ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ کا تنازعہ،جوزف سٹالن نے کہا کہ میں ہمیشہ اختلاف رائے کو (کھلے) دل سے قبول کرتا ہوں‘ اگر کسی کو میری بات پسند نہیں آئی تو وہ اعتراض کر سکتا ہے‘ ایک شخص کھڑا ہو گیا‘ سٹالن نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا؟اور عثمان بزدار کے ساتھ کیا ہوا؟جاوید چودھری کا تجزیہ‎

datetime 14  مارچ‬‮  2019 |

جوزف سٹالن نے ایک بار تقریر کی اورپھر ہال کی طرف دیکھ کر کہا میں ہمیشہ اختلاف رائے کو (کھلے) دل سے قبول کرتا ہوں‘ آپ میں سے اگر کسی کو میری بات پسند نہیں آئی تو وہ اعتراض کر سکتا ہے‘ ہال میں سے ایک شخص اختلاف کیلئے کھڑا ہو گیا‘ سٹالن نے پسٹل نکالا اور اسے گولی مار دی‘ اس کے بعد اس نے دوبارہ ہال کی طرف دیکھا اور کہا ’’کسی اور کو بھی اعتراض ہے‘‘ پورے ہال نے گردن ناں میں گھما کر جواب دیا ’’ہرگز نہیں‘ ہرگز نہیں‘‘

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے‘ وزیراعظم نے کہا آپ اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں‘ وزیراعلیٰ نے اس پیشکش کو حقیقی مان لیا اور اپنے سمیت تمام وزراء اور ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اڑھائی سے تین گنا اضافہ کر لیا لیکن پھر ان کے ساتھ بھی اختلاف کرنے والے صاحب جیسا سلوک ہوا‘ ان کی آزادی بھی ان کی پہلی آزاد اڑان کے ساتھ ہی قتل ہو گئی‘ پنجاب اسمبلی کا تنخواہیں بڑھانے کا فیصلہ وزیراعظم کی مداخلت سے رک گیا‘ میں دل سے عمران خان کی رائے سے اتفاق کرتا ہوں‘ ملک کے معاشی حالات واقعی اس قابل نہیں ہیں کہ ارکان اسمبلی‘ وزراء اور وزیراعلیٰ کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے‘ یہ بل پیش اور پاس نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن سوال یہ ہے یہ ایشو تین دن سے چل رہا ہے‘ اسمبلی میں بل پیش ہوا‘ میڈیا نے رپورٹ کیا‘ سپیکر نے بل قائمہ کمیٹی میں بھجوایا‘ میڈیا نے رپورٹ کیا قائمہ کمیٹی نے 24 گھنٹے میں بل منظور کرکے اسمبلی بھجوا دیا‘میڈیا نے رپورٹ کیا‘ اسمبلی نے متفقہ طور پر بل پاس کر دیا‘ میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا لیکن وزیراعظم کو اس ایشو کا پتہ ہی نہیں چلا‘ بل حتمی منظوری کیلئے گورنر کے پاس پہنچا تو وزیراعظم جاگ گئے‘ وزیراعظم پچھلے تین دن کہاں تھے‘ یہ بل پہلے کیوں نہیں روکا گیا‘ دوسرا اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبے قانون سازی میں مکمل آزاد ہیں‘ وفاق انہیں ڈائریکشن نہیں دے سکتا اور یہ بل صوبے کی اسمبلی نے پاس کیا ہے‘ وزیراعظم اور وفاق قانونی طور پر اس میں مداخلت نہیں کر سکتا اور تیسرا نقطہ‘ کیا اس واقعے کے بعد پنجاب اسمبلی اور وزیراعلیٰ دونوں کو ہر بل سے پہلے وزیراعظم سے اجازت لینی پڑے گی! کیا یہ آزاد فیصلے کر سکیں گے؟ وفاقی حکومت کے پاس ان سوالوں کے کیا جواب ہیں‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا اور ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے کیا پنجاب اسمبلی کے ارکان واقعی کم تنخواہوں میں گزارہ نہیں کر سکتے‘ آپ ہمارے ساتھ رہیے گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…