معصوم بچوں کواغواء کرکے ان سے ملک کے مختلف شہروں میں کس طرح بیگارلی جارہی ہے؟بچوں کو۔۔ان درندوں سے بچائیں‘ ہم اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو پھر ہمیں ریاست مدینہ کا نام نہیں لینا چاہیے،کیا نوازشریف کی ضمانت ہوجائے گی؟جاوید چودھری کا تجزیہ

  منگل‬‮ 17 ستمبر‬‮ 2019  |  21:48

میں آج سیاسی خبروں کے انبار کے درمیان‘ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے سامنے ایک انسانی المیہ رکھنا چاہتا ہوں‘ میری درخواست ہے حکومت اگر مہربانی فرما کر۔۔اس ایشو کو دس منٹ دے دے تو سینکڑوں ہزاروں بچوں کی زندگیاں بچ جائیں گی‘ یہ اوکاڑہ کے قریب نو ایل چک کے ایک بچے عبدالرحمن کی کہانی ہے‘ یہ تین سوا تین سال کی عمر میں اپنے گاؤں سے اغواء ہوا‘ آنکھ (کھلی) تو یہ کراچی کی مچھر کالونی میں موٹر سائیکل ورکشاپ میں پڑا تھا‘ورکشاپ کے اندر چھوٹے چھوٹے کیبن بنے ہوئے تھے‘ (ان) کیبنز


میں اور بھی بچے تھے‘ ورکشاپ کا مالک۔۔ان بچوں سے بیگار لیتا تھا‘ یہ سارا دن کام کرتے تھے اور رات کو۔۔ان کو۔۔ان کے کیبن میں بند کر دیا جاتا تھا‘ بچوں کو ورکشاپ سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی‘ عبدالرحمن نے ایک بار ایک ساتھی بچے کے ساتھ بھاگنے کی کوشش کی‘ ورکشاپ کے مالک نے دونوں پر خوف ناک تشدد کیا‘ عبدالرحمن شدید زخمی ہو گیا جبکہ دوسرا بچہ ہلاک ہو گیا‘ باقی بچے سہم گئے‘ عبدالرحمن 13 سال کی قید کے بعد بھاگنے میں کامیاب ہو گیا‘ یہ ریلوے سٹیشن آیا‘ ٹرین کے ذریعے ساہیوال پہنچا‘ اوکاڑہ آیا اور ایک امام مسجد کے ذریعے اپنی فیملی تک پہنچ گیا‘ قید‘ تشدد اور بیگار نے۔۔اسے مکمل طور پر اعتماد سے محروم کر دیا ہے‘ عبدالرحمان کے باقی ساتھی آج بھی (اس) ورکشاپ میں موجود ہیں‘ میری حکومت اور پولیس دونوں سے درخواست ہے پلیز پلیز (اس) ورکشاپ پر فوری طور پر چھاپہ ماریں‘ بچے ریکور کریں اور۔۔اس کے بعد ملک کی تمام ورکشاپوں‘ چائے خانوں‘ فیکٹریوں اور بھکاریوں کے ریکٹس کا خفیہ سروے کریں اور۔۔عبدالرحمن جیسے بچوں کو۔۔ان درندوں سے بچائیں‘ ہم اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو پھر ہمیں اپنے منہ سے ریاست مدینہ کا نام نہیں لینا چاہیے‘ کل میاں نواز شریف کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہو گی‘ کل کیا کیا ہو سکتا ہے اور آج وزیراعلیٰ سندھ طلبی کے باوجود نیب کے سامنے پیش نہیں ہوئے‘ کیوں

loading...