آپ کیوں نہیں کر سکتے؟

  اتوار‬‮ 19 جنوری‬‮ 2020  |  0:01

دہلی کے مضافات میں 416 گاؤں ہیں‘ اسولا نام کا چھوٹا سا گاؤں بھی ان میں شامل ہے‘ یہ گجر برادری کا گاؤں ہے‘گاؤں کے ایک نوجوان وجے تنوار نے پندرہ سال پہلے اپنے گھر میں اکھاڑا بنایا اور یہ نوجوانوں کو پہلوانی کی ٹریننگ دینے لگا‘ دہلی میں نئی نئی دولت آئی تھی‘ بے شمار مالز‘ سینما‘ ڈسکوز اور پب بن رہے تھے‘ شہر میں پرائیویٹ پارٹیوں کا ٹرینڈ بھی شروع ہو چکا تھالہٰذا دہلی میں گارڈز اور باؤنسرز کی ضرورت تھی‘ کسی کمپنی نے وجے تنوار سے ایک دن کے لیے چھ پہلوان کرائے پر لے لیے۔

یہ پہلوان پرائیویٹ پارٹی کے لیے باؤنسرز بنا دیے گئے‘ وجے کو ایک رات میں ساٹھ ہزار روپے مل گئے‘ یہ 60 ہزار روپے وجے تنوار کو بزنس


کا نیا آئیڈیا دے گئے‘ اس نے اکھاڑے کو جم میں تبدیل کیا‘ گاؤں کے لمبے تڑنگے مضبوط کاٹھی کے 50 نوجوان لیے‘ انہیں ٹریننگ دی اور شاپنگ مالز میں باؤنسرز اور سیکورٹی گارڈ بھرتی کرا دیا‘ مزید نوجوان بھرتی کیے‘ ٹریننگ دی اور انہیں بھی بھرتی کرا دیا‘ کاروبار چل پڑا یوں پورے گاؤں میں جم بن گئے اور نوجوان ٹریننگ لے کر باؤنسرز اور سیکورٹی گارڈز بنتے چلے گئے یہاں تک کہ پورے دہلی میں اسولاگاؤں اور وجے تنوار کی مناپلی ہو گئی‘ اسولا گاؤں کے تمام گارڈز اور باؤنسرز وجے تنوار کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ تنوار لکھتے ہیں‘ آپ دہلی کے کسی مال‘ سینما ہال یا ڈسکو میں چلے جائیں‘ آپ کسی پرائیویٹ آفس کا چکر لگا لیں‘ آپ اس کے سامنے کھڑے ہو کر تنوار کا نعرہ لگائیں‘ وہاں موجود تمام گارڈز فوراً مڑ کر آپ کی طرف دیکھیں گے‘ گارڈز کا مڑناثابت کرتا ہے سیکورٹی میں اسولا گاؤں اور وجے تنوار دونوں برینڈ بن چکے ہیں‘وجے کے گاؤں میں اب کوئی ایک بھی ایسا گھر نہیں جس کے نوجوان سیکورٹی گارڈ یا باؤنسر نہ ہوں‘ یہ لوگ عادتوں کے لحاظ سے بھی بڑے شان دار ہیں‘ یہ سگریٹ اور شراب نہیں پیتے‘ لڑائی جھگڑا نہیں کرتے‘ خاندان کی مرضی کے بغیر شادی نہیں کرتے اور یہ اپنی ساری آمدنی بھی گاؤں میں خرچ کرتے ہیں یوں ایک شخص نے پورے گاؤں کا مقدر بدل دیا۔

