بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

کوئٹہ میں دھماکہ ، پولیس اہلکاروں سمیت8افراد شہید، 22

datetime 18  اکتوبر‬‮  2017 |

کوئٹہ (آئی ا ین پی) کوئٹہ میں نیو سریاب کے علاقے میں بارود سے بھری گاڑی پولیس ٹرک سے ٹکرا دی جس کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت8افراد شہید اور 22زخمی ہوگئے‘ زخمیوں کو سول ہسپتال اور سی ایم ایچ منتقل کردیا گیا‘ دھماکے کے وقت ٹرک پر 35اہلکار سوار تھے‘ وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اﷲ زہری‘ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے ۔

بدھ کو کوئٹہ میں نیو سریاب کے علاقے میں سبی کوٹ میں دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی ریپڈ رسپانس فورس کے ٹرک سے ٹکرا دی جس کے نتیجے میں چھ پولیس اہلکاروں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوگئے۔ دھماکے کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت بائیس افراد زخمی ہوگئے۔ امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو سول ہسپتال اور سی ایم ایچ منتقل کردیا۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کردی۔ جس وقت پولیس ٹرک کو نشانہ بنایا گیا اس وقت 35اہلکار ٹرک میں موجود تھے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اﷲ زہری نے دھماکے میں جانی نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ ج اری رہے گی۔ بزدلانہ کارروائیوں سے فورسز کا حوصلہ پست نہیں کیا جاسکتا۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی دھماکے پر افسوس کا اظہار کیا اور زخمی افراد کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کوئٹہ میں حملے کی مذمت کرتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں وزیراعظم نے فرائض کی انجام دہی ممیں شہید پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا۔

دریں اثنابلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہیں،ہم پوری قوت سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ لڑیں گے‘دہشت گرد آج افغانستان میں جاکر حملوں کی پلاننگ کر رہے ہیں ،را اور این ڈی ایس پاکستان میں حملہ کرنیوالے دہشت گردوں کی مددکررہی ہیں، دہشت گرد ہمارے خلاف حملوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کررہے ہیں‘بلوچستان میں داعش

یا ایسی جیسی کوئی تنظیم موجود نہیں۔وہ بدھ کو کوئٹہ میں دھماکے کی جگہ کا معائنہ کے  موقع پرمیڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بدھ کی صبح 8 بج کر25منٹ پر جانیوالی پولیس گاڑی کونشانہ بنایا گیا،جس میں 6 پولیس اہل کار شہید 22زخمی ہیں ، لاہور سے فارنزک ٹیم کل آئے گی ،فارنزک نمونے لیے جانے تک کل تک سڑک بند رہے گی۔انہوں نے کہا ہے کہ پولیس اورایف سی کوپیشگی ایکشن کی وجہ سے نشانہ بنایاجارہاہے،

مشکل دشمن سے لڑیں گے اور یہ جنگ جیتیں گے۔وزیر داخلہ بلوچستان نے کہا کہ دہشت گرد آج افغانستان میں جاکر حملوں کی پلاننگ کر رہے ہیں ،را اور این ڈی ایس پاکستان میں حملہ کرنیوالے دہشت گردوں کی مددکررہی ہیں، دہشت گرد ہمارے خلاف حملوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں داعش یا ایسی جیسی کوئی تنظیم موجود نہیں۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہیں،ہم پوری قوت سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ لڑیں گے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…