پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

عثما ن بزدار وسیم اکرم پلس اور شیر شاہ سوری بھی قرار، وزیر اعلیٰ پنجاب کے ایک سال کے کارنامے سامنے آگئے

datetime 5  دسمبر‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی)صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار وسیم اکرم پلس اور شیر شاہ سوری بھی ہیں ، ایک سال کے عرصے میں پنجاب میں1500کلو میٹر سڑکیں بنائی گئی ہیں اور وزیر اعلیٰ کی واضح ہدایات ہیں کہ ہر چھ مہینے میں 1500کلو میٹر سڑکیں بنیں گی ۔

کاشانہ کی سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف اس شخص کی اہلیہ ہیں جو شہباز شریف کے ذاتی عملے کا رکن رہا ہے ، افشاں لطیف سائیکو کیس ہے اور اب معاملہ عدالت میں چلا گیا ہے تو وہاں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ پریس کانفرنس میں شیر شاری سوری کے حوالے کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ۔ میں نے کہا تھا کہ اگر جی ٹی روڈ اور مسافر خانے بنانے پر آج تک شیر شاہ سوری کا ذکر ہو سکتا ہے تو وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار نے ایک سال میں 1500کلو میٹر سڑکیں بنائی ہیں اور ان کی محکمہ سی اینڈ دبلیو کو ہدایات ہیں کہ ہر چھ مہینے میں 1500کلو میٹر سڑکیں بنیں گی ۔ اسی طرح پنجاب میں پہلی بار لنگر خانے، شیلٹرز ہوم، مسافر خانے اور پناہ گاہیں بنی ہیں اور اگر میں نے یہ مثال دی ہے تو کوئی غلط نہیں کیا اور اس پر قائم ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی ٹیکس کولیکشن میں 104فیصد اضافہ ہوا ہے اور عالمی دنیا میں قیادت کا یہ معیار ہے کہ وہاں ٹیکس ریکوری کی شرح کیا ہے ۔ ایک لاکھ 10ہزار کنال سرکاری اراضی وا گزار کرائی گئی ہے ، وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کے اخراجات میں کروڑوں روپے کمی کی گئی ہے، ایک سال میں 9 ہسپتالوں او ر9یونیورسٹیوں کی تعمیر کا آغاز ہو گیا ہے ۔

وزیر اعلیٰ عثمان بزدار وسیم اکرم پلس اور شیر شاہ سوری بھی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ ماہ میں حکومت کی کامیابیوں کو سامنے لانے میں کچھ کمزوریاں رہی ہیں لیکن مہینے کے اندر سارے اقدامات کو عوام کے سامنے لائیں گے او ریہ ہماری ذمہ داری ہے ۔ عثمان بزدار نے مختلف وزارتوں اور محکموں میں 500سے700انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں۔ کاشانہ ہوم کی سابق سپرنٹنڈنٹ کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈی جی ویلفیئر اور کاشانہ ہوم کی سپرنٹنڈنٹ کے درمیان جھگڑا ہوا اور انکوائری پر دونوں کو ذمہ دار قرار دے کر تبدیل کر دیا گیا ۔

ڈی جی افشاں ناز نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا جبکہ افشاں لطیف نے سرکاری نوٹیفکیشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چارج چھوڑنے سے انکار کر دیا اور دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی انسپکشن ٹیم اور سوشل ویلفیئر میں دو انکوائریاں ہوئیں اور دونوں میں افشاں لطیف اور ڈی جی افشاں ناز کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ۔ افشاں لطیف بار بار اپنا موقف بدل رہی ہے اور یہ ایک سائیکو کیس ہے ، اب یہ معاملہ عدالت میں چلا گیا ہے تو وہاں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…