آپ کیرالہ کے گاؤں ماروتی چل کی مثال بھی لیجیے‘ اس گاؤں میں شراب اور جواء عام تھا‘ خواتین اور بچے تک شراب پیتے اور جواء کھیلتے تھے‘ گاؤں کا ایک شخص اونی کرشنن شہر گیا‘ وہاں سے شطرنج سیکھ کر آیا‘ گاؤں میں چھوٹا سا چائے خانہ کھولا‘ چائے خانے کے سامنے شطرنج رکھی اور لوگوں کو یہ کھیل سکھانا شروع کر دیا‘اونی کرشنن کی وجہ سے پورا گاؤں شطرنج کا کھلاڑی بن گیا‘ لوگوں نے شراب اور جواء بھی چھوڑ دیا‘ یہ دنیا کا واحد گاؤں ہے جس کا ہر شخص شطرنج کا ماہر ہے۔

یہ لوگ سارا دن شطرنج کھیلتے ہیں‘ دنیا بھر سے لوگ ان کو دیکھنے آتے ہیں‘ حکومت نے شطرنج کو بچوں کے سلیبس کا حصہ بھی بنا دیا‘بچوں کو سکول میں شطرنج پڑھائی اور سکھائی جاتی ہے یوں صرف ایک شخص اور ایک کھیل نے پورے گاؤں کا مقدر بدل دیا۔ سیاٹل امریکا کا مشہور شہر ہے‘ یہ شہر بوئنگ کارپوریشن‘ مائیکرو سافٹ اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی وجہ سے مشہور تھا‘ سیاٹل کے ایک پادری نے اپنے چرچ میں ٹائنی ہاؤس ویلج کے نام سے بے گھر لوگوں کے لیے چھوٹا سا گاؤں بنادیا۔

گاؤں میں چھوٹے چھوٹے کمرے اور مکان ہیں‘ بے گھر لوگ تھوڑا سا کرایہ دے کر گھروں میں رہ سکتے ہیں‘ یہ گاؤں بھی اپنے آئیڈیا کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہو گیا۔ تھائی لینڈ میں ایک گاؤں ہے‘ رین بو ویلج‘ یہ ایک تباہ حال گاؤں تھا‘ حکومت نے اسے گرانے کا حکم دے دیالیکن گاؤں کے ایک86 سالہ بوڑھے ہوانگ یونگ فواسی نے دیواروں کو پینٹ کرنا شروع کر دیا‘ یہ مسلسل گیارہ سال پینٹ کرتا رہا یہاں تک کہ گاؤں رین بو میں تبدیل ہو گیا۔

سیاحوں کو پتا چلا تو یہ گاؤں میں آنا شروع ہو گئے یوں دیکھتے ہی دیکھتے یہ پوری دنیا میں مشہور ہو گیا‘ گاؤں میں ہر سال 20 لاکھ لوگ آتے ہیں اوران لوگوں کی وجہ سے گاؤں کا مقدر بدل گیا۔اس طرح روس میں بھی سوکارہ نام کا ایک گاؤں ہے‘اس گاؤں کے لوگ ٹائیٹ روپ واکر یعنی رسے پر چلنے کے ایکسپرٹ ہیں‘ گاؤں کے تمام لوگ حتیٰ کہ بچوں‘ خواتین اور بوڑھوں کو بھی رسے پر چلنے کی ٹریننگ دی جاتی ہے‘ یہ لوگ بعد ازاں سرکس میں کام کرتے ہیں‘ روس میں سرکس میں رسے پر چلنے والے تمام لوگوں کا تعلق سوکارہ گاؤں سے ہوتا ہے‘ گاؤں کے چار سو لوگ مختلف علاقوں اور شہروں میں رسے پر چل کر روز گار کما رہے ہیں۔

ہالینڈ کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہوگ وے  ڈیمنشیا کے مریضوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے‘ ڈیمنشیا کے مریض بیمار ہوتے ہیں لیکن یہ خود کو صحت مند سمجھتے ہیں چناں چہ ایک ڈاکٹر نے ڈیمنشیا کے مریضوں کے لیے پورا گاؤں تعمیر کرادیا‘ یہ گاؤں ایک بڑا نرسنگ ہوم ہے‘اس نرسنگ ہوم کے تمام ڈاکٹرز‘ نرسز اور سپورٹنگ سٹاف مالی‘ ڈرائیور‘ ویٹر‘ شاپ کیپر‘ کک اور ڈومیسٹک ورکرز کے کپڑے پہن کر گاؤں میں پھرتے رہتے ہیں‘ مریض عام نارمل زندگی گزارتے ہیں اور عملہ انہیں چلتے پھرتے دوائیں کھلا دیتا ہے۔

