ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے حساس ترین علاقے میں دھماکہ،فائرنگ،بچوں سمیت 7افراد جاں بحق

datetime 21  دسمبر‬‮  2017 |

ڈیرہ بگٹی(آن لائن)بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 7 افراد ہلاک جبکہ3 زخمی ہوگئے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ڈیرہ بگٹی کے علاقے ٹوبہ نوحکانی میں نامعلوم مسلح افراد نے گجر نامی شخص کے گھر میں داخل ہو کر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ان کی 2 بیویوں اور 3 بچوں سمیت 6 افراد ہلاک ہوئے۔مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں 4 افراد زخمی بھی ہوئے۔بعد ازاں جب زخمیوںاور لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا

تو ان کی گاڑی ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس کے بعد مزید ایک شخص ہلاک ہوگیا۔پولیس اور لیویز اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر جائے وقوع کو گھیرے میں لے کر واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا تاہم اب تک واقعے کی وجوہات سامنے نہیں آسکیں۔خیال رہے کہ ڈیرہ بگٹی کے علاقے ٹوبہ نوحکانی کا شمار حساس ترین علاقوں میں کیا جاتا ہے۔یاد رہے کہ رواں ماہ 17 دسمبر کو کوئٹہ کے زرغون روڑ میں واقع بیتھل میموریل میتھوڈسٹ چرچ میں خودکش دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 3 خواتین سمیت 9 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں 25 نومبر 2017 کو دھماکے میں 6 افراد جاں بحق جبکہ 19 زخمی ہوگئے تھے۔کوئٹہ کے علاقے نواں کلی میں 15 نومبر کو مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں قائم مقام ایس پی انوسٹی گیشن محمد الیاس، ان کی اہلیہ اور بیٹے سمیت خاندان کے 4 افراد ہلاک ہوئے تھے۔مذکورہ واقعے سے ایک ہفتہ قبل (9 نومبر کو) کوئٹہ کے حساس علاقے چمن روڈ پر قاتلانہ حملے میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) بلوچستان پولیس حامد شکیل جاں بحق ہوگئے تھے۔خیال رہے کہ گزشتہ کچھ برسوں میں سیکیورٹی اداروں نے امن عامہ کی صورت حال کو بہتر کرنے کےلیے کئی اقدامات کیے ہیں، تاہم شرپسند عناصر تخریبی کارروائیوں کی کوشش میں کامیاب ہو جاتے ہیں،

پاک چین اقتصادی راہداری (سی۔پیک) میں بلوچستان کے اہم کردار کی وجہ سے حکام دیگر ممالک کے خفیہ اداروں پر حالات خراب کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔اس حوالے سے صوبائی حکومت متعدد مرتبہ یہ دعویٰ کرچکی ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘، افغانستان کی خفیہ ایجنسی ’این ڈی ایس‘ کے ساتھ مل کر پاکستان بالخصوص بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…