چھ کا نسخہ

5  مارچ‬‮  2023

منوہر ایچ بنگالی نژاد باڈی بلڈر تھا‘ اس کا قد صرف چار فٹ گیارہ انچ تھا‘ وہ 1912ء میں پیدا ہوا اور 2016ء میں جم میں ایکسرسائز کے دوران فوت ہوا‘ وہ دنیا کے بزرگ ترین باڈی بلڈرز میں شمار ہوتا تھا‘وہ آخری سانس تک جوانوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ وزن اٹھاتا رہا‘ میڈیکل سائنس بتاتی ہے انسان کی عمر جتنی زیادہ ہوتی ہے‘ اس کے مسلز اور ہڈیوں میں وزن اٹھانے کی صلاحیت اتنی ہی کم ہو جاتی ہے‘

ڈاکٹرز 70 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ہمیشہ وزن اٹھانے سے روک دیتے ہیں‘ بزرگوں کو یہ مشورہ بھی دیا جاتا ہے آپ چلنے میں بھی احتیاط کیا کریں اور کھڑے ہو کر پتلون اور شلوار پہننے کی کوشش نہ کیا کریں‘ آپ گر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں آپ کے کولہے کی ہڈیاں ٹوٹ جائیں گی لیکن منوہر ایچ 104 سال کی عمر تک باڈی بلڈنگ کرتا رہا اور اس کی کوئی ہڈی ٹوٹی اور نہ مسل‘ کیوں؟ آخر اس میں کیا اضافی خوبی تھی؟ اس خوبی کو ڈسپلن اور وِل (قوت ارادی) کہتے ہیں‘ منوہر نے لڑکپن میں ایکسرسائز سٹارٹ کی اور یہ 104 سال کی عمر تک ایکسرسائز کرتا رہا چناں چہ اس کے مسلز اور ہڈیاں بھی تگڑی رہیں اور اس نے طویل اور صحت مند زندگی بھی پائی‘ آپ ملکھا سنگھ کی مثال بھی لے لیجیے‘ یہ بھارت کا سٹار ایتھلیٹ تھا‘ وہ 1929ء میں ملتان کے نواح میں پیدا ہوا اور 2021ء میں چندی گڑھ میں 92 سال کی عمر میں فوت ہوا‘ وہ بھی آخری وقت تک جاگنگ کرتا تھا‘ ملکھا سنگھ کا دعویٰ تھا اس نے پوری زندگی کوئی دوا نہیں کھائی‘ اس کی واحد دوا اور واحد علاج جاگنگ تھا‘ وہ کہتا تھا اگر میرے سر میں درد ہوتا تھا تو بھی میں جاگنگ کرتا تھا اور دو چار کلو میٹر کی دوڑ کے بعد ٹھیک ہو جاتا تھا‘ میڈیکل سائنس کا خیال ہے انسان کو بڑھاپے میں اپنے گھٹنوں اور ٹخنوں پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے جب کہ ملکھا سنگھ 92 سال کی عمر تک دوڑتا رہااور اس نے بھی ضیاء محی الدین کی طرح زندگی بھر کوئی دوا نہیں کھائی‘ جم ارنگٹن (Jim Arrington) امریکی باڈی بلڈر ہے‘

اس کی عمر اس وقت 90 سال ہے‘ یہ بچپن میں بہت کم زور اور سکڑو تھا‘ لوگ اسے (سکنی بونز) کہتے تھے لیکن پھر اس نے 13 سال کی عمر میں باڈی بلڈنگ شروع کی اور یہ آج تک یہ کر رہا ہے‘ یہ ’’ورلڈ اولڈیسٹ پروفیشنل باڈی بلڈرز‘‘ کے ٹائٹل سے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل ہے‘

