اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہم معطل

datetime 27  اپریل‬‮  2019 |

لاہور(آن لائن)سیکیورٹی کو لاحق سنگین خطرات اور انسدادِ پولیو مہم کی ٹیمز پر حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر وفاقی حکومت نے ملک بھر میں پولیو مہم ’غیر معینہ مدت‘ تک کے لیے معطل کردی۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت نے بہتر معیار کو یقینی بنانے کے لیے مہم کے بعد لیے جانے والے جائزے (ایل اے کیو ایس) کو بھی معطل کردیا۔

قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) برائے پولیو اسلام آباد کی جانب سے جاری بیان میں ملک بھر میں 2 لاکھ 70 ہزار پولیو رضاکاروں کو حملوں سے محفوظ رکھنے کیلئے تمام صوبوں کے لیے انتباہ جاری کردیا جس میں انہیں انسدادِ پولیو مہم روک دینے کی ہدایت کی گئی۔ای او سی کی جانب سے جاری انتباہی بیان کے مطابق ’پشاور میں پیش آنے والے واقعے کے بعد پولیو مہم میں حصہ لینے والے کارکنان کے لیے غیر یقینی اور خوفزدہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور ہمیں اس پروگرام کو مزید نقصان سے بچانے کی ضرورت ہے‘۔بیان میں مزید کہا گیا کہ قومی تکنیکی ٹیم اور عالمی انسدادِ پولیو مہم (ایس پی ای آئی) کے شراکت داروں نے متفقہ طور پر فوری طور پر اپریل میں جاری قومی مہم کے اختتامی روز کی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔مراسلے میں مزید کہا گیا کہ ’اب مزید کسی بھی علاقے میں کوئی ویکسینیشن یا اس قسم کی سرگرمی نہیں کی جائے گی‘۔اس ضمن میں ایک عہدیدار نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت نئی طریقہ کار کے تحت ایل کیو اے ایس کا استعمال کر رہا ہے تا کہ اعداد و شمار کے ذریعے انسدادِ پولیو مہم کے پھیلاؤ کی حیثیت اور کمزوریوں کی نشاندہی کی جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پولیو ٹیمز پر ہونے والے حملوں کے باعث انسدادِ پولیو مہم کو سخت دھچکا لگا ہے جس کے باعث وفاقی حکومت ایل کیو اے ایس کی تمام سرگرمیاں بھی روکنے پر مجبور ہوگئی۔

عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ پشاور واقعے میں مشتعل ہجوم کی جانب سے مرکز صحت کو نذرِ آتش کرنے اور چمن میں ایک خاتون رضاکار کے قتل کے ساتھ ساتھ سندھ، پنجاب، بلوچستان میں حالیہ دنوں میں عملے پر ہونے والے حملوں کے بعد کارروائی کی گئی ہے۔ مراسلے میں مزید کہا گیا کہ ’اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ قومی ای او سی ملک بھر میں کہیں بھی مہم کے بعد لیے جانے والے جائزہ (ایل کیو اے ایس) منعقد نہیں کرے گی۔عہدیدار کا کہنا تھا کہ ای او سی نے یہ اقدام سیکیورٹی خطرات اور پولیو رضاکاروں پر حملوں کے بعد ملک بھر میں 4 کروڑ بچوں کی ویکسینیشن کے ہدف میں بری طرح ناکامی کے خوف میں اٹھایا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ 22 اپریل کو شروع ہونے والی 4 روزہ مہم کے دوران صرف پنجاب میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ 7 لاکھ بچے پولیو کے قطرے سے محروم رہے یا ان کے اہلِ خانہ نے ویکسینیشن کروانے سے انکار کردیا جس سے بچوں کو عمر بھر کے لیے معذور کردینے والی یہ بیماری لگنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…