بھارت نے27 اکتوبر 1947کو عالمی قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کشمیر پرناجائز قبضہ کیا‘ شہبازشریف

  بدھ‬‮ 27 اکتوبر‬‮ 2021  |  15:25

لاہور( این این آئی )پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر شہبازشریف نے بھارت کے خلاف یوم سیاہ پر مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ بھرپور یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 27 اکتوبر 1947کو عالمی قانون اور اصولوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بھارت نے جموں وکشمیر پرناجائز قبضہ کیا،یہ دن آج بھی عالمی ضمیر اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے لئے کھلا چیلنج ہے۔اپنے بیان میں شہبازشریف نے کہاکہ5 اگست 2019 کو بھارت نے دراصل 27 اکتوبر1947کے سیاہ دن کی تاریخ کوایک بار پھر دوہرایا ،بھارتی غیرقانونی اقدامات عالمی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی


ساکھ مجروح کرنے کا باعث ہیں ،بھارت کو جوابدہی کے کٹہرے میں کھڑا کئے بغیر اقوام متحدہ اور اس کا منشورمظلوم اور قابض افواج کا شکارعوام کے نزدیک محض ایک سنگین مذاق تصور ہوگا ،بھارت کی جموںوکشمیر کے عوام پر ظلم وبربریت اور نسل کشی نے ہٹلرکے مظالم کی سیاہ تاریخ زندہ کردی ہے ،اہل جموں وکشمیر کی جراتوں کو سلام ہے جن کے پایہ استقلال کو کوئی بھارتی ظلم متزلزل نہیں کرسکا ۔انہوںنے کہاکہ دنیا کی تاریخ میں حریت کا یہ منفرد باب اہل جموں وکشمیر نے اپنی عظیم قربانیوں سے رقم کیا ہے ،آج کے دن ہر پاکستانی اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں بہنوں کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کرتا ہے ،پاکستان کا عہد ہے کہ کشمیریوں کے حق آزادی کے حصول تک ان کی منصفانہ جدوجہد کا بھرپور ساتھ دیتے رہیں گے ،قیام پاکستان کے خواب کی تعبیر کی طرح جموں وکشمیر کی آزادی کا خواب بھی سچ ہوکر رہے گا ،آج کے دن کشمیری شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے آزادی کے حصول کے لئے اپنی جان بھی قربان کردی ،کشمیری قیادت کو بھی سلام ہے کہ انہوں نے قیدوبند کی ہر صعوبت برداشت کی لیکن آزادی کا پرچم سربلند رکھا۔


زیرو پوائنٹ

گوبر کے کیڑے

گوبر دیہات میں انرجی کا بہت بڑا سورس ہے‘ خواتین گائے اور بھینس کا گوبر جمع کرتی ہیں‘ اوپلے بناتی ہیں‘ دیواروں اور چھتوں پر چپکاتی ہیں‘ یہ دھوپ اور ہوا سے سوکھ جاتے ہیں اور اس کے بعد یہ چولہے میں جلانے کے کام آتے ہیں‘ میرا بچپن اوپلوں کے دھوئیں میں گزرا‘ گائوں میں دودھ کو اوپلوں کی ....مزید پڑھئے‎

گوبر دیہات میں انرجی کا بہت بڑا سورس ہے‘ خواتین گائے اور بھینس کا گوبر جمع کرتی ہیں‘ اوپلے بناتی ہیں‘ دیواروں اور چھتوں پر چپکاتی ہیں‘ یہ دھوپ اور ہوا سے سوکھ جاتے ہیں اور اس کے بعد یہ چولہے میں جلانے کے کام آتے ہیں‘ میرا بچپن اوپلوں کے دھوئیں میں گزرا‘ گائوں میں دودھ کو اوپلوں کی ....مزید پڑھئے‎