یہ باڈی بلڈنگ کے 62 مقابلوں میں شریک ہوا اور 16 ایوارڈز حاصل کیے‘ ریمنڈ مون‘ رامن لوپز اور چارلس اوگسٹر (Charles Eugster) اس سے بھی آگے نکل گئے ہیں‘ اوگسٹر کا 96 سال کی عمر میں انتقال ہواتھا‘ اس نے 65سال کی عمر میں جاگنگ شروع کی تھی اور 36 گولڈ میڈل حاصل کیے تھے جب کہ اس نے 87 سال کی عمر میں باڈی بلڈنگ شروع کی اور وہ انتقال تک جم میں مسلز بلڈنگ کرتا رہا‘

اس سے ایک بارپوچھا گیا تھا ’’کیا 93 سال کی عمر میں باڈی بلڈنگ اچھا آئیڈیا ہے؟‘‘ اس کا کہنا تھا یہ شان دار آئیڈیا ہے‘ اس کے اس دعوے کے بعد دنیاکے بے شمار بزرگوں نے جم شروع کر دیا تھا‘ میں آپ کو یہاں یہ بھی بتاتا چلوں اوگسٹر پروفیشنلی ڈینٹیسٹ تھا اور وہ بھی ادویات استعمال نہیں کرتا تھالہٰذا کہنے کا مطلب یہ ہے یہ دنیا ایک حیرت کدہ ہے اور اس حیرت کدے میں انسان روزانہ کمال کر رہا ہے‘

ہم بس اگر پڑھنا‘ ریسرچ کرنا اور آنکھیں کھول کر دائیں بائیں دیکھنا شروع کر دیں تو ہمارے راستے میں حائل جہالت کی بے شمار دیواریں گر جائیں گی مگر شاید ہم امکانات کی اس دنیا کو دیکھنا ہی نہیں چاہتے‘ ہم اپنے کمبل سے باہر جھانکنا ہی نہیں چاہتے۔میں نے 26 فروری کو ضیاء محی الدین مرحوم پر کالم لکھا تھا جس میں ان کے حیران کن ڈسپلن اور ٹائم مینجمنٹ کا ذکر کیا‘

میرے چند احباب نے اس ڈسپلن کو مبالغہ سمجھا جب کہ چند کا خیال ہے ضیاء صاحب نے ایک بور‘ غیر دل چسپ اور جیل نما زندگی گزاری تھی‘ میں یہ اعتراض سن کر مسکرانے پر مجبور ہوگیا‘ کیوں؟کیوں کہ ہم لوگ بنیادی طور پر کنوئیں کے مینڈک ہیں اور ہم یہ سمجھ بیٹھے ہیں

کائنات صرف اس کنوئیں تک محدود ہے‘ اس کے دائرے سے باہرکچھ نہیں‘ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں خوشی کا تعلق سستی‘ بے نظمی اور خوش خوراکی کے ساتھ ہے اور ہم جب تک آٹھ نان اور دو مٹن کڑاہیاں نہ کھا لیں ہم اس وقت تک خوش نصیب نہیں ہو سکتے‘ ہم یہ بھی فیصلہ کر بیٹھے ہیں دنیا میں اب کوئی شخص ڈاکٹر اور دوا کے بغیر سروائیو نہیں کر سکتا جب کہ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے‘

آپ بے نظمی کے ساتھ زندگی تو گزار سکتے ہیں لیکن آپ اگر کسی پرپز (مقصد) کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو اپنے آپ کو ڈسپلن میں باندھنا ہو گا‘ آپ اگر صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو بھی آپ کو خوراک میں اعتدال لانا ہوگا‘ میڈیکل سائنس کہتی ہے دنیا کی 98 فیصد بیماریاں خوراک سے پیدا ہوتی ہیں‘ آپ کھانے اور پینے کو ڈسپلن میں لے آئیں‘ آپ لمبی اور صحت مند زندگی گزاریں گے‘ حکیم سعید صاحب فرمایا کرتے تھے انسان کے لیے ایک ناشتہ اور ایک کھانا کافی ہوتا ہے‘