اس گاؤں میں کافی شاپس‘ باربر شاپس‘ شاپنگ سٹورز‘ ریستوران اور گروسری سٹورز بھی موجود ہیں‘ مریض عام نارمل زندگی گزارتے گزارتے علاج کراتے رہتے ہیں۔ انڈین ریاست مہاراشٹر میں ایک گاؤں ہے حیوڑے بازار‘ یہ گاؤں خشک سالی اور قحط کا شکار تھا‘گاؤں کے ہر گھر میں دیسی شراب کی بھٹی تھی‘ شراب نوشی‘ بیماریوں اور دشمنیوں کی وجہ سے گاؤں کی اوسط عمر 45 سال تھی‘ گاؤں پانی کی شدید کمی کا شکار بھی تھا‘ بارش نہیں ہوتی تھی‘ گاؤں میں سکول اور ہسپتال بھی نہیں تھا۔

گاؤں کے سردار کے بیٹے پوپٹ راؤ نے کامرس میں ماسٹر کیا اور وہ گاؤں واپس آگیا‘ پوپٹ نے گاؤں میں تین کام کیے‘ شراب پر پابندی لگا دی‘ دو‘ مٹی اور پتھر کے ڈیم بنانا شروع کر دیے‘ اس نے مٹی کے 52 اور پتھروں کے 32 ڈیم بھی بنائے اور دو بڑے واٹر ٹینک بھی تعمیر کیے اور تین‘ پوپٹ راؤ نے گاؤں میں تین تین خاندانوں کے گروپ بنائے‘ زمینوں کو مختلف یونٹوں میں تقسیم کیا اور ہر یونٹ ایک ایک گروپ کے حوالے کر دیا‘ پورے گاؤں کا مقدر بدل گیا‘ گاؤں میں اس وقت 236 خاندان ہیں۔

یہ تمام لوگ خوش حال بھی ہیں اور صحت مند بھی۔ 60 خاندان لکھ پتی ہیں‘ ان کے پاس اپنے ٹریکٹر‘ اپنی گاڑیاں اور ذاتی پکے مکان ہیں‘ گاؤں کے تمام خاندان ذاتی گھروں‘ ذاتی جانوروں اور سال بھر کے ذاتی اناج کے مالک ہیں‘ گاؤں میں سکول بھی ہیں‘ ہسپتال بھی‘پکی سڑکیں بھی‘ سیوریج سسٹم بھی‘ پارک بھی اور مارکیٹ بھی‘ فی کس آمدنی 450 امریکی ڈالر ہے‘ پوپٹ راؤ کے گاؤں کو انڈیا کے امیر ترین گاؤں کا ٹائٹل مل چکا ہے‘یہ گاؤں اس اعزاز کے بعد پوری دنیا میں مشہور ہوگیا۔

اوراسی طرح بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے گاؤں بدھیلا کے ایک باسی وی پی شرما نے کسی میگزین میں پڑھا بھارت کے سابق صدر ڈاکٹر راجندر پرساددونوں ہاتھوں سے لکھنے کا فن جانتے تھے‘ وی پی شرما گھر گیا اور اس نے بائیں ہاتھ سے لکھنے کی پریکٹس شروع کر دی‘ وہ پریکٹس کرتا رہا یہاں تک کہ وہ دونوں ہاتھوں سے لکھنے کا ایکسپرٹ ہو گیا‘ وہ اپنی کام یابی پر خوش تھا‘ اس نے اس کام یابی کو سیلی بریٹ کرنے کے لیے اپنے گاؤں میں ایسا سکول بنانے کا فیصلہ کیا جس کا ہر بچہ دونوں ہاتھوں سے لکھنے کا ماہر ہو۔

