ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ملائیشین حکومت نے لاک ڈاؤن کے دوران خواتین کو دیے گئے مشوروں پر معذرت کرلی ، ان مشوروں میں ایسی کیا بات تھی جو حکومت کو معذرت کرنا پڑ گئی؟

datetime 3  اپریل‬‮  2020 |

جکارتہ (این این آئی) ملائیشیا کی حکومت نے کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران خواتین کو دی گئی تجاویز پر معافی مانگتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ حکومت کی جانب سے دی گئی تجاویز کا مقصد وبا سے بہتر طریقے سے نمٹنا تھا۔ملائیشیا کی وزارت خواتین نے گزشتہ ماہ 30 مارچ کو لاک ڈاؤن کو مزید بہتر بنانے کے لیے خواتین کو سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے تجاویز دی تھیں۔

ملائیشیا میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے گزشتہ ماہ مارچ کے آخری ہفتے سے لاک ڈاؤن نافذ ہے اور لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اسی دوران ہی ملائیشیا کی وزارت خواتین نے اپنے فیس بک پوسٹس میں خواتین کو تجاویز دی تھیں کہ وہ کس طرح لاک ڈاؤن کو مؤثر بنانے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔حکومت کی جانب سے خواتین کو لاک ڈاؤن کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر ہتھیار قرار دیتے ہوئے انہیں کچھ ٹپس بتائی گئی تھیں اور ساتھ ہی اس بات کی امید کا اظہار کیا تھا کہ خواتین ان تجاویز پر عمل کریں گی۔ملائیشین حکومت نے فیس بک پر خواتین کو تجاویز دی تھیں کہ وہ لاک ڈاؤن کے دوران اپنے شوہر کو تنگ نہ کریں اور ان کے ساتھ چھوٹے چھوٹے مسائل پر نہ الجھیں۔عرب میڈیا کے مطابق حکومت نے ایک فیس بک پوسٹ میں ایک شادی شدہ جوڑے کو کپڑے دھونے کے بعد انہیں ایک ساتھ سکھانے کے وقت رومانوی انداز میں دکھاتے ہوئے خواتین کو تجویز دی تھی بیویاں اپنے شوہروں کو تنگ نہ کریں۔رپورٹ کے مطابق وزارت خواتین نے شادی شدہ عورتوں کو تجویز دی تھی کہ وہ لاک ڈاؤن کے دوران بھی دیدہ زیب لباس پہن کر رکھیں اور ہر وقت بناؤ سنگھار میں رہیں، تاکہ ان کے شوہر خوشی خوشی سے گھر میں ہی رہیں۔وزارت خواتین نے اگرچہ شادی شدہ خواتین کو تجاویز دی تھیں تاہم وزارت کی جانب سے کنوارے افراد کے لیے کوئی تجویز نہیں دی گئی تھی مگر حکومت کو شادی شدہ خواتین کو تجاویز دینا مہنگا پڑ گیا۔

حکومت کی جانب سے تجاویز دیے جانے کے بعد لوگوں نے حکومت پر خوب تنقید کی اور حکومتی تجاویز کو صنفی تفریق پر مبنی قرار دیا، جس کے بعد حکومت نے اپنی پوسٹس ڈیلیٹ کردیں۔عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق حکومت نے شدید تنقید کے بعد عوام سے معافی مانگتے ہوئے اپنی پوسٹس ڈیلیٹ کردیںحکومت کی جانب سے خواتین کو دی گئی تجاویز کے بعد کئی لوگوں نے وزارت خواتین پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ حکومت گھریلو تشدد کو روکنے کی تجاویز کیوں نہیں دے رہی؟بعض افراد نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملائشیا کی بہت ساری شادہ شدہ خواتین شوہروں کے تشدد کا نشانہ بنتی ہیں مگر حکومت نے بیویوں پر تشدد کرنے والے شوہروں کو کوئی تجویز نہیں دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…