وہ ہفتے میں تین دن روزہ رکھتے تھے‘ آپ شاید یہ جان کر حیران ہوں گے حکیم سعید نے زندگی میں 80 ہزار خط لکھے تھے اور یہ خط اب باقاعدہ میوزیم میں پڑے ہیں‘وہ ہمدرد فائونڈیشن‘ ہمدرد یونیورسٹی اور مدینۃ الحکمت کے ساتھ ساتھ196 کتابوں کے مصنف تھے اور انگریزی اور اردو کے سات میگزین بھی ایڈٹ کرتے تھے اور یہ مطب بھی کرتے تھے اور حکیم صاحب نے اس کے ساتھ آدھی سے زیادہ دنیا بھی دیکھ لی تھی‘

ہم یہ سمجھتے ہیں ڈسپلن سے انسان کی زندگی بور ہو جاتی ہے جب کہ انسان ڈسپلن کے ساتھ خود بھی زندگی انجوائے کرتا ہے اور دوسرے لوگ بھی اس کے ساتھ زیادہ کمفرٹیبل ہوتے ہیں‘ آپ کو جب یہ معلوم ہو جائے فلاں شخص وقت کا پابند ہے یا وہ کس وقت کھاتا یا پیتا ہے اور کون سی بات اسے ناگوار گزرتی ہے تو آپ بھی اس سے میل ملاقات میں ان باتوں کا خیال رکھیں گے

جس سے آپ کی زندگی بھی اچھی گزرے گی جب کہ اس کے مقابلے میں اگر دوسرے لوگ غیرمنظم اور ان پری ڈکٹیبل(Unpredictable) ہوں گے تو آپ اور وہ دونوں پریشان رہیں گے‘ تیسرا دنیا میں اس وقت کروڑوں لوگ ادویات کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں‘ امریکا‘ یورپ اور بھارت میں انقلاب آ چکا ہے‘ سینکڑوں ایسے کلینکس اور ویل نس سنٹرز ہیں جو خوراک سے ہر قسم کی بیماری کا علاج کر رہے ہیں‘ امریکا میں ڈاکٹر جیسن فانگ (Jason Fong) اور

ڈاکٹر ایرک برگ (Eric Berg) صرف خوراک سے لاکھوں لوگوں کو شوگر‘ بلڈ پریشر‘ جوڑوں کے درد اور موٹاپے سے رہائی دلا چکے ہیں‘دنیا میں لاکھوں لوگ کیٹو ڈائیٹ‘ لوکارب ڈائیٹ اور روزہ (فاسٹنگ) سے روزانہ ادویات سے جان چھڑا رہے ہیں‘ آپ اسے بھی چھوڑ دیجیے‘ آپ گوگل پر بلیو زونز ٹائپ کیجیے‘ آپ کے سامنے دنیا کے چھ ایسے خطے آجائیں گے جہاں 90 فیصد لوگوں کی

عمریں سو سال سے زیادہ ہیں اور یہ لوگ اس عمر میں بھی مکمل متحرک زندگی گزار رہے ہیں‘ انہیں جدید دنیا کا کوئی مرض لاحق نہیں اور یہ کسی قسم کی کوئی دوا بھی نہیں کھا رہے‘ میڈیکل سائنس دہائیوں سے بلیو زونز کے شہریوں پر ریسرچ کر رہی ہے اور دنیا کو بتا رہی ہے آپ اگر اپنے معمولات بلیو زونز کے مطابق بدل لیں تو آپ بھی صحت مند اور اچھی زندگی گزارسکتے ہیں۔

میں نے ویل نیس اور اچھی زندگی کے بارے میں اب تک جو پڑھا اور دیکھا اور جو مختلف کورسز سے سیکھا میں نے اس سے چھ چیزیں اخذ کی ہیں‘ ڈسپلن اس کائنات کا پہلا اصول ہے‘ آپ آج دو سو سال بعد کے طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کا وقت معلوم کرلیں‘ سورج یقینا اس دن بھی سیکنڈز کے حساب سے وقت پر طلوع ہو گا اور عین وقت پر غروب ہو گا‘