وی پی شرما نے تھوڑی تھوڑی رقم جمع کی اور گاؤں میں دنیا کے انوکھے سکول کی بنیاد رکھ دی‘یہ سکول مدھیہ پردیش کے ضلع سنگرالی کے گاؤں بدھیلا میں قائم ہے‘ سکول میں تین سو طالب علم ہیں‘ یہ تمام طالب علم نہ صرف دونوں ہاتھوں سے لکھ سکتے ہیں بلکہ یہ دو ہاتھوں سے دو مختلف زبانیں بھی تحریر کر سکتے ہیں‘ سکول کے تمام طالب علم چار چار زبانیں بھی جانتے ہیں‘ یہ بچے یہ زبانیں بول بھی سکتے ہیں اور لکھ بھی سکتے ہیں‘ پوری دنیا کے ایکسپرٹ حیران ہیں ایک عام درمیانے پڑھے لکھے شخص نے کس طرح گاؤں میں سکول بنایا‘ تین سو قبائلی بچے اکٹھے کیے اور کس طرح ان بچوں کو دونوں ہاتھوں سے دو مختلف زبانیں لکھنے کا ماہر بنادیا۔

مجھ سے اکثر نوجوان پوچھتے ہیں ہم اکیلے کیا کر سکتے ہیں؟ میں انہیں یہ مثالیں دیتا ہوں اور ان سے کہتا ہوں اگر یہ لوگ اکیلے اپنے اپنے علاقوں کا مقدر بدل سکتے ہیں تو آپ کیا کیا نہیں کر سکتے!آپ بھی اپنے دائیں بائیں دیکھیں‘ آپ کے گاؤں کے لوگ اگر لمبے تڑنگے ہیں تو آپ اپنے گاؤں کو سیکورٹی گارڈز کی فیکٹری بنا دیں‘ اگر خواتین زیادہ ہیں تو آپ انہیں سلائی کڑھائی سکھائیں اور پورے گاؤں کو بوتیک بنا دیں‘ گاؤں میں اگر برتن بنانے والے زیادہ لوگ ہیں تو آپ گاؤں کو سرامک فیکٹری بنا دیں۔

گاؤں میں اگر موچی زیادہ ہیں تو آپ گاؤں کو شو فیکٹری بنا دیں اور اگرآپ کے گاؤں میں کوئی بھی خوبی موجود نہیں تو آپ پورے گاؤں کو کسی ایک کھیل کا ماہر بنا دیں‘ آپ نوجوانوں کو فٹ بال‘ والی بال‘ کشتیوں اور کچھ نہیں تو بندر نچانے کا فن تو سکھا سکتے ہیں‘ آپ پورے گاؤں کو ویٹروں‘ نرسوں‘ مالشیوں‘ ڈرائیوروں‘ سیکورٹی گارڈز‘ ککس‘ کلرکس‘ ایڈمنسٹریٹرز اور اکاؤنٹنٹس کا گاؤں تو بنا سکتے ہیں‘ آپ صرف سوئمنگ لے لیں اور پورے گاؤں کو سوئمر بنا دیں۔

آپ انہیں تاش‘ شطرنج یا لڈو کا ایکسپرٹ بنا سکتے ہیں اور اگر یہ بھی ممکن نہیں تو آپ کم از کم اپنے گاؤں کو کسی ایک رنگ میں ہی رنگ کر اسے یونان کا سینٹو رینی‘ اٹلی کااوسٹونی‘ مراکش کا شیف شاون اور تھائی لینڈ کا رین بو فیملی ویلج تو بنا سکتے ہیں‘ آپ پورے ملک‘ پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ تو کر سکتے ہیں‘ وجے تنوار سے لے کر وی پی شرما تک یہ لوگ بھی آپ جیسے لوگ ہیں‘ اگر یہ کر سکتے ہیں تو پھر آپ کیوں نہیں کر سکتے؟


موضوعات: