اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد بھارت کا سب سے بڑا یوٹرن، مقبوضہ کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرلیا، پاکستان کو بڑی پیشکش کردی

  ہفتہ‬‮ 17 اگست‬‮ 2019  |  19:54

جنیوا (آن لائن) بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو اندرونی مسئلہ قرار دینے پر بڑا یوٹرن لیتے ہوئیمقبوضہ کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کر لیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں بھارتی مندوبسید اکبرالدین نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہہم 1972کے شملہ معاہدے کو تسلیم کرتے ہیں، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے کو داخلی مسئلے کی بجائے تنازعہ تسلیم کر لیا ہے انہوں نے کہا کہ ہم کشمیر کے معاملیپر بات کرنے کو تیار ہیں۔پریس بریفنگ کے دوران ان سے پاکستانی صحافی نے سوال کیا کہ وہ پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ کب


بڑھائیں گے جس پر وہ پاکستانی صحافیوں کے پاس گئے اور ان سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا کہ شملہ معاہدے کو مانتے ہیں اور اس پر بات کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔خیال رہے کہ اس سے پہلے بھارت 5اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو اپنے آئین سے ختم کر چکا ہے اور جب پاکستان نے اس پر آواز اٹھائی تو بھارت نے کہا تھا کہ یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے جس کے بعد پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں جانے کا فیصلہ ہوا اور گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی درخواست پر سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں کہا گیا کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے واضح کیا ہے کہ قوم مکمل طور پر بھارتی جارحیت سے نمٹنے کے لیے تیار ہے،بین الاقوامی برادری کو آگاہ کر رہے ہیں بھارت کسی بھی وقت پاکستان کیخلاف جارحیت کر سکتا ہے، جب کوئی سٹھیا جاتا ہے تو وہ کہا جاتا ہے جو بھارت کے وزیر دفاع نے کہا،پاکستان اور کشمیر کی قیادت نے بھارت کے یکطرفہ اقدام کو مسترد کر دیا،پاکستانی فوج اپنی مغربی سرحد پر امن کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے۔ہفتہ کووزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں وزیر اعظم کی خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کا اجلاس ہو ا۔اجلاس میں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان، وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم،وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان، چیئر مین قائمہ کمیٹی قومی اسمبلی برائے امور خارجہ مشاہد حسین سید، چیئرمین سینٹ کمیٹی برائے امور خارجہ سید فخر امام، گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین، سید نوید قمر،ممبران خصوصی کمیٹی،اٹارنی جنرل آف پاکستان سول و عسکری قیادت شریک ہوئے۔اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے یکطرفہ غیر قانونی اقدام اور خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے سیکورٹی کونسل کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس اور اس کے ثمرات کے حوالے سے بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔واضح رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال کے پیش نظر وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں منعقد ہونے والے نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے اجلاس میں اس کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی گئی تھی۔اجلاس کے بعدوزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور،معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان،چیئر مین کشمیر کمیٹی سید فخر امام اور ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو چونکا دیا ہے جبکہ خبردار کیا کہ بھارت کسی بھی وقت پاکستان کے خلاف جارحیت کر سکتا ہے جس کے بارے میں بین الاقوامی برادری کو آگاہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قوم مکمل طور پر بھارتی جارحیت سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ کل اتنی بڑی پیش رفت ہوئی جس کا آپ کو اندازہ نہیں،اگر ایک بڑی طاقت رکاوٹ بن جاتی تو اجلاس سیکورٹی کونسل کا نہ ہو پاتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خط کو اہمیت دی گئی اور بھارت کے مطالبے کو مسترد کیا گیا اور سیکورٹی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا۔انہو ں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کی قیادت نے بھارت کے یکطرفہ اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے اندر دو سو کے قریب نامور لوگوں نے پٹیشن سپریم کورٹ میں داخل کی ہے کہ اس فیصلے کو واپس کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام پہلوؤں پر غور کیا آئی ایس جے پر بھی مشاورت کی گئی، اٹارنی جنرل اور وزیر قانون ہمیں اس پر تجاویز دیں گے،ان تجاویز کو وزیراعظم اور کابینہ کے سامنے رکھا جائے گااور انکی منظوری لی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جب کوئی سٹھیا جاتا ہے تو وہ کہا جاتا ہے جو بھارت کے وزیر دفاع نے کہا۔انہوں نے کہا کہ زمینی حقائق کو دنیا تشویش سے دیکھ رہی ہے انسانی حقوق کی تنظیموں اور او آئی سی نے کرفیو اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ انسانی حقوق کا معاملہ دو طرفہ نہیں ہے یہ ضمیر کی آواز ہے،دنیا کو اس کے بارے میں خاموش رہنا مجرمانہ غفلت ہو گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 370 آرٹیکل کو کبھی اہمیت نہیں دی،ہمارے لئے مستقل حل کی ضرورت ہے جس کا بھارت سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پابند ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت جو آبادیاتی تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس پر ہماری رائے ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس آپشنز موجود ہیں،یہ پہلا قدم تھا یہ گفتن نشستن برخاستن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے میڈیا کے کردار کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔وزیر خا رجہ نے کہاکہ بھارت کا میڈیا سٹریٹیجک انٹرسٹ پر ایک رائے رکھتا ہے،پاکستان کے میڈیا سے بھی یہی توقع ہے۔انہوں نے کہا کہ قوم کو میر جعفر اور میر صادق سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ سیکریٹری خارجہ، اقوام متحدہ میں ہماری ٹیم ملیحہ لودھی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت کسی بھی طرح کی مہم جوئی کرنے کی کوشش کی تو قوم کی مدد سے پاک فوج منہ توڑ جواب دے گی۔انہوں نے کہا کہ بھارت پلوامہ جیسی ایک نام نہاد کارروائی بھارت کر سکتا ہے جس کو جواز بناتے ہوئے وہ پاکستان پر مہم جوئی کرے۔انہوں نے کہا کہ پلوامہ جیسے حملے پاکستان اور کشمیر کے ساتھ غداری ہوگی اور پاکستان ایسے حملوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آج کل کسی زمین کے ٹکڑے کا نہیں بلکہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے، اس پر دنیا کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج اس وقت اپنی مغربی سرحد پر امن کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے، تاہم مشرقی سرحد ہمیشہ پاک فوج کے لیے اولین توجہ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پاکستانیوں نے بھارتی بیانیہ کا زبردست مقابلہ کیا۔

موضوعات:

loading...