پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

شہباز شریف کی بطورچیئرمین پی اے سی تعیناتی اور پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا معاملہ!!ججز نےتاریخی ریمارکس دے دئیے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ سے بڑی خبر آگئی

datetime 31  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی بطور چیئرمین پبلک اکا ئو نٹس کمیٹی تعیناتی کے خلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ قانون سازی کرتی ہے اس لیے سب سے محترم ادارہ ہے، اگرقانونی سازی کیلئے پارلیمنٹ کسی کے پروڈکشن آرڈر جاری کرتی ہے

تو کرسکتی ہے۔ پیر کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل بینچ نے شہبازشریف کی بطور چیئرمین پبلک اکا ئو نٹس کمیٹی تعیناتی کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔سماعت کے آغاز پر جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ چیئرمین پی اے سی کی تعیناتی ہمارے دائرہ اختیار میں کیسے آتی ہے؟ آپ کسی حلقے سے تو ہوں گے، اپنے منتخب نمائندے کے ذریعے پارلیمنٹ میں آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟۔معزز جج کے استفسار پر درخواست گزار نے کہاکہ یہ وقت ہے کہ عدالت اس معاملے پر فیصلہ دے کر عزت کمائے، اس پر جسٹس اطہر نے ریمارکس دیے کہ عزت سب سے زیادہ پارلیمنٹ کی ہونی چاہیے، پارلیمنٹ 22 کروڑ عوام کی نمائندہ ہے۔اس موقع پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ قانون سازی کرتی ہے اس لیے سب سے محترم ادارہ ہے، اگرقانونی سازی کیلئے پارلیمنٹ کسی کے پروڈکشن آرڈر جاری کرتی ہے تو کرسکتی ہے۔درخواست گزار نے اپنے مقف میں کہا کہ ہماری پارلیمنٹ تمام اچھی روایات کو ختم کرتی رہی ہے، اس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پلیز، پارلیمنٹ کے بارے میں ایسی زبان استعمال نہ کریں۔بعد ازاں عدالت نے درخواست گزار کے دلائل سننے کے بعد شہبازشریف کی بطور چیئرمین پی اے سی تعیناتی کیخلاف درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…