اتوار‬‮ ، 12 جولائی‬‮ 2026 

پولیس سنگین جرائم کی تفتیش کیوں نہیں کر پاتی؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی پولیس کی رپورٹ پبلک کر دی

datetime 6  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد( آن لائن )پولیس سنگین جرائم کی تفتیش کیوں نہیں کر پاتی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی پولیس کی رپورٹ پبلک کر دی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا آئی جی پولیس کی رپورٹ کو درخواست میں تبدیل کر کے سماعت کے لئے مقرر کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ یہ آئینی عدالت ہے اور ان انکشافات پر آنکھیں بند نہیں رکھ سکتی۔

گزشتہ روز آئی جی اسلام آباد کی طرف سے تفتیش کے حوالے اور اس میں پیش آنے والے مسائل پر رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی ،رپورٹ کے مطابق لیبارٹری کو بھجوانے کے لیے شواہد کی پانچ ہزار روپے پارسل فیس تفتیشی افسر کو ادا کرنی پڑتی ہے، شواہد کی پارسل فیس نہیں ہونی چاہیے یا ادائیگی کی زمہ داری ضلعی انتظامیہ لے ،رپورٹ میں عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ جائے وقوعہ کے نقشہ بنوانے کے لیے پندرہ ہزار روپے تفتیشی افسر ادا کرتا ہے ،ایسا طریقہ کار وضح ہو کہ قتل یا دہشتگردی کے کیسز کا دو دن میں نقشہ بن جائے گرفتاری کے لیے چھاپہ مارنے کے لئے بھی پولیس کو فنڈز فراہم نہیں کئے جاتے، رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا کہ شواہد کو لیبارٹری معائنے کے لئے بھیجنے میں دو ماہ تک کا عرصہ لگ جاتا ہے،حکام بالا کی منظوری کے بغیر ہی شواہد فرانزک لیب کو بھیجنے کا اختیار تفتیشی افسر کو ملنا چائیے ،مدعی مقدمہ بھی کیس رجسڑڈ ہونے کے بعد تفتیش میں تعاون نہیں کرتے، تفتیش میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ اسلام آباد میں فرانزک لیب کا نہ ہونا بتایا گیا ہے، فرانزک لیب کی بھاری فیس بھی تفتیشی افسر جیب سے ادا کرتا ہے،رپورٹ میں عدالت کو بتایا گیا کہ ٹرائل میں تاخیر کی چھ بنیادی وجوہات ہیں،پولیس اہلکاروں کی اسپیشل ڈیوٹیاں بھی عدالتوں میں پیش نہ ہونے کی بنیادی وجہ ہیں اس کے علاوہ امن و امان اور وکلا کی ہڑتالیں بھی ٹرائل میں تاخیر کی وجہ ہیں،اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئی جی پولیس کی رپورٹ میں عوامی مفاد کے کئی اہم نقاط کی نشاندہی کی گئی ہے،عدالت نے حکم دیا کہ سیکرٹری داخلہ اور چیف کمشنر سمیت سب اس کیس میں فریق ہوں گے،عدالت نے رجسٹرار آفس کو حکم دیا کہ یہ مفاد عامہ کی بات ہے اس لیے اس رپورٹ کو درخواست میں تبدیل کر کے فوری سماعت کے لئے مقرر کریں ۔



کالم



سیٹی سے رزق کمانے والا انسان


بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…