخواہش پوری کرنے کے لئے اس نہج تک پہنچا دیا گیا کہ آج مہنگائی کے حوالے سے سفارتکاری اخلاقیات اور معاشی تباہی حوالے سے سب دیکھ رہے ہیں، یہ سلسلہ کب تک چلے گا

اور کیا نواز شریف بار بار قربانی دیتا آئے گا،نوازشریف نے اپنی قربانی اپنی ذات کی تکلیفیں بھلا کر آگے بڑھنے کی بات کی لیکن کوئی گارنٹی نہیں لی اور نہ آج گارنٹی چاہتے ہیں،مگر کیا یہ سلسلہ رک گیا ہے نہیں رکا،کیا مجرموں کے اقبالی جرم کے بعد بات ختم ہو گئی، جب ہم 2017ء کے بعد کہتے تھے کہ ایک ٹروتھ کمیشن بنایا جائے لیکن آج بات اس سے آگے نکل گئی ہے۔

جب اقبالی جرم سامنے آگیا ہے تو پھر اس کے بعد کیا باقی دیکھنا ہے۔ 23نومبر2022تک کھلے عام سہولت کاری کی جاتی رہی، سرپرستی کرنے والوں نے ایک نیا روپ دھار کر کے نورا کشتی شروع کی اور وہ نورا کشتی اس شخص سے مل کر کی اور کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ساری دنیا کہہ رہی ہے آپ حکومت نہ لیتے تو اس شخص کو کوئی امیدوار نہ ملتا پھر کوئی بتائے

جو میں نورا کشتی کی بات کر رہا ہوں اسے دوبارہ سے قابل قبول بنانے کیلئے ملک کو اس حالت تک پہنچا دیا جو پاکستان سے محبت کرنے والی قیادت ہے اس نے ملک کو نازک حالت میں دیکھ کر ایک بار پھر اپنا کندھا پیش کیا اور اس کے ذریعے عبادت قوم اور ریاست کی خدمت کی۔

جو لانچ کرنے والے تھے انہوں نے اس سے بھی ایک فائدہ اٹھایا اور 23نومبر تک براہ راست اے پولیٹیکل سرپرستی کرتے آئے۔منصوبہ سازی کر کے صرف اس کو لانچ نہیں کیا گیا بلکہ اس کو چلاتے بھی رہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا اس وقت کے اسٹیبلشمنٹ کے چیف کو علم نہیں تھاکہ یہ سازشی خط جھوٹا ہے اس وقت قوم کو واضح طور پر کیوں نہ بتایا گیا،

کیا انٹیلی جنس اداروں کے لوگ جن کا وہ سربراہ تھا کیا اس کو بتا نہیں رہے تھے کہ 2011اور2018 میں اسے لانچ کیا جارہا تھا۔ عمران خان کے بقول جنرل باجوہ مجھے کہتے تھے کہ یہ پلے بوائے ہے،کیا انہیں 2018ء میں پتہ نہیں تھا یہ پلے پوائے ہے جو آج پتہ چلا،آج کیا باتیں کی جارہی ہیں پنکی پیرنی نے فرح گوگی نے کرپشن کی، اس سے پہلے یہ خود لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالتا تھا،

اس وقت کے انٹیلی جنس ادارے کہاں تھے جب اسے لانچ کیا جارہا تھا یا جب اسے 2018میں کرسی پر بٹھایا جارہا تھا مگر آج ایک اور شکل میں اس کو صادق اور امین بنایا جارہا ہے۔یہ سرٹیفکیٹ دیتے ہوئے جسٹس (ر)ثاقب نثار کے علم میں نہیں تھا کہ یہ پلے بوائے ہے،کیا سعید کھوسہ صاحب کے علم میں نہیں تھا جس کی وہ سرپرستی کر رہے ہیں وہ پلے بوائے ہے، کیا اس ملک اور قوم سے بار بار مذاق کیا جاتا رہے گا۔

انہوں نے کہاکہ نوازشریف کی بار بار قربانی سے ملک پٹڑی پر چڑھ سکتا ہے تو ہم یہ قربانی بار بار دینے کے لئے تیار ہیں مگر اب یہ نہیں ہو رہا، ان قربانیوں سے بھی ملک نہیں چل رہا کیونکہ جس طرح ڈبو دیا گیا اور پاکستان کی قوم کو یہ منہ میں زبان دے دی گئی کہ بتایا جائے سات،آٹھ ماہ میں مہنگائی کیوں بڑھی،معیشت کیوں نہیں سنبھل رہی،ڈالر کیوں نیچے نہیں آرہا تو یہ ہمت بھی دیں کہ

