منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہم معطل

datetime 27  اپریل‬‮  2019 |

لاہور(آن لائن)سیکیورٹی کو لاحق سنگین خطرات اور انسدادِ پولیو مہم کی ٹیمز پر حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر وفاقی حکومت نے ملک بھر میں پولیو مہم ’غیر معینہ مدت‘ تک کے لیے معطل کردی۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت نے بہتر معیار کو یقینی بنانے کے لیے مہم کے بعد لیے جانے والے جائزے (ایل اے کیو ایس) کو بھی معطل کردیا۔

قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) برائے پولیو اسلام آباد کی جانب سے جاری بیان میں ملک بھر میں 2 لاکھ 70 ہزار پولیو رضاکاروں کو حملوں سے محفوظ رکھنے کیلئے تمام صوبوں کے لیے انتباہ جاری کردیا جس میں انہیں انسدادِ پولیو مہم روک دینے کی ہدایت کی گئی۔ای او سی کی جانب سے جاری انتباہی بیان کے مطابق ’پشاور میں پیش آنے والے واقعے کے بعد پولیو مہم میں حصہ لینے والے کارکنان کے لیے غیر یقینی اور خوفزدہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور ہمیں اس پروگرام کو مزید نقصان سے بچانے کی ضرورت ہے‘۔بیان میں مزید کہا گیا کہ قومی تکنیکی ٹیم اور عالمی انسدادِ پولیو مہم (ایس پی ای آئی) کے شراکت داروں نے متفقہ طور پر فوری طور پر اپریل میں جاری قومی مہم کے اختتامی روز کی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔مراسلے میں مزید کہا گیا کہ ’اب مزید کسی بھی علاقے میں کوئی ویکسینیشن یا اس قسم کی سرگرمی نہیں کی جائے گی‘۔اس ضمن میں ایک عہدیدار نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت نئی طریقہ کار کے تحت ایل کیو اے ایس کا استعمال کر رہا ہے تا کہ اعداد و شمار کے ذریعے انسدادِ پولیو مہم کے پھیلاؤ کی حیثیت اور کمزوریوں کی نشاندہی کی جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پولیو ٹیمز پر ہونے والے حملوں کے باعث انسدادِ پولیو مہم کو سخت دھچکا لگا ہے جس کے باعث وفاقی حکومت ایل کیو اے ایس کی تمام سرگرمیاں بھی روکنے پر مجبور ہوگئی۔

عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ پشاور واقعے میں مشتعل ہجوم کی جانب سے مرکز صحت کو نذرِ آتش کرنے اور چمن میں ایک خاتون رضاکار کے قتل کے ساتھ ساتھ سندھ، پنجاب، بلوچستان میں حالیہ دنوں میں عملے پر ہونے والے حملوں کے بعد کارروائی کی گئی ہے۔ مراسلے میں مزید کہا گیا کہ ’اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ قومی ای او سی ملک بھر میں کہیں بھی مہم کے بعد لیے جانے والے جائزہ (ایل کیو اے ایس) منعقد نہیں کرے گی۔عہدیدار کا کہنا تھا کہ ای او سی نے یہ اقدام سیکیورٹی خطرات اور پولیو رضاکاروں پر حملوں کے بعد ملک بھر میں 4 کروڑ بچوں کی ویکسینیشن کے ہدف میں بری طرح ناکامی کے خوف میں اٹھایا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ 22 اپریل کو شروع ہونے والی 4 روزہ مہم کے دوران صرف پنجاب میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ 7 لاکھ بچے پولیو کے قطرے سے محروم رہے یا ان کے اہلِ خانہ نے ویکسینیشن کروانے سے انکار کردیا جس سے بچوں کو عمر بھر کے لیے معذور کردینے والی یہ بیماری لگنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…