جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس،مقدمے کی سماعت سے پہلے ہی ایسا کام ہوگیا جو کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا

datetime 21  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس معاملے پر مقدمے کی سماعت کرنے والا فل کورٹ بینچ تحلیل ہوگیا۔ پیر کو دور ان سماعت بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ جسٹس مظہر عالم میاں خیل کی عدم دستیابی کے باعث بینچ تحلیل کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ نئے بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوارہے ہیں۔ منیر اے ملک نے کہاکہ مقدمے کے سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ بینچ کی تشکیل عدالت کی صوابدید ہے۔وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل سید امجد علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ ہماری جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے متعلق درخواستیں تھیں تمام درخواست گزار موجود تھے۔ایک جج صاحب کی غیر موجودگی کی وجہ سے بینچ تحلیل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ایسا کوئی آرڈر ہوتا ہے تو اس کا مطلب انصاف نہیں ہو گا،بغیر کسی گرائونڈ کے بینچ تحلیل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ اس بینچ کے علاوہ ہمارا کسی دوسرے بینچ پر ہمارا اعتراض ہو گا،ہم چاہتے ہیں یہی بینچ کیس سنے،دو سماعتیں ایک جج سن چکے ہیں۔سینئر وکیل حامد خان نے کہاکہ یہ رویت ہے کہ جب ایک بینچ سماعت کرتا ہے تو پورا کیس وہی سنتا ہے،یہ فل کورٹ بنایا گیا تھا، چیف جسٹس کے پاس اختیار نہیں کہ کوئی دوسرا بینچ بنائیں۔ انہوں نے کہاکہ یہاں کوئی مجبوری نہیں ہے اگر ایک جج نہیں ہے تو انتظار کیا جا سکتا ہے،سپریم کورٹ کا فل کورٹ کا آرڈر موجود ہے یہ تبدیل نہیں ہو سکتا،اگر ایسا ہوا تو یہ غیر آئینی اقدام ہو گا۔سینئر علی احمد کرد نے کہاکہ اس کیس میں کیا ارجنسی ہے سمجھ نہیں آتی۔

جب کسی نے بینچ تحلیل کرنے کی کسی نے استدعا بھی نہیں کی۔رشید رضوی سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہاکہ افتخارمحمد چوہدری کے کیس میں 2 ماہ پانچ دن کیس چلا،پہلے دن سے ہمیں لگ رہا ہے کہ ان ججز کا بس چلے تو دو گھنٹے میں فیصلہ کر دیں،کیا یہ کسی کے ریٹائرمنٹ سے پہلے فیصلہ دینا چاہتے ہیں،جج منٹ موجود ہے جب بینچ تشکیل دے دیا جائے تو بینچ تحلیل نہیں ہو سکتا،ان ججز کا کندیکٹ نظر آ رہا ہے کہ انصاف نہیں ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…