کراچی میں پولیس موبائل پر بم حملہ، 3ملزم گرفتار،تعلق کس سیاسی جماعت سے نکلا، تحقیقات کے دوران سنسنی خیز انکشاف

  جمعہ‬‮ 22 دسمبر‬‮ 2017  |  11:17

کراچی(آن لائن)نیو کراچی میں موٹر سائیکل سوار ملزمان نے پولیس موبائل پر اندھا دھند فائرنگ کر کے دستی بم سے حملہ بھی کیا تاہم خوش قسمتی سے وہ پھٹ نہیں سکا۔ایس ایچ او نیو کراچی ایاز بروہی نے بتایا کہ انھیں خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ موٹر سائیکل سوار ملزمان دہشتگردی کی واردات کے لیے نکلے ہیں۔اس دوران نیو کراچی سیکٹر الیون جے کے قریب موٹر سائیکل پر سوار 3 مشتبہ افراد کو پولیس نے رکنے کا اشارہ دیا تو انھوں

نے فائرنگ شروع کر دی اور موبائل پر دستی بم بھی پھینکا جو خوش قسمتی سے پھٹ نہیں سکا تاہم فائرنگ کے نتیجے میں پولیس موبائل نمبر SPC۔471کی ونڈ اسکرین ٹوٹ گئی تاہم پولیس نے تعاقب اور جوابی فائرنگ کے بعد تینوں ملزمان فرحان دانش، کاشف جیلانی اور ذیشان خان کو گرفتار کر کے 3 دستی بم، ایک ٹی ٹی پستول اور موٹر سائیکل برآمد کرلی۔ایس ایچ او ایاز بروہی نے بتایا کہ فرحان دانش اور کاشف جیلانی کا تعلق ایم کیو ایم (لندن) سے ہے اور وہ نیو کراچی سیکٹر الیون ڈی کے رہائشی ہیں جبکہ ملزم ذیشان کٹی پہاڑی کا رہائشی ہے۔دوسری جانب خواجہ اجمیر نگری پولیس نے 3 ملزمان کامران ، عبدالشکور اور نعمان کو گرفتار کر کے ٹی ٹی پستول، گولیاں، چرس اور تیموریہ کے علاقے سے چوری کی جانے والی موٹر سائیکل برآمد کرلی۔ادھر کلری پولیس نے طلب حسین اور اسد اللہ سمیت 3 ملزمان ، سمن آباد پولیس نے ایک ملزم ساجد خان عرف ٹربو ، سپر مارکیٹ پولیس نے نعیم ، عزیز بھٹی پولیس نے جعلسازی کے الزام میں عزیز اور اس کے بیٹے تنزیل کو گرفتارکرلیا۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

یہ بھی پاکستان ہے

یہ تین لوگوں کی تین کہانیاں ہیں‘ میں جب ان تینوں لوگوں سے متعارف ہوا‘ میں نے ان کی داستانیں سنی تو میرا پہلا تاثر تھا کیا یہ بھی پاکستانی ہیں؟ اور اگر یہ پاکستانی ہیں تو پھر ہم کون ہیں؟ آپ کو اس سوال کے جواب سے پہلے یہ تین کہانیاں پڑھنی چاہییں۔ پہلی کہانی کے ہیرو خالد جاوید ....مزید پڑھئے‎

یہ تین لوگوں کی تین کہانیاں ہیں‘ میں جب ان تینوں لوگوں سے متعارف ہوا‘ میں نے ان کی داستانیں سنی تو میرا پہلا تاثر تھا کیا یہ بھی پاکستانی ہیں؟ اور اگر یہ پاکستانی ہیں تو پھر ہم کون ہیں؟ آپ کو اس سوال کے جواب سے پہلے یہ تین کہانیاں پڑھنی چاہییں۔ پہلی کہانی کے ہیرو خالد جاوید ....مزید پڑھئے‎