آزادی مارچ کے موقع پر حکومت کیلئے ایک اور نئی مصیبت کھڑی، پاکستان کی تمام تاجر تنظیموں کا29اور30اکتوبرکو ملک گیر شٹرڈائون اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان ،نظر ثانی کیلئے بڑی شرط عائد کردی

  جمعرات‬‮ 17 اکتوبر‬‮ 2019  |  15:51

لاہور(این این آئی )پاکستان کی تمام تاجر تنظیموں نے حکومتی رویے کے خلاف اور اپنے مطالبات کے حق میں29اور30اکتوبرکو ملک گیر شٹرڈائون اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے 60فیصد کاروبار بند ہوگیا ہے ، ایف بی آر کوپیش کئے گئے چارٹرڈ آف ڈیمانڈ کے نکات پر ہی مذاکرات ہوں گے ۔حکومت اپنے فیصلے واپس لے تو تاجر اپنی ہڑتال کی کال پر نظر ثانی کر سکتے ہیں،ہمارا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ،تاجرصرف اپنے مسائل کے حل کیلئے باہر نکل رہے ہیں، اگر جائز مطالبات حل نہ کئے گئے


تو اس سے دو قدم آگے بڑھ کر لائحہ عمل کا اعلان کیاجائے گا ۔آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اشرف بھٹی نے پاکستان ٹریڈرز الائنس کے صدر محمد علی میاں، آل پاکستان انجمن تاجران ( خالد پرویز گروپ ) کے صدرخالد پرویز، ہال روڈ خدمت گروپ کے صدر بابر محمود ،مجاہد مقصود بٹ، محبوب علی سرکی، رزاق ببر، حاجی حنیف، عاصم انعام مگوں، خواجہ اعجاز ،زبیر احمد انصاری، محمد ارشد بھٹی، شیخ آصف اقبال، بائو محمد بشیر،لیاقت سیٹھی اورسلیم رحمانی سمیت دیگر کے ہمراہ لاہورپریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کی ۔ اشرف بھٹی اور دیگر رہنمائوں نے کہا کہ انتہائی نامساعد حالات کے باوجود تاجر ٹیکسز کی ادائیگی کر رہے ہیں لیکن اب ہمیں دیوار کے ساتھ لگایا جارہاہے ۔ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے 60فیصد کاروبار بند ہو گیا ہے اور اب ہمارے لئے اخراجات کرنا بھی محال ہو گیا ہے ۔ملک بھر کے تاجروں نے حکومت اور ایف بی آر کو چارٹرڈ آف ڈیمانڈ پیش کردیا ہے لیکن بد قسمتی ہے کہ معاشی بدحالی اور کاروبار کی بدترین صورتحال کے باوجود حکومت اور ایف بی آر کی جانب سے ڈیڈ لاک کی صورتحال پیدا کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے رویے کے خلاف اور اپنے مطالبات کے حق میں 29اور 30 اکتوبر کو ملک گیر شٹر ڈائون ہڑتال ہو گی ۔انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کے حامی ہیں اور اگر حکومت مذکرات کرنا چاہے تو ماضی میں ایف بی آر کوجو چارٹرڈ آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا ہے اسی پر مذاکرات ہوں گے ۔ انہوںنے کہا کہ اپنے حقوق کے لئے خیبر سے کراچی تک تمام تاجر متحد ہیں اورحکومت سے مذاکرات یا احتجاج سمیت تمام معاملات پر مشترکہ طور پر فیصلہ کرکے آگے بڑھا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے معاشی حالات احتجاج اورہڑتالوں کے متحمل نہیں ہوسکتے لیکن حکومت اور ایف بی آر نے ہمیں اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے کہ ہمارے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہیں بچا۔علاوہ ازیں آل پاکستان انجمن تاجران نعیم میر گروپ لاہور کے جنرل سیکرٹری ملک کلیم نے وقار میاں ،میاں خلیل اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کی اور کہا کہ تاجروں نے 9اکتوبر کو اسلام آباد میں تاریخی تاجر بچائو مارچ کیا ۔تمام تاجر تنظیموں نے مشاورت کے ساتھ 29اور 30اکتوبرکوشٹر ڈائون ہڑتال کی کال دی ہے۔جب تک شناختی کارڈ کی شرط ختم نہیں ہوگی حکومت سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ تاجروںکے کاروبار کو ٹرن اوور کی بنیاد پر فکس ٹیکس اسکیم دی جائے اور سیلز ٹیکس رجسٹریشن سے استثنیٰ دیا جائے اس کے ساتھ تاجروں کو ود ہولڈنگ ایجنٹ نہ بنایا جائے۔اگر حکومت اپنے فیصلے واپس لے تو تاجر اپنی ہڑتال کی کال پر نظر ثانی کر سکتے ہیں۔ہمارا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں اور نہ کسی کوئی اختلاف ہے ہم صرف تاجروں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے باہر نکل رہے ہیں۔

موضوعات:

loading...