اس کے پیچھے ذمہ دار کون ہے۔دوضمنی انتخابات میں جس طرح سہولت کار فیض عام کر رہے تھے اور نتائج لے رہے تھے اور وہ فیض عام آج بھی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ اسے آج بھی ساڑھے تین تین گھنٹے میڈیا پر دکھایا جاتا ہے کہ وہ اتنا جھوٹ بولے کہ جو لوگوں کے ذہنوں پر اثر کرجائے سہولت کاری او رکس کو کہتے ہیں۔اس کے زیر التواء کیسوں کا فیصلہ اب تک کیوں نہیں ہو رہا،

کیا توشہ خانہ،فارن فنڈنگ اور اس کی بیٹی کا کیس التواء میں نہیں۔ وہ آکر کہہ دے یہ میری بیٹی نہیں ہے یا میری بیٹی ہے کوئی ایک بات تو ہے۔میاں جاوید لطیف نے کہا کہ اب نواز شریف قربانی نہیں دے گا۔،نواز شریف نے ریاست اور قوم کے لئے بہت قربانیاں دیں مگر اس کی قربانیوں کا صلہ جو قوم کو ملنا چاہیے تھا ان کو ضائع کیا گیا۔ آج وقت جو اقبال جرم کر رہے ہیں جو کردار 2017ء کے تھے

ان کے اقبال جرم کرنے سے ریاست کا قوم کا جو نقصان ہوا ہے اس کا مداوا نہیں ہو سکتا،اس کا مداوا ایسے ہے جب پاکستان نے آگے چلنا ہے جو انشا اللہ چلے گا اس کیلئے ضروری ہے کہ ان کو کٹہرے میں لایا جائے، خاص طو رپر پانچ کرداروں نے 2017ء میں کردر ادا کیا ان کی جیبوں سے پیسہ نکال کر پاکستان کے خزانے میں رکھ دیا جائے تو غیر مالیاتی اداروں سے نئے کڑی شرائط پر معاہدے کی ضرورت پیش نہ آئے،

ہم تو حساب دیتے آئے ہیں مگر خدا کے لئے یہ پانچ کردار ہیں جنہوں نے ریاست کو اخلاقی سفارتی طور پر معاشی طور پر مالی طور پر جتنا نقصان پہنچایا ہے اگر ان کی جیبوں سے پیسہ نکال لیا جائے تو پاکستان کو معاشی بھنور سے نکالا جا سکتا ہے۔نواز شریف کو تو بار بار احتساب کی چکی،میڈیا ٹرائل،عدالتی ٹرائل طاقتور حلقوں کے احتساب جوپسند اور نا پسند کی بنیاد پر خواہشات پر ہوتا تھا گزارا گیا۔

عمران خان کو اے پولیٹیکل ادارہ اگر 23نومبر 2022 تک سہولت نہیں دے رہا تو جسٹس شوکت صدیقی کے بقول دوسرے دو اداروں کا جو وہ ذکر کیا کرتے ہیں ان کی طر ف دیکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ نواز شریف کو ایسے ہی وطن واپس لایا جائے بلکہ نواز شریف کو جن جن کرداوں نے بدنام کیا،ریاست کو بدنام کیا قوم کو نقصان پہنچایا ان کو عبرت کو نشان بنا کر نواز شریف کو واپس لانا ہوگا،

قوم کو بتانا ہوگا کہ یہ قوم کا محسن ہے ہم سے غلطی ہوئی، قوم کو بتانا ہوگا کہ اس شخص نے قومی ہیرونے ملک کو ایٹمی قوت بنایا،معیشت کو سنبھالا اور سی پیک کا تحفہ دیا اور اس کو ہم نے اپنی خواہش پر نقصان پہنچایا،ڈاکو کہا غدار کہا مودی کا یار کہا اور یہ ساری باتیں واپس لے کر معافی مانگ کر واپس لانا ہوگا تاکہ پاکستانی قوم کا اعتماد بحال ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوئی نیا بیانیہ نہیں بنا رہے،

ہم بتائیں گے ہم قومی مفاد میں خاموشی کیوں اختیار کرتے ہیں،قومی مفاد میں یہ ہے کہ اب خاموش نہ رہا جائے بلکہ سارے کردار اور حقائق قوم کے سامنے بے نقاب کر دئیے جائیں اور پاکستان کی قوم اور ریاست کے مفاد میں ہے کہ سارے کا سارا سچ جو کہا کرتا تھے کہ قومی مفاد میں کچھ چیزیں نہیں بتانی چاہیے لیکن عمران خان نے اتنا گند ڈال دیاہے کہ سارے حقائق سامنے لا کر ہم انتخابات میں جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس دن پنجاب اور خیبر پختوانخواہ میں انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہوگا نواز شریف واپسی کی اسی دن تاریخ دیں گے۔ مریم نواز28جنوری کوبطور چیف آرگنائزر پاکستان مسلم لیگ (ن) آرہی ہیں اورہم ابتداکر رہے ہیں پاکستانی قوم کو جہاں سے ہم نے قومی مفاد میں خاموشی اختیار کی تھی مگر وہ قومی مفاد میں ثابت نہیں ہوئی تو اب ہم نے سارے کا سارے سبق قوم کو سنانا ہے وہ شروع کریں گے۔

