جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی فورسز کی مقبوضہ کشمیر میں یوم عاشور جلوس پر پیلٹ گنز اور شیلنگ ،متعدد عزادار زخمی

datetime 11  ستمبر‬‮  2019 |

سرینگر( آن لائن )مقبوضہ کشمیر میں 35 روز سے جاری لاک ڈائون کے دوران بھارتی فورسز نے یوم عاشور کے دوران وادی میں نکالنے جانے والے جلوسوں پر پیلٹ گنز اور شیلنگ کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں متعدد کشمیری عزادار زخمی ہوگئے۔ وادی میں پہلے سے عائد پابندیاں محرم الحرام کے مواقع پر مزید سخت کردی گئی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی حکام نے سری نگر اور بگڈام سمیت دیگر علاقوں میں عاشورہ کے جلوسوں پر مکمل پابندی عائد کی تھی۔مقبوضہ کشمیر کے بعض علاقوں میں کشمیریوں نے کرفیو اور پابندیوں کے باوجود یوم عاشور کے حوالے سے جلوس نکالے جس پر بھارتی فوجیوں نے آنسو گیس، پیلٹ گنز اور لاٹھی چارج کرکے کئی عزاداروں کو زخمی کردیا۔واضح رہے کہ مقبوضہ وادی میں کرفیو کو 35 روز گزر چکے ہیں جس کے باعث کھانے پینے کی چیزوں اور ادویات کی قلت نے کشمیریوں کی زندگی مشکل بنادی۔رپورٹ کے مطابق مواصلاتی نظام کی بندش اور کرفیو کے باعث گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے میں کم از کم 180 اردو اور انگریزی اخبارات شائع نہیں ہوسکے۔علاوہ ازیں بتایا گیا کہ اترپردیش کی علی گڑھ یونیورسٹی کے 4 کشمیری طلبا کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظالم و ستم کے خلاف احتجاج کرنے پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردیا گیا۔دوسری جانب جینوا میں سوئس پریس کلب میں کشمیری اور پاکستانیوں پر مشتمل 60 سے زائد شرکا مقبوضہ کشمیر سے اظہار یکجہتی کے لیے جمع ہوئے اور بھارتی تسلط کی مذمت کی۔اس موقع پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو وادی میں جنم لینے والے انسانی بحران پر توجہ دینی ہوگی۔خیال رہے کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 5 اگست کو صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا تھا، جس کے بعد مقبوضہ علاقہ اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔بھارتی آئین کی دفعہ 35 ‘اے’ کے تحت وادی سے باہر سے تعلق رکھنے والے بھارتی نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمت حاصل کرسکتے ہیں۔

یہ دونوں معاملات بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف تھے۔بی جے پی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے کرفیو نافذ کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے مظلوم کشمیری گھروں میں محصور ہیں۔مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔مقبوضہ کشمیر سے متعلق نریندر مودی کی حکومت کے فیصلے پر پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود اور دوطرفہ تجارت معطل کردیئے تھے، بھارتی سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا جبکہ بھارت جانے والی ٹرین اور بس سروس بھی معطل کردی گئی تھی۔علاوہ ازیں گزشتہ دنوں پاکستان نے آئس لینڈ جانے کے لیے بھارتی صدر کو پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت سے متعلق درخواست بھی مسترد کردی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…