طالبان نے اپنے سخت ناقد معروف پروفیسر کو چارروز بعد رہا کردیا

  بدھ‬‮ 12 جنوری‬‮ 2022  |  17:40

کابل (این این آئی )افغانستان کے معروف یونیورسٹی پروفیسر فیض اللہ جلال کو طالبان حکام نے ٹی وی پروگرام میں تنقید پر گرفتاری کے 4 روز بعد رہا کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق پروفیسر فیض اللہ جلال کو طالبان فورسز نے کابل سے ہفتے کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔پروفیسر فیض اللہ جلال کی بیٹی حسینہ

جلال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتایا کہ میں تصدیق کرتی ہوں کہ پروفیسر جلال کو بے بنیاد الزامات پر چار دن سے زیادہ حراست میں رکھنے کے بعد اب بالآخر رہا کردیا گیا ۔حسینہ جلال واشنگٹن میں جارج ٹان یونیورسٹی کی فیلو ہیں اور انہوں نے اپنے والد کی رہائی کے لیے سوشل میڈیا پر مہم شروع کی تھی۔



زیرو پوائنٹ

سانو۔۔ کی

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