میاں جاوید لطیف نے کہا کہ ہمارے کیس تو معاف نہیں ہوئے نہ ہم میں معافی مانگنے یا معافی لینے کا تصور ہے،ہماری سزائیں اسی طرح ہیں۔ سات، آٹھ ماہ ہم نے خاموشی اختیار کی لیکن دوسری طرف سے بے قرار ہو کرانہوں نے زبان کھولی جو نورا کشتی کر رہے تھے، ان کے مفادات ٹکرائے تو انہوں نے زبان کھولی اور ایک دوسرے کے خلاف کھولی تو یہ بھی نورا کشتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل (ر)باجوہ، جنرل (ر) فیض حمید، جسٹس (ر) ثاقب نثار،جسٹس (ر) سعید کھوسہ اور عمران خان اتحادی ہیں،یہ بینفشری ہیں پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کرنے والے یہی لوگ ہیں،انہوں نے پاکستان کو اس حالت پر پہنچایا ہے،یہ ایک دوسرے کی طرف گیند پھینک رہے ہیں، یہ ایک دوسرے کے خلاف تھے نہ ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کے مفادات جڑے ہیں

سب کو ایک دوسرے کے رازوں اور کمزوریوں کا علم ہے،ایک دوسرے کے خلاف سچ نہیں کہہ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ریاست اور قوم کے مفاد میں،ریاستی ادروں کو ریسکیو کرنے کیلئے جوسازشی لوگ اداروں میں بیٹھے تھے انہیں عوامی رد عمل سے بچانے کیلئے قصور اپنے سر لے لیا، جب انہوں نے کہا کہ ہم اے پولیٹیکل ہیں تو کارکنوں کو جدوجہد کا ثمر مل گیا۔جب تک ہم سب آئین قانون کے مطابق نہیں چلیں گے

یہ ریاست اس بھنور سے نہیں نکل سکتی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کوئی استعمال نہیں کر سکتا، ہم نے خوشی نے اپنی سیاست کی قربانی دی ہے،سیاسی جماعوں پر لازم ہے کہ جب ریاست کو ضرورت ہو تو اپنی سیاست کی قربانی دیدیں، ہم نے خاموشی رکھی کیونکہ اس کی وجہ بھی یہی تھی ملک کو معاشی طو رپر چیلنجز کا سامنا ہے، نگران سیٹ اپ مالیاتی ادارں سے بات نہیں کر سکے گا،

ہم ریاست کو مضبوط بنانے کے لئے ترقی کی پٹڑی پر چڑھانے کے لئے قربانی دے رہے ہیں۔انہو ں نے کہا کہ نواز شریف کے کیسز کا اب تمام کردار اعتراف کر چکے ہیں کہ ہم سے زیادتی ہوئی ہم نے دباؤ میں کام کیا، دباؤ ڈالا جب سارے کردار کہہ رہے ہیں پھر کیا درخواست دینے کی ضرو رت رہ گئی۔



زیرو پوائنٹ

اب تو آنکھیں کھول لیں

یہ14 جنوری کی رات تھی‘ پشاور کے سربند تھانے پر دستی بم سے حملہ ہو گیا‘ دھماکا ہوا اور پورا علاقہ لرز گیا‘ وائر لیس پر کال چلی اور ڈی ایس پی سردار حسین فوری طور پر تھانے پہنچ گئے‘ ان کے دو محافظ بھی ان کے ساتھ تھے‘یہ لوگ گاڑی سے اترے‘ چند قدم لیے‘ دور سے فائر ہوا‘سردار ....مزید پڑھئے‎

یہ14 جنوری کی رات تھی‘ پشاور کے سربند تھانے پر دستی بم سے حملہ ہو گیا‘ دھماکا ہوا اور پورا علاقہ لرز گیا‘ وائر لیس پر کال چلی اور ڈی ایس پی سردار حسین فوری طور پر تھانے پہنچ گئے‘ ان کے دو محافظ بھی ان کے ساتھ تھے‘یہ لوگ گاڑی سے اترے‘ چند قدم لیے‘ دور سے فائر ہوا‘سردار ....مزید پڑھئے‎