ہمارا ڈیرہ تو اب پنجاب میں ہوگا۔۔۔! آصف زداری اور چوہدری شجاعت کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ

  اتوار‬‮ 25 دسمبر‬‮ 2016  |  18:41

کراچی(آئی این پی)پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری اپوزیشن کے گرینڈ الائنس کے لئے سرگرم ہو گئے ، مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات دونوں جماعتوں کے سربراہان نے مشترکہ حکمت عملی اپنانے ، گرینڈ الائنس کی جلد تشکیل اور اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں پراتفاق کر لیا ، آصف علی زداری اور چوہدری شجاعت حسین میں دلچسپ جملوں پر تبادلہ ۔

آصف زرداری نے کہا کہ ہمارا ڈیرہ تو اب پنجاب میں ہوگا جس پر چوہدری شجاعت نے جواب دیا کہ بس پھر ہمارے ڈیرے سے بھی ہوکر جائیں، جمہوریت کو ہائی جیک نہیں ہونے دیں گے ، اب انفرادی سیاست نہیں مشترکہ جدوجہد کا وقت ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری وطن واپسی کے بعد حکومت کے خلاف اپوزیشن کا گرینڈ الائنس بنانے کے لئے سرگرم ہو گئے ۔ اس سلسلے میں اتوار کو بلاول ہاؤس کراچی میں سابق صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین میں ملاقات ہوئی ۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی موجود تھے ۔ ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال خصوصاً پنجاب کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا ۔

دونوں جماعتوں کے سربراہان نے مشترکہ حکمت عملی اپنانے، اپوزیشن کے گرینڈ الائنس کی جلد تکمیل اور اپوزیشن جماعتوں سے رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا ۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا ۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ ہمارا ڈیرہ تو اب پنجاب میں ہوگا جس پر چوہدری شجاعت نے جواب دیا کہ بس پھر ہمارے ڈیرے سے بھی ہوکر جائیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو اپوزیشن کے گرینڈ الائنس کی ضرورت ہے ، اپوزیشن متحد نہ ہوئی تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا، جمہوریت کو ہائی جیک نہیں ہونے دیں گے ، اب انفرادی سیاست نہیں مشترکہ جدوجہد کا وقت ہے



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

چھوٹے چھوٹے فیصلے

پشاور میں 30 جنوری کو پولیس لائینز میں خودکش حملہ ہوا‘ یہ حملہ انتہائی خوف ناک تھا‘ 103 لوگ شہید اور 217 زخمی ہو گئے‘ ایسے حملوں کے بعد پوری دنیا میں تفتیش اور تحقیقات شروع ہو جاتی ہیں اور یہ کام ہمیشہ وہ لوگ کرتے ہیں جو علاقے‘ لوگوں اور روایات سے واقف ہوتے ہیں اور جن کے لوکل ....مزید پڑھئے‎

پشاور میں 30 جنوری کو پولیس لائینز میں خودکش حملہ ہوا‘ یہ حملہ انتہائی خوف ناک تھا‘ 103 لوگ شہید اور 217 زخمی ہو گئے‘ ایسے حملوں کے بعد پوری دنیا میں تفتیش اور تحقیقات شروع ہو جاتی ہیں اور یہ کام ہمیشہ وہ لوگ کرتے ہیں جو علاقے‘ لوگوں اور روایات سے واقف ہوتے ہیں اور جن کے لوکل ....مزید پڑھئے‎