چاند‘ ستارے‘ ہوائیں‘ بارشیں‘ پھول‘ پھل اور جان داروں کی پیدائش کا وقت تک معین ہے‘ ہمارے دل کی دھڑکنیں تک طے ہیں چناں چہ آپ اگرخود کو قدرت کے ڈسپلن کے ساتھ جوڑ لیں تو آپ قدرے بہتر زندگی گزار سکتے ہیں‘ دو‘ انسان کو دنیا کے تمام جان داروں کے مقابلے میں کم خوراک درکار ہوتی ہے‘ شاید اسی لیے صرف انسان پر روزے فرض ہیں‘

کتا اور گھوڑا بھی جب بیمار ہوتا ہے تو یہ فاقہ کرتا ہے اور ٹھیک ہو جاتا ہے چناں چہ آپ اگر خوراک کم کر لیں گے اور اس کے اوقات طے کر دیں گے تو بھی آپ کی زندگی اچھی گزرے گی‘ تین‘ انسان کے لیے ایکسرسائز لازم ہے‘ آپ اگر دن میں کم از کم ڈیڑھ گھنٹہ ایکسرسائز‘ واک‘ قیلولہ اور مراقبہ نہیں کرتے تو پھر آپ زندگی نہیں گزار رہے بلکہ زندگی آپ کو گزار رہی ہے‘

چار قدرت نے ہر تکلیف‘ ہر اذیت اور ہر بیماری کا علاج ماحول میں رکھا ہوا ہے‘ آپ اپنی تکلیفوں کا علاج نیچر میں تلاش کریں‘ آپ اگر ہفتے میں تین دن ہلدی والا دودھ پی کر تندرست ہو سکتے ہیں تو آپ کو ملٹی وٹامنز اور اینٹی بائیوٹکس لینے کی کیا ضرورت ہے؟ نیچرل ریمڈیز کی طرف آجائیں‘ پانچ‘ انسان کو کام زندہ رکھتا ہے‘ آپ آخری سانس تک کام کرتے رہیں

لیکن کام آپ کی مرضی کا ہونا چاہیے‘ مزاج کے خلاف کام قید ہوتا ہے اور قید محل میں بھی ہو تو بھی انسان کو مار دیتی ہے اور چھ اللہ کے سوا انسان کا کوئی آسرا‘ کوئی سہارا نہیں‘ آپ اسے ہمیشہ ساتھ رکھیں‘ آپ کی زندگی اچھی گزرے گی۔یہ نسخہ دنیا کے کروڑوں لوگ استعمال کر رہے ہیں‘ آپ بھی کر کے دیکھیں‘ آپ کو نتائج حیران کر دیں گے۔



کالم



فرح گوگی بھی لے لیں


میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں‘ فرض کریں آپ ایک بڑے…

آئوٹ آف دی باکس

کان پور بھارتی ریاست اترپردیش کا بڑا نڈسٹریل…

ریاست کو کیا کرنا چاہیے؟

عثمانی بادشاہ سلطان سلیمان کے دور میں ایک بار…

ناکارہ اور مفلوج قوم

پروفیسر سٹیوارٹ (Ralph Randles Stewart) باٹنی میں دنیا…

Javed Chaudhry Today's Column
Javed Chaudhry Today's Column
زندگی کا کھویا ہوا سرا

Read Javed Chaudhry Today’s Column Zero Point ڈاکٹر ہرمن بورہیو…

عمران خان
عمران خان
ضد کے شکار عمران خان

’’ہمارا عمران خان جیت گیا‘ فوج کو اس کے مقابلے…

بھکاریوں کو کیسے بحال کیا جائے؟

’’آپ جاوید چودھری ہیں‘‘ اس نے بڑے جوش سے پوچھا‘…

تعلیم یافتہ لوگ کام یاب کیوں نہیں ہوتے؟

نوجوان انتہائی پڑھا لکھا تھا‘ ہر کلاس میں اول…

کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

فواد حسن فواد پاکستان کے نامور بیوروکریٹ ہیں‘…

گوہر اعجاز سے سیکھیں

پنجاب حکومت نے وائسرائے کے حکم پر دوسری جنگ عظیم…

میزبان اور مہمان

یہ برسوں پرانی بات ہے‘ میں اسلام آباد میں کسی…