آپ نے کیا پایا‘کیا کمایا

  جمعرات‬‮ 3 ستمبر‬‮ 2015  |  0:01

یہ کہانی ڈاکٹر ضیاءالدین احمد سے شروع ہوتی ہے‘ درمیان میں کراچی کے ایک لندن بیسڈ بزنس مین آتے ہیں اور پھر یہ کہانی تفتیشی اداروں‘ عدالتوں اور جیلوں کے پھاٹکوں کی طرف دوڑ پڑتی ہے لیکن جیلوں‘ عدالتوں‘ تفتیشی اداروں اور لندن بیسڈ بزنس مین سے پہلے بہرحال ڈاکٹر ضیاءالدین احمد آتے ہیں۔ ہم اگر علی گڑھ یونیورسٹی کو ہندوستان کے مسلمانوں کی تاریخ سے نکال دیں تو تاریخ میں آنسوﺅں‘ آہوں اور سینہ کوبیوں کے سوا کچھ نہیں بچتا‘ برصغیر کے مسلمان اگر آج آزاد ہیں‘ یہ اگر آج ایک خوش حال اور بے خوف زندگی گزار رہے ہیں تو اس کا نوے فیصد کریڈٹ سرسید احمد خان کو جاتا ہے‘ سرسید احمد خان اگر جھولی پھیلا کر‘ بازار حسن میں طوائفوں کے سامنے ناچ کر اور


زمینداروں‘ جاگیرداروں‘ نوابوں اور مسلمان تاجروں کی ٹھوڑی پکڑ کر چندہ جمع نہ کرتے‘ وہ 1875ءمیں علی گڑھ یونیورسٹی کی بنیاد نہ رکھتے تو پاکستان آج بھی مسلمانوں کے خوابوں تک محدود ہوتا اور ہم شودروں سے بدتر زندگی گزار رہے ہوتے‘ علی گڑھ یونیورسٹی ہندوستانی مسلمانوں کی تقدیر میں تبدیلی کا پہلا سنگ میل تھی‘ یہ پہلی حقیقت تھی‘ دوسری حقیقت یہ تھی‘ یہ یونیورسٹی بنائی سرسید نے تھی لیکن اسے چلانے کا اعزاز ڈاکٹر ضیاءالدین احمد کو حاصل ہوا‘ ڈاکٹر صاحب 1877ءمیں میرٹھ میں پیدا ہوئے‘ بارہ سال کی عمر میں علی گڑھ میں داخل ہوئے‘ بے انتہا ذہین انسان تھے‘ یونیورسٹی نے انہیں بی اے کے بعد ہی لیکچرار بھرتی کر لیا یوں وہ پڑھتے بھی تھے اور پڑھاتے بھی تھے‘ ڈاکٹر صاحب نے بعد ازاں کلکتہ یونیورسٹی اور احمد آباد یونیورسٹی سے ایم اے کئے‘ وہ ہندوستان کی تاریخ کے پہلے دیسی باشندے بھی تھے جنہیں کیمبرج یونیورسٹی نے سر آئزک نیوٹن سکالر شپ دیا‘ وہ کیمبرج یونیورسٹی کے طالب علم بھی رہے اور انہوں نے جرمنی‘ فرانس‘ اٹلی اور جامعہ الازہر میں بھی تعلیم حاصل کی‘ وہ تین مختلف ادوار میں علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے‘ انہیں طویل مدت تک علی گڑھ یونیورسٹی کا وائس چانسلر رہنے کا اعزاز حاصل ہوا‘ وہ یوپی کی صوبائی اسمبلی کے رکن بھی بنے‘ انہوں نے وفاقی سطح پر بھی الیکشن لڑے‘ وہ ریاضی دان تھے‘ انگریزی‘ اردو‘ عربی اور فارسی کے عالم تھے‘ وہ فزکس اور کیمسٹری کے نباض تھے‘ انہوں نے علی گڑھ میں مسلمانوں کا پہلا میڈیکل کالج بھی قائم کیا اور وہ ایم اے او کالج کے پرنسپل بھی رہے‘ ملکہ نے ان کی خدمات کے صلے میں انہیں 1938ءمیں سر کا خطاب دیا‘ یہ خطاب کتنا بڑا تھا‘آپ اس کا اندازہ سرسید احمد خان‘ سر علامہ اقبال اور سر کریم آغا خان سے لگا لیجئے‘ ان تینوں مشاہیر کو بھی اس خطاب سے نوازا گیا تھا‘ سر ڈاکٹر ضیاءالدین احمد دسمبر1947ءکو لندن میں انتقال کر گئے‘ ان کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے تجمل حسین اور بہو ڈاکٹر اعجاز فاطمہ نے ان کے مشن کا جھنڈا اٹھا لیا‘ انہوں نے کراچی میں ڈاکٹر ضیاءالدین گروپ آف ہاسپٹلز کی بنیاد رکھی‘ گروپ میں آج پانچ ہسپتال اور ضیاءالدین یونیورسٹی ہے جس کے تحت نو کالجز کام کر رہے ہیں ‘ پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق وزیر اور مشیر ڈاکٹر عاصم حسین سر ڈاکٹر ضیاءالدین احمد کے پوتے اور ڈاکٹر تجمل حسین اور ڈاکٹر اعجاز فاطمہ کے صاحبزادے ہیں‘ ڈاکٹر عاصم حسین کیڈٹ کالج پٹارو کے ان چند طالب علموں میں بھی شمار ہوتے ہیں جو آصف علی زرداری کے کلاس فیلوز یا دوست تھے‘ یہ فوج میں بھرتی ہوئے لیکن جلد ہی فوج چھوڑ کر ڈاﺅمیڈیکل کالج میں داخلہ لے لیا‘ ڈاکٹر عاصم نے ایم بی بی ایس بھی کیا اور یورپ میں بھی تعلیم حاصل کی‘ آصف علی زرداری جب عملی سیاست میں آئے تو ڈاکٹر عاصم بھی ان کے ساتھ سیاست میں آ گئے‘ یہ زرداری صاحب کے ذاتی معالج بھی رہے‘ پٹرولیم جیسی سونے کی کان کے مشیر بھی‘ نیشنل ری کنسٹرکشن بیورو کے چیئرمین بھی اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے کرتا دھرتا بھی۔ ہم یہ کہانی اب چند لمحوں کےلئے روکتے ہیں اور کراچی کے لندن بیسڈ بزنس مین کی طرف آتے ہیں۔ آج سے دس سال پہلے کراچی کی شاہراہ فیصل پر سرفراز مرچنٹ نام کا فرنیچر کا ایک تاجر ہوتا تھا‘ یہ ایک عام درمیانے درجے کا بزنس مین تھا‘ یہ گم نام بھی تھا لیکن پھر اس نے اداکارہ نیلی کے ساتھ شادی کر لی اور یوں اس کا نام اخبارات میں آنے لگا‘ نیلی کی وجہ سے اس کا کراچی کے ایک ڈان سے جھگڑا ہوا اور یہ ملک سے فرار ہو گیا‘ یہ دوبئی میں سیٹل ہو گیا‘ 2008ءمیں حارث سٹیل مل اور بینک آف پنجاب کا ایشو سامنے آیا تو اس میں سرفراز مرچنٹ کا نام بھی آ گیا‘ اس پر الزام تھا‘ اس نے ججوں کے نام پر حارث سٹیل مل کے مالک شیخ افضل سے دوکروڑ اسی لاکھ روپے لئے‘ عدالتیں ایکٹو ہوئیں‘ نیب اور ایف آئی اے آگے بڑھی اور سرفراز مرچنٹ کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان لانے کی کوششیں شروع ہوگئیں لیکن کوششیں کامیاب نہ ہوئیں‘ کیوں؟ کیونکہ ڈاکٹر عاصم سرفراز مرچنٹ کے دوست تھے‘ سرفراز مرچنٹ اس وقت تک اتنا امیر ہو چکا تھا کہ وہ پارک لین لندن کے انتہائی مہنگے ہوٹل میریٹ میں مسلسل گیارہ سال مقیم رہا‘ وہ ہوٹل کے سوئٹ میں رہتا تھا‘ ڈاکٹر عاصم جب بھی لندن جاتے تھے‘ یہ اسی ہوٹل میں سرفراز مرچنٹ سے ملتے تھے‘ سرفراز مرچنٹ کا دوسرا دوست انیس ایڈووکیٹ تھا‘ انیس ایڈووکیٹ ایم کیو ایم کے رابطہ کمیٹی کے ممبر رہے ہیں‘ یہ الطاف حسین کے قریبی ترین دوستوں میں بھی شمار ہوتے ہیں‘ لندن میں الطاف حسین کے خلاف جتنے مقدمات چل رہے ہیں‘ ان میں انیس ایڈووکیٹ بھی دوسرے ملزمان محمد انور ‘ افتخار قریشی‘ سرفراز احمداور طارق میر کے ساتھ زیر تفتیش ہیں‘ لندن میں 16 ستمبر 2010ءکو جب ڈاکٹر عمران فاروق قتل ہوئے تو اس دن بھی ڈاکٹر عاصم‘ انیس ایڈووکیٹ اور سرفراز مرچنٹ نے میریٹ ہوٹل پارک لین میں اکٹھے لنچ کیا‘ لندن پولیس نے جون 2013ءمیں الطاف حسین کے گھر اور دفتر میں چھاپہ مارا اور دونوں جگہوں سے پاﺅنڈ برآمد ہو گئے‘ الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کا کیس بن گیا‘ کیس بننے کے چند دن بعد سرفراز مرچنٹ نے یہ بیان دے دیا ”ایم کیو ایم کے سیکرٹریٹ سے برآمد ہونے والی رقم کا ایک بڑا حصہ میرا تھا اور یہ میں نے ڈونیشن دیا تھا“ اس بیان کے ساتھ ہی سرفراز مرچنٹ بھی انکوائری کا حصہ بن گیا‘ مرچنٹ نے بعد ازاں ایم کیو ایم کے اکاﺅنٹ میں ساڑھے چار لاکھ پاﺅنڈ بھی جمع کرائے‘ سکاٹ لینڈ یارڈ نے جب مرچنٹ سے اس رقم کے بارے میں پوچھا تو یہ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا اور یوں اس کے گرد گھیرا تنگ ہو گیا‘ سکاٹ لینڈ یارڈ مرچنٹ کے انیس ایڈووکیٹ اور ڈاکٹر عاصم کے ساتھ تعلقات سے بھی آگاہ ہے اور یہ بھی جانتی ہے سرفراز مرچنٹ پابندی کے باوجود جعلی پاسپورٹ پر پاکستان آتا رہا اور اسے آتے اور جاتے وقت خصوصی پروٹوکول بھی دیا جاتا تھا‘ یہ کراچی میں ڈاکٹر عاصم کا مہمان ہوتا تھا‘ یہ روزانہ ان کے ہسپتال جاتا تھا اور ہسپتال کی آخری منزل پر ڈاکٹر عاصم کا دفتر اس کا ٹھکانہ ہوتا تھا‘ یہ دونوں کاروباری ملاقاتیں بھی اسی جگہ کرتے تھے‘ اب سوال یہ ہے‘ کیا ڈاکٹر عاصم‘ سرفراز مرچنٹ اور انیس ایڈووکیٹ تینوں ایک ہی لڑی کے موتی ہیں اور یہ لڑی بھتہ خوری‘ ٹارگٹ کلنگ اور اغواءبرائے تاوان کی وارداتیں ہیں‘ یہ فیصلہ سرے دست ممکن نہیں‘ کیوں؟ کیونکہ لندن اور کراچی دونوں جگہوں پر بیک وقت تفتیش چل رہی ہے‘ اس تفتیش کا نتیجہ کہانی کو پوری طرح کھول دے گا تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے اپنے حلقوں میں یہ سرگوشیاں ہیں‘ پاکستان پیپلز پارٹی کو افہام و تفہیم کی سیاست کی ایک قیمت ادا کرنا پڑتی تھی‘ یہ قیمت بعض اوقات روزانہ‘ بعض اوقات ہفتہ وار اور بعض اوقات ماہانہ ہوتی تھی اور اس قیمت کا چینل ڈاکٹر عاصم‘ سرفراز مرچنٹ اور انیس ایڈووکیٹ تھے‘ یہ سرگوشی بھی عام ہے‘ لیاری گینگ کے ملزمان نے اعتراف کیا‘ ہمیں ڈاکٹر عاصم کے ہسپتال کی ایمبولینس میں اسلحہ سپلائی کیا جاتا تھا‘ ڈاکٹر عاصم کے ہسپتال میں گینگ وار کے زخمیوں کاعلاج بھی ہوتا تھا اور حکیم سعید کے قاتلوں کو بھی اسی ہسپتال میں پناہ دی گئی تھی‘ یہ سرگوشی بھی عام ہے‘ ڈاکٹر عاصم کا نام سرفراز مرچنٹ نے سکاٹ لینڈ یارڈ کے سامنے لیا اور ان کی گرفتاری کی لیڈ کراچی سے نہیں بلکہ لندن سے آئی تھی اور یہ سرگوشی بھی عام ہے‘ ڈاکٹر صاحب ایک گھنٹہ دباﺅ برداشت نہیں کر سکے اور انہوں نے سب کچھ اگل دیا‘ ان سرگوشیوں میں کتنا سچ اور کتنی ملاوٹ ہے‘ اس کا فیصلہ وقت کرے گا تاہم ڈاکٹر عاصم کی اس کہانی کے دو پہلو بہت ”شاکنگ“ ہیں‘ پہلا پہلو پاکستان پیپلز پارٹی کا رد عمل ہے‘ آصف علی زرداری نے ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری پر طبل جنگ بجا دیا لیکن پارٹی کے دیگر قائدین اور سابق وزراءخوش ہیں‘ یہ وہ لوگ ہیں جن کی سیاست کو ڈاکٹر عاصم جیسے پیرا شوٹرز نے تباہ کر دیا تھا‘ کون نہیں جانتا ڈاکٹر عاصم نے ایک دن میں 19 میڈیکل کالج منظور کرا دیئے‘ کون نہیں جانتا 1500 لوگوں کو غیر قانونی طور پر بھرتی کیا گیا اور کون نہیں جانتا یہ اقتدار کے دنوں میں اس قدر طاقتور تھے کہ یہ فون اٹھا کر کسی بھی وزیر کی ماں بہن ایک کر دیتے تھے چنانچہ آج ماں بہن کروانے والے تمام لوگ اس گرفتاری پر خوش ہیں اور یہ اس کیس کو منطقی نتیجے تک پہنچتا بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ دوسرا شاکنگ پہلو دولت کی حرص ہے‘ آپ نے اربوں روپے کما لئے لیکن وہ رقم آج کہاں ہے؟ یہ دوسرے ملکوں میں پڑی ہے‘ یہ رقم اب ضبط ہو جائے گی یا پھر آپ کے دوست‘ عزیز یا رشتے دار کھا جائیں گے‘ آپ آج خود جیل میں ہیں‘ خاندان سڑکوں پر رل رہا ہے‘ مستقبل میں بھی عدالتیں ہوں گی اور وکیل اور مقدمے ہوں گے اور جیل کی کوٹھڑیاں ہوں گی چنانچہ پھر اس ساری بے ایمانی کا کیا فائدہ ہوا؟ آپ نے سر ڈاکٹر ضیاءالدین احمد کا نام بھی رول دیا‘ ڈاکٹر تجمل حسین اور ڈاکٹر فاطمہ جیسے والدین کو بھی شرمندہ کر دیا‘ آپ ایک لمحے کےلئے سوچئے‘ آپ حراست میں ہیں‘ دوست بھاگ گئے ہیں‘ دولت باہر پڑی ہے اور سابق کولیگ آپ کی گرفتاری پر خوش ہیں چنانچہ آپ نے کیا پایا‘ آپ نے کیا کمایا؟ کاش! آپ اپنے آپ اور آپ کے ساتھی آپ کو دیکھ پاتے‘ کاش یہ اور آپ یہ جان پاتے دنیا میں اقتدار اور دولت سے بڑا کوئی سراب نہیں اور اختیار سے بڑا کوئی بے وفا نہیں۔