ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

نواز شریف ن لیگ کے تاحیات قائد، شہباز شریف صدر مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں فیصلہ

datetime 27  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس، شہباز شریف قائم مقام صدر بنا دئیے گئے، منظوری دیدی گئی۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس آج لاہور میں ہوا جس میں سابق وزیراعظم و ن لیگ کے سابق صدر نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب و ن لیگ کے صوبائی صدر شہبازشریف کے علاوہ مریم نواز نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں ن لیگ کی مرکزی قیادت بھی موجود تھی ۔ مجلس عاملہ کے اجلاس میں نواز شریف نے شہباز شریف کا نام قائم مقام صدر کے طور پر پیش کیا جس پر مجلس عاملہ نے شہباز شریف کو قائم مقام صدر بنانے کی منظوری دیدی ہے۔منظوری ملنے کے بعد شہباز شریف نے باقاعدہ طور پر ن لیگ کے بطور قائم مقام صدر ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ دوسری جانب ن لیگ کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں سابق وزیراعظم و ن لیگ کے سابق صدر نواز شریف کو تاحیات پارٹی کا قائد منتخب کر لیا گیا ہے۔ نواز شریف بطور قائد مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں شریک ہوئے ۔ واضح رہے کہ شہباز شریف کو مرکزی مجلس عاملہ کی منظوری اور فیصلے کے بعد 6مارچ کو پارٹی کا مستقل صدر بنایا جائے گا۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 62,63 پر پورا نہ اترنے والا شخص پارٹی صدارت کا عہدہ نہیں رکھ سکتا، اس کے ساتھ ہی نوازشریف کی جانب سے بطور پارٹی صدر کی جانے والی سینٹ کے امیدواروں کی نامزدگیاں بھی کالعدم قرار دے دی گئی ہیں جس کے ساتھ ہی نوازشریف کے بطور پارٹی صدر کیے گئے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دے دیاگیا ہے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف پارٹی صدارت کیلئے بھی نا اہل ہوگئے ہیں، سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کو

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی جانب سے ماضی میں کیے گئے تمام فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دے دیا ہے۔فیصلے میں نواز شریف کی جانب سے جاری کیے گئے تمام سینٹ ٹکٹ بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا اپنے فیصلے میں کہنا تھا کہ کوئی بھی نااہل شخص پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا۔ چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں کہا

کہ طاقت کا سرچشمہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، عوام اپنی طاقت کا استعمال عوامی نمائندوں کے ذریعے کرتے ہیں۔ آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہ اترنے والا پارٹی صدارت بھی نہیں کر سکتا۔ آرٹیکل 17 سیاسی جماعت بنانے کا حق دیتا ہےجس میں بھی قانونی شرائط موجود ہیں۔ واضح رہے کہ آج سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ 2017ء کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت مکمل کی،

اس موقع پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ کسی پارلیمینٹرین کو چور اچکا نہیں کہا، الحمد اللہ ہمارے لیڈر اچھے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا پارٹی سربراہ کا عہدہ انتہائی اہم ہوتا ہے۔ لوگ اپنے لیڈر کے لیے جان قربان کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں، ہمارے کلچر میں سیاسی جماعت کے سربراہ کی بڑی اہمیت ہے۔اس فیصلے کے بعد سینٹ کے انتخابات معطل کر دیے گئے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…