35 سے 40 لوگ دہشت گردی پھیلا رہے ہیں، مذمت کی تو مجھے دھمکیاں ملیں، ہزارہ برادری سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے حقیقت بیان کر دی

  ہفتہ‬‮ 9 جنوری‬‮ 2021  |  19:11

کوئٹہ(آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے سانحہ مچھ پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت ہے،کچھ دہشت گرد گروپوں اور داعش کا اتحاد ہوچکا ہے، بھارت کی ان گروپوں کی مدد کررہا ہے، بھارت نے پاکستان میں شیعہ سنی فسادات کرانے کی کوشش کی مگرہماری ایجنسیوں نے بھارتی عزائمکو ناکام بنایا،پیپلزپارٹی اور (ن)لیگ نے ماضی میں ملکی معیشت کو دیوالیہ اور قومی اداروں کو تباہ کیا،آج نوازشریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن سب بے شرم میرے خلاف متحد ہو چکے ہیں،ان کو خوف ہے کہ اگر میری حکومت پانچ سال مکمل


کرگئی تو ان کی سیاست ختم ہو جائیگی۔ وزیراعظم نے سانحہ مچھ کے لواحقین سے کہا کہ بھارت فرقہ وارانہ فسادات پھیلانا چاہتاہے، یہ واقعہ بڑی گیم کا حصہ ہے، دہشت گردی کرنے والے لوگوں کی تعداد 35 سے 40 ہے۔ جب ایک فرقہ پرست تنظیم پر تنقید کی تو مجھے دھمکیاں دی گئیں، وزیراعظم عمران خان نے سانحہ مچھ کے متاثرین سے ملاقات کے بعد ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافیوں اور ہزارہ کمیونٹی کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہزارہ برادری کے ساتھ ہونے والے ظلم پربہت دکھ اور افسوس ہے، ہزارہ کمیونٹی کی نسل کشی کی جارہی ہے، ہم ہزارہ برادری کی سیکیورٹی کے لیے بھرپور اقدامات کررہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت ہے، بھارت نے پاکستان میں شیعہ سنی فسادات کرانے کی کوشش کی، مارچ میں ہی کابینہ کو بھارت کی پاکستان میں فرقہ وارانہ تصادم کی کوششوں سے آگاہ کردیا تھا، کچھ دہشت گرد گروپوں اور داعش کا اتحاد ہوچکا ہے، داعش کو بھارت کی سپورٹ حاصل ہے، ہمارےخفیہ ادارے اور فوج بہترین ادارے ہیں، ہماری ایجنسیوں نے بھارتی عزائم کو ناکام بنایا، ہمارے اداروں نے فرقہ ورانہ تصادم کو روکنے کے لیے بہترین کام کیا۔وزیراعظم نے کہاکہ ہماری حکومت بلوچستان کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، بلوچستان کی تباہی میں وہاں کے سرداری سسٹم کا بھی کردار ہے، کم آبادی اورووٹوں کی وجہ سے ماضی کی حکومتوں نے بلوچستان پر توجہ نہیں دی، بلوچستان کی آبادی پنجاب کے فیصل آباد ڈویژن کی آبادی جتنی ہے، افغان جہاد ختم ہونے کے بعد عسکری گروہوں نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں مولانا عادل کا قتل بھی فرقہ وارانہ تصادم کو ہوا دینے کی کوشش تھی۔وزیراعظم نے کہاکہمیں نے فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے سعودی عرب اور ایران سے بھی بات کی ہے تمام مسلم ممالک کو فرقہ وارایت کیخلاف متحدہ ہونا ہوگا،اس پر پاکستان بھی اقدامات اٹھارہا ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ ترقیاتی فنڈز کی وجہ سے سردار امیر ہوگئے بلوچستان کے عوام غریب رہ گئے، جام کمال اچھے وزیراعلی ہیں،ہم ان کے ساتھ مل کربھرپور کام کررہے ہیں۔وزیراعظم نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ دو جماعتوں نے ملک اورقوم کی اخلاقی اقدار کو تباہ کیا، جب اخلاقی گراوٹ ہو تو ملک تباہ ہوجاتے ہیں، سب بے شرم میرے خلاف متحد ہو چکے ہیں،آج زرداری اورنوازشریف اکٹھے ہوچکے ہیں،یہ پہلی موومنٹ ہے جو کرپشن کے حق میں عوامکو باہرنکالنا چاہتی ہے، نوازشریف نے 2 بار زرداری کو جیل میں ڈالا،مجھ سے تحریری طور پراین آراومانگا گیا،ایف ای ٹی ایف کے معاملے پر مجھے بلیک میل کیا گیا،میں نے بلیک میلنگ میں آنے سے انکار کیا، ماضی میں ترقیاتی فنڈز سرداروں کے ذریعے جاتے تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بھر میں لوگ کرپشن کے خلاف نکلتے ہیںمگرپوری دنیا میں ان کی کرپشن کے چرچے ہیں، یہ انتہائی بے شرم لوگ ہیں۔وزیراعظم نے کہاکہ حکومتیں بدلتی رہیں لیکن مولانا فضل الرحمان ہر ایک کے ساتھ رہے، یہ پہلی اسمبلی ہے جو ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ جن چار حلقوں کا ہم نے مطالبہ کیا، ان چاروں میں دھاندلی ثابت ہوئی،ہم نے الیکشن کمیشن سمیت تمام فورمزسے رجوع کیا تھا،ہم نے چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا،مگر اپوزیشن دھاندلی دھاندلی کی رٹ لگارہے ہیں ان کے پاس دھاندلی کے ثبوت ہی نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی ملکی معیشت کودیوالیہ کرکے گئے، ہم نے پچھلی حکومتوں کا لیا گیا قرضہ واپس کیا، ہم نے دو برسوں میں 20 ارب ڈالر قرضہ واپس کیا۔انہوں نےکہاکہ عام آدمی کی مشکلات سے آگاہ ہوں،گھر پر مشکل وقت آئے تو سب گھر والے مشکل سے گزرتے ہیں، اپوزیشن نے ہماری حکومت بنتے ہی کہہ دیا کہ ملک تباہ ہو چکا، یہ جانتے تھے کہ ہم ملک کی معیشت اور ادارے تباہ کرکے جارہے ہیں، اپنی کرپشن اور لوٹ مارکو بچانے کیلئے اداروں پر دبا بڑھایا جارہا ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ پہلی مرتبہ جمہوری دور میں اداروں کو بدنام کیا جارہا ہے،یہ فوج سے کہہ رہے ہیں کہ ایک منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دو، اداروں پر حملے کرنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا، یقین رکھیں کہ فوج مخالف بیانات دینے والے تمام لوگوں کا علاج ہوگا۔وزیراعظم نے کہاکہ موجودہ حکومت نے 5 سال مکمل کیے تو ان کی سیاستختم ہوجائے گی۔وزیراعظم نے کہاکہ پولیس کو بدلنے کی کوشش کررہے ہیں، پنجاب میں پولیس اور بیوروکریسی سیاست زدہ تھی، ہم صرف کارکردگی چاہتے ہیں،جو کام نہیں کرے گا وہ تبدیل ہوگا، نئے سی سی پی او لاہورکو دیکھیں گے کہ وہ کیا کرتے ہیں، کارکردگی نہ دکھانے والوں کو تبدیل کیا جاتا رہے گا،ایسا منصوبہ لا رہے ہیں کہدنیا کے کئی ملک ہمیں فالو کریں گے۔انہوں نے کہاکہ ایک ایسا منصوبہ لا رہا ہوں کہ ملک میں کوئی بھوکا نہیں سوئے گا۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان ہفتہ کو سانحہ مچھ میں جاں بحق ہونیوالے کارکنان کے لواحقین سے ملاقات کیلئے اسلام آباد سے خصوصی طیارے کے ذریعے کوئٹہ پہنچے جہاں پر وزیراعلی بلوچستان، گورنر،چیف سیکرٹری، لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی، آئی جی بلوچستان پولیس سمیت اعلی سول و عسکری قیادت نے ان کا سادگی سے استقبال کیا۔بعدازاں وزیراعظم کی زیرصدارت اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کیدوران گورنربلوچستان امان اللہ یاسین زئی، وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان، چیف سیکرٹری بلوچستان،کمانڈرسدرنکمانڈ، آئی بلوچستان پولیس نے وزیراعظم کو سانحہ مچھ اور بلوچستان میں امن وامان کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے وزیراعظم کو صوبے کی سکیورٹی کی صورتحال سے متعلق خصوصی طورپر بھی آگاہ کیا اور امن وامان کے قیام کیلئے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کیکوششوں سے متعلق بریفنگ دی۔وزیراعظم نے سکیورٹی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اجلاس میں شرکت کے بعد وزیراعظم عمران خان سردار بہادر خان یونیورسٹی گئے جہاں پرانہوں سانحہ مچھ میں جاں بحق ہونیوالے افراد کے لواحقین،ہزارہ کمیونٹی کی جانب سے بنائی گئی شہدا کمیٹی کے اراکین سے ملاقات کی۔ملاقات کے دورانوزیراعظم عمران خان نے شہدا ئے مچھ کی مغفرت کیلئے فاتحہ خوانی کی اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔اس موقع پر شہدا کے ورثا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے شہدا کے لواحقین کہا کہ حکومت ان کے دکھ اور درد کی مشکل ترین گھڑی میں ساتھ کھڑی ہے،حکومت اور سکیورٹی ادارے واقعہ کی تحقیقات کررہے ہیں اور اسواقعہ میں ملوث ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور اس واقعے سے متعلق تمام حقائق بھی عوام کے سامنے لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہزارہ برادری کیساتھ جو ظلم ہوا س پر انتہائی افسوس اور دکھ ہوا، ہم ہزارہ کمیونٹی کو سکیورٹی کی سہولیات کی فراہمی کیلئے ہرممکن اقدامات اٹھائیں گے اور بلوچستان کے عوام کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

آخری موو

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