شہباز گل کی بات شاید ٹھیک نہ ہو مگر قانونی راستہ موجود ہے، اسد عمر

  بدھ‬‮ 10 اگست‬‮ 2022  |  10:32

اسلام آباد /لاہور(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل اسد عمر نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ شہباز گل نے جو بات کی ہو وہ ٹھیک نہ ہو تاہم واضح قانون موجود ہے، آپ عدالت کے سامنے جا کر مقدمہ بنائیں اور وہاں ان سے سوال کریں کہ آپ نے ایسا کیوں کہا؟،بندوق کی بٹ مار مار کر شیشے توڑ کر گاڑی سے نکال کر حراست میں لینا اور پرائیوٹ گاڑی میں لے جانا واضح کرتا ہے کہ یہ حکومت خود کو اندر سے کھوکھلا محسوس کررہی ہے، طاقت کے استعمال سے ان کی آخری پھڑپھڑاہٹ نظر آرہی ہے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کے حوالے سے ہم عدالت میں پٹیشن جمع کروا رہے ہیں جو اب تک جمع کروا دی جا چکی ہے، اس پٹیشن کے نکات بتانے سے پہلے میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ دونوں معاملات ایک دوسرت سے جڑے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسے سمجھنے کیلئے ہمیں گزشہ 4 مہینے کے واقعات کا جائزہ لینا پڑیگا جب ایک بند کمرے میں بیٹھ کر منصوبہ بنایا گیا اور حرام کے پیسوں سے لوگوں کے ضمیر خریدے گئے، بیرونی مداخلت سامنے آئی جس کی تصدیق سلامتی کونسل کی کمیٹی نے بھی کی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ان لوگوں کو لگا کہ جو کچھ یہ کرنا چاہ رہے تھے وہ انہوں نے یہ کرلیا تاہم مسئلہ یہ ہوا کہ عمران خان کی شکل میں اس بار ایک غیرت مند لیڈر اس سازش کے خلاف کھڑا ہوگیا اور اس کے ساتھ پاکستان کی پوری قوم بھی کھڑی ہوگئی۔اسد عمر نے کہا موجودہ صورتحال پیدا ہونے کی وجہ 17 جولائی کا دن ہے جب ضمنی انتخابات میں عوام نے اس مصنوعی امپورٹڈ نظام کو مسترد کردیا اور ان سے پنجاب کا اقتدار چھین لیا، اس کے بعد سے یہ کھلبلی مچی ہوئی ہے، یہ بوکھلاہٹ یکا شکار ہیں اور ان کو سمجھ نہیں آرہی کہ کس طرح اس کو روکا جائے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہوگئی ہے جو اب پاکستان کے پرانے روایتی سیاسی نظام کیلئے خطرہ بن گیا ہے،

اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے پہلے فرمائشی پریس کانفرنسیں کی گئیں جس کے بعد الیکشن کمشین کی ایک رپورٹ ہمارے سامنے آگئی جس کے بعد 18 سے 20 کانفرنسیں کرکے اس رپورٹ کی بنیاد پر طوفان کھڑا کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ صبح سے شام تک حکومتی نمائندوں نے محض فارن فنڈنگ پر پریس کانفرنسیں شروع کردیں جیسے اس ملک کو اور کوئی مسئلہ درپیش نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد 24 گھنٹوں کے دوران جو کچھ ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے، اے آر وائی کی نشریات معطل کی گئی،

آدھی رات کو ان کے سینئر وائس پریذیڈینٹ عماد یوسف کے خلاف ایف آئی آر کاٹی گئی اور رات ڈیڑھ بجے انہیں حراست میں لے لیا گیا، ان کے چیف ایگزیکٹو سلمان اقبال اور اینکرز کے خلاف بھی ایف آئی آر کاٹ دی گئیں۔اسد عمر نے کہا کہ صحافت کرنے والے دیگر افراد بھی یہ جانتے ہیں کہ یہ سلسلہ یہاں رکے گا نہیں، جو بھی آواز اٹھائے گا اور حقیقت سامنے لے کر آئے گا اس کے ساتھ بھی یہی ہوگا،

ایک ایک کرکے سب کی باری آنے والی ہے۔انہوں نے کہا کہ شہباز گل نے جو کہا ہوسکتا ہے آپ کو اس سے اتفاق نہ ہو کہ انہوں نے ٹھیک بات نہیں کی لیکن واضح قانون موجود ہے آپ عدالت کے سامنے جا کر مقدمہ بنائیں اور وہاں ان سے سوال کریں کہ آپ نے ایسا کیوں کہا، وضاحت طلب کریں، بندوق کی بٹ مار مار کر شیشے توڑ کر گاڑی سے نکال کر حراست میں لینا اور پرائیوٹ گاڑی میں لے جانا واضح کرتا ہے کہ یہ حکومت خود کو اندر سے کھوکھلا محسوس کررہی ہے، طاقت کے استعمال سے ان کی آخری پھڑپھڑاہٹ نظر آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ان شا اللہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے، آج چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اجلاس طلب کیا ہے جس میں آئندہ لائحہ عمل کا بھی اعلان ہوگا۔فوج پر تنقید کے حوالے سے سوال کے جواب میں اسد عمر نے کہا کہ فوج کے بارے میں پارٹی پالیسی واضح ہے، عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستان کے لیے اْن سے زیادہ پاکستان کی فوج ضروری ہے، ایک مضبوط فوج پاکستان کے لیے لازمی ہے

جس کو عوام کا اعتماد اور محبت حاصل ہو۔ایک سوال کے جواب میں اسد عمر نے کہا کہ بنی گالا میں پنجاب پولیس نہیں آ رہی، یہ ابھی تک محض ایک خبر ہی ہے جو میں نے ٹی وی پر ہی دیکھی ہے، عمران خان نے وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی کبھی بنی گالا کو اپنا کیمپ آفس نہیں بنایا، یہ روایت تو مسلم لیگ (ن) نے ہی ڈالی تھی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو اپنی طاقت کا اندازہ ہو گیا ہے، تمام سیاستدانوں اور تمام قوتوں کو واضح پیغام جا رہا ہے کہ پاکستان کے مستقبل کے فیصلے پاکستان کے عوام کریں گے،

کوئی اور نہیں کرے گا۔اسد عمر نے کہا کہ اب میں فارن فنڈنگ کیس کے نکات پر بھی بات کرلیتا ہوں جس سے الیکشن کمیشن اچھی طرح واقف ہے، ایک مقدمہ بنانے کی کوشش کا جارہی ہے کہ پاکستان کیلئے پی ٹی آئی ایک بہت بڑا خطرہ ہے جو ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔انہوں نے کہا کہ دوسری کوشش یہ کی جارہی ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اور فوج کے درمیان خلیج پیدا ہو،

یہ ان شا اللہ بری طرح ناکام ہوں گے، یہ خطرناک کوشش ایک جھوٹے بیانے پر مبنی ہے، 50 فالوورز والے لڑکے کی ایک غلط ٹوئٹ کو بڑی سازش بنا دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں میں فضل الرحمن، خواجہ آصف، مریم نواز، نواز شریف اور آصف زرداری کے بیانات اٹھا کر دیکھ لیں کہ کس کی سوچ فوج مخالف ہے، یہ سب پاکستان کے ریکارڈ میں موجود ہے اور سوشل میڈیا کے دور میں آج کل کچھ چھپتا نہیں ہے

انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت شہباز گل کو یہ حق حاصل ہے کہ انہوں نے جو کچھ کہا وہ اس کی صفائی پیش کر سکیں لیکن کیا آپ نے موجودہ وزیراعظم کے بڑے بھائی کا بیان نہیں سنا؟ کیا انہوں نے فوجی افسروں اور جوانوں کو باقاعدہ مخاطب کرکے حکم عدولی کرنے کو نہیں کیا تھا؟ کیا نواز شریف سے کسی نے سوال پوچھا؟ کیا ان کی ایف آئی آر کاٹی گئی؟ کیا ان کی گاڑی کے شیشے توڑ کر ان کو بھی اٹھا کر لے جایا گیا؟

جس چینل پر ان کے بیان چلے کیا ان چینل کو بند کیا گیا؟اسد عمر نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس میں 4 بنیادی خامیاں ہیں، پہلی یہ کہ اس میں حقائق جھوٹے ہیں، دوسرا یہ کہ اس میں پاکستان اور باہر کے ممالک کے قانون کی غلط تشریح کی گئی ہے، تیسرا یہ کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اس اختیار کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو اس کو حاصل ہی نہیں ہے ور چوتھی چیز یہ ہے کہ اس رپورٹ میں واضح جانبداری نظرآتی ہے

۔انہوں نے کہا کہ برسٹل انجینئرنگ ایک پاکستانی کی کمپنی ہے جبکہ رومیتا شیٹی نے ایک پاکستانی شہری سے شادی کر رکھی ہے جن کے ساتھ اْن کا جوائنٹ اکاؤنٹ ہے۔اسد عمر نے کہا کہ قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ بیرونِ ملک رجسٹرڈ پبلک یا پرائیوٹ کمپنی سے پیسے نہیں لے سکتے، بلکہ صرف ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بارے میں لکھا ہے

۔اْنھوں نے کہا کہ اس طرح کی فنڈنگ کو غیر قانونی قرار دے کر الیکشن کمیشن نے حقائق غلط پیش کیے ہیں جبکہ اس نے آئین کی تشریح کا سپریم کورٹ کا اختیار بھی استعمال کیا ہے۔اسد عمر نے کہا کہ طوفان مچایا گیا کہ عمران خان نے ضلط بیان حلفی دیا ہے جن کہ وہ بیان حلفی ہے ہی نہیں بلکہ سرٹیفیکیٹ ہے،

بیان حلفی وہ ہوتاہے جو اپنے آپ سے متعلق ہو، عمران خان نے جس سرٹیفیکیٹ پر دستخط کیے اس پر لکھا ہوا ہے کہ میری معلومات کے مطابق یعنی جو میرے پاس معلومات ہیں ان کے مطابق‘، قانون کے اندر کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اس سرٹیفیکیٹ کی بنیاد پر کوئی ایکشن لیا جائے۔



زیرو پوائنٹ

ہم کوئلے سے پٹرول کیوں نہیں بناتے؟

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