بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

یورپی پارلیمنٹ میں 12 سال بعد مسئلہ کشمیر پر بحث ، بھارت کے جھوٹے دعوؤں کو بے نقاب کردیا

datetime 18  ستمبر‬‮  2019 |

اسٹراسبرگ،سری نگر(سی پی پی) یورپی پارلیمنٹ میں کشمیر کی صورتحال پر اجلاس منعقد ہوا جس میں بارہ سال بعد مسئلہ کشمیر پر بحث کی گئی۔یورپی یونین کے جنیوا میں ہونے والے اجلاس میں انسانی حقوق کونسل کی قرارداد کا جائزہ لیا گیا اور کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال انتہائی نازک ہے۔

وزیر یورپی یونین توپرائینن نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی المیہ پیدا ہوچکا ہے، جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون آج سب سے زیادہ اہم ہے، کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق چاہتے ہیں۔وزیر یورپی یونین ویلا کارمینو نے کہا کہ یورپی یونین کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر گفتگو اہم ہے۔ یورپی وزیر مسز ہینا نے کہا کہ 5 اگست کو بھارت نے مقبوضہ وادی کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی، بھارت کے اس اقدام نے وادی کی صورتحال انتہائی خراب کردی، مقبوضہ وادی میں مواصلاتی نظام مسلسل منقطع ہے۔یورپی وزیر مسز ڈاڈن نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس آرہی ہیں، مقبوضہ وادی میں مواصلاتی رابطے اور موبائل سروس منقطع ہے، بھارت سے کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق آزادی دینے کا مطالبہ کرتے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں 70 سال سے تنازع جاری ہے، حق خودارادیت کشمیری عوام کا حق ہے، ہماری ذمہ داری ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال میں بہتری کے لیے کردار ادا کریں۔دوسری جانب مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کا آج 45 واں روز ہے، وادی میں دکانیں، کاروبار، تعلیمی ادارے سنسان پڑے ہیں، گھروں میں قید کشمیری ضروریات زندگی کو ترس گئے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ کشمیریوں کی زندگی بدتر ہونے لگی۔ گھروں میں محصور لوگ کھانے پینے کی اشیا کو ترس گئے۔ دکانیں، کاروبار، تعلیمی ادارے تاحال بند ہیں، چپے چپے پر بھارتی فوج تعینات ہیں۔ کمیونی کیشن بلیک آؤٹ کی وجہ سے اصل صورتحال جاننا مشکل بن گیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق صرف شوپیاں کے علاقے سے 2 ہزار کے قریب نوجوانوں کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔ 5 اگست سے تمام حریت رہنما گھروں اور جیلوں میں بند